عالمی یوم انڈہ، پڑھے لکھوں کی واک، ہم کسی سے پیچھے نہیں

شہزاد اعظم۔جدہ
دنیا میں ہر وہ ملک جوخود کو ترقی یافتہ کہلوانا چاہتا ہے ، اس کے لئے ضروری قرار دیا جاتا ہے کہ اس کے شہریوں کو قطار بنانے کا ”مشکل ترین فن“ آتا ہو، عوام کی بھاری اکثریت خواندہ ہو، وہاں سڑکیں شڑکیں کشادہ ہوں،باقاعدہ طور پر فٹ پاتھ وغیرہ موجود ہوں۔ ان پر قدم رنجہ فرمانے والی شخصیات صرف دو قسم کی ہوں، ایک وہ جنہیں دیکھ کر ”گربہ خرامی“ یعنی ”کیٹ واک“ یاد آئے اور دوسرے وہ جن کی چال کو”اسد خرامی“کہنے کو دل چاہے۔اسی طرح ترقی یافتہ ملک کہلوانے کے لئے ضروری ہے کہ وہاں کے شہری ، شہروں کی شاہراہوں اور گلی کوچوں میں رکھے کوڑا دانوں کے سوا کہیں کچرانہ پھینکتے ہوں۔ جہاں بسیں ، صرف بس اسٹاپس پر ہی رکتی ہوں۔ میاں بیوی میں لڑائی بھی اس قدر تہذیب کے دائرے میں ہو تی ہوکہ پسِ دیوار موجود ہمسایہ تمام تر کوشش کے باوجودمردانہ یا زنانہ دشنام کو سننے اور سمجھنے میں بری طرح ناکام رہے ۔ زن و شو کے معاملات انتہائی بگڑ جانے کے بعد بیوی اپنے شوہر کو یا شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے تو ان میں ہونے والی گفتگو کا متن کچھ یوں ہو ، ”لِسن، آئی ڈیوورس یو، پلیز گیٹ آﺅٹ آف مائی ہوم“، یہ سن کر شوہر یا بیوی اپنا ضروری سامان سمیٹے اور ”بائے ھنی“ کہتے ہوئے اپنے دوست یا سہیلی کے گھر روانہ ہوجائے اور پھر اسے شریک سفر بنا کر خوش و خرم زندگی گزارنا شروع کر دے۔اس کے علاوہ ترقی یافتہ ملک کہلانے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کسی کی نقالی نہ کریں، نہ کسی کے کہے میں آئیں بلکہ راہ حیات پراپنے پیروں سے ایسے نقوش ثبت کریںکہ جن پر چل کر لوگ فخر محسوس کریں۔اسی طرح ترقی یافتہ ملک کہلانے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ آپ سال میں کئی ایک عجیب و غریب دن منائیں تاکہ دنیا جب آپ کی نقالی میں وہ دن منائے تو آپ کو قہقہے مارنے اور ٹھٹھے لگانے کا موقع میسر آ سکے۔
ہم نہ صرف یہ کہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں دور دور تک شامل نہیں بلکہ ہم تو ترقی پذیر ملکوں میں بھی شمار نہیں کئے جاتے۔ہم ایک بات پر دل ہی دل میں خوش ہوتے ہیں کہ دنیا کے ممالک ہمیں مکمل طور پر ”پسماندہ “ قرار نہیں دیتے حالانکہ ہم ہر لحاظ سے ”پسماندگی“ کی شرائط پر پورا اترتے ہیں۔ہماری پسماندگی کی سب سے بڑی دلیل تو یہی ہے کہ ہم ترقی یافتہ ممالک میں منائے جانے والے تمام ایام کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھ کر دل و جان سے مناتے ہیں تاکہ ہم خود ترقی یافتہ نہ سہی، ترقی یافتہ ممالک کی ”اچھی کتابوں“ یعنی ”گُڈ بُکس“ میں تو شامل ہوجائیں۔اس کی ایک مثال ”عالمی یوم ا نڈہ“ ہے جو اکتوبر میں منایاجاتا ہے ۔ ابھی جب اکتوبر آیا تھا تو ہم نے یوم انڈہ منایا تھا۔ اس موقع پر واک منعقدہوئی تھی اور ہم نے یہ ثابت کیا تھا کہ ہم کسی سے پیچھے ہر گز نہیں ۔ اس قسم کے یوم چونکہ پڑھے لکھے ممالک کی ”نقالی“ میں منائے جاتے ہیں اس لئے ان ایام پر منعقدہ واک شاک اور دیگر تقریبات میں پڑھی لکھی ہستیاں ہی شامل ہوتی ہیں چونکہ ہمارے ہاں پڑھے لکھوں کا تناسب بہت کم ہے اس لئے ایسی واکوں میں لوگ بھی کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ آپ کویہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے پڑھے لکھے ممالک میں یوم نیند، یوم بیداری، یوم پیری، یوم بیوی، یوم شوہر، یوم خواتین، یوم لڑکیاں، یوم بچگاں، یوم مریضاں، یوم نابینا، یوم بینا، یوم تکیہ بازی، یوم قہقہہ، یوم صفائی ، یوم خرام، یوم اولاد، یوم والدین اور نجانے کون کون سے یوم منائے جاتے ہیں۔ یقین جانئے ہمیں اس دن کا انتظار ہے جب ٹھنڈے ممالک کے لوگ ہماری نقل کرنے کے لئے ہمارے تجویز کردہ یوم منانا اپنے لئے فخر محسوس کریں گے.................”وہ صبح کبھی تو آئے گی۔“
 

شیئر: