افغانستان نے پاکستان کی قدر نہیں کی: وزیراعظم شہباز شریف
افغانستان نے پاکستان کی قدر نہیں کی: وزیراعظم شہباز شریف
منگل 20 جنوری 2026 11:03
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان ہمارا برادر ملک ہے مگر وہاں کی ماضی کی حکومتوں اور موجودہ حکومت نے بھی ہماری کوئی قدر نہیں کی۔
منگل کو قومی ورکشاپ میں خیبر پختونخوا کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پرامن طور پر رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔
’ہم نے 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی، پاکستان نے بیرونی امداد کے علاوہ اپنے وسائل بھی ان پر نچھاور کیے، انہوں نے یہاں کاروبار کیے اور کبھی کسی کو ان پر اعتراض نہیں ہوا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنا فرض نبھایا کوئی احسان نہیں کیا مگر اس کے بدلے میں جو کچھ اس جانب سے کیا گیا وہ قابل افسوس ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’ہماری صرف ایک ڈیمانڈ تھی کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور انڈیا کی سپورٹ کو روکیں مگر وہاں سے کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دی۔‘
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’ہمارے نائب وزیراعظم کے علاوہ دیگر حکام نے افغانستان کے دورے کیے، چین میں بھی ان سے بات کی مگر انہوں نے ایک بھی نہیں مانی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد ٹرانزٹ ٹریڈ بند ہوئی جو نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن ہم کو اس پر مجبور کیا گیا۔‘
انہوں نے کہا یہ بات کہ وفاق اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان سرد جنگ جاری ہے، حقائق سے میل نہیں کھاتی۔
’جب سہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو میں نے فون کر کے مبارک باد دی اور تعاون کی پیشکش کی، انہوں نے شکریہ ادا کیا مگر پھر کبھی رابطہ نہیں کیا۔‘
چترال میں ایک تقریب کے دوران ملاقات کے وقت بھی وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کو ایک بار پھر مل بیٹھنے کی دعوت دی تھی۔
انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک حکومت نے جھوٹ کی بنیاد پر زہر گھولا اور پروپیگنڈے کے ذریعے بیانیہ بنایا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کئی بار مل بیٹھنے کی دعوت دی (فائل فوٹو: پی ٹی آئی سوشل میڈیا)
اس موقع پر وزیراعظم نے بلوچستان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سولر ٹیوب ویلز کی تنصیب کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اس کو سولر ٹیوب ویلز کے لیے 40 ارب روپے دیے گئے۔
ان کے مطابق ’بلوچستان کو اپنے حصے سے اضافی 100 ارب روپے دیے گئے۔ بلوچستان کے زمیندار آج بہت خوش ہیں۔‘
خیبر پختونخوا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دوسرے صوبوں نے اپنے حصے سے 800 ارب روپے دیے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پوری قوم پرعزم ہے اور خیبر پختونخوا میں امن کا قیام ناگزیر ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو مجبوراً بند کرنا پڑا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ان کے بقول ’اگر پنجاب ترقی کرتا ہے اور دوسرے صوبے نہیں کرتے تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں ہے۔‘
انہوں نے خیبر پختونخوا کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اگر وہاں ترقی نہیں آ رہی تو اس کا جواب گریبان میں جھانک کر ڈھونڈنا ہو گا۔
وزیراعظم نے پچھلے سال مئی میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو وہ سبق سکھایا جس کو وہ قیامت تک یاد رکھے گا۔‘
ان کے مطابق ’آج دنیا میں سبز پاسپورٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہم معاشی ترقی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔‘