ایران میں کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستانی شہریوں، زائرین اور طلبہ کی وطن واپسی کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 350 سے زائد پاکستانی مختلف زمینی راستوں سے وطن واپس پہنچے ہیں۔
منگل کو 51 پاکستانی طلبہ گوادر سے تقریباً 70 کلومیٹر دور گبد-رمدان سرحد کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے۔ انہیں سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں گوادر منتقل کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کے مطابق واپس آنے والوں میں 37 طلبہ اور 24 طالبات شامل ہیں۔ ’انہیں رات کو رہائش اور خوراک فراہم کی گئی اور بدھ کی صبح اپنے گھروں کو روانہ کر دیا گیا۔‘
مزید پڑھیں
-
’فوری طور پر ایران سے نکل جائیں‘، امریکہ کی اپنے شہریوں کو ہدایتNode ID: 899390
-
ایرانی عوام اپنا احتجاج جاری رکھیں، مدد پہنچنے والی ہے: صدر ٹرمپNode ID: 899407
انہوں نے بتایا کہ ایران میں داخلی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وفاقی و صوبائی حکومت کی ہدایت پر ایران میں زیرِتعلیم طلبہ کو واپس لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ وفاقی و صوبائی اداروں ، سکیورٹی فورسز اور تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے ساتھ ملکر طلبہ کی واپسی کے لیے مدد فراہم کررہی ہے۔
گوادر پہنچنے والی زنجان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کی طالبہ سجل طارق نے بتایا کہ ایران میں حالات خراب ہوتے ہی پاکستانی سفارتخانے نے فوری رابطہ کیا، فارم فِل کروائے اور محفوظ واپسی کا منصوبہ بنایا۔ ان کے مطابق ’سرحد پر بھی پاکستانی طلبہ کو ترجیح دی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ نے ہمیں رہائش اور خوراک فراہم کی-‘
ایک اور طالبہ نے بتایا کہ اس وقت بھی ایران کی یونیورسٹیوں میں زیرِتعلیم سینکڑوں پاکستانی وہاں موجود اور وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ ’کئی یونیورسٹیوں نے طلبہ کو وطن واپسی کی اجازت بھی دے دی ہے اس لیے حکومت کو ان کی واپسی کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہییں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ایران میں صورتحال مزید خراب ہونے کے خدشے اور اسرائیل یا امریکہ کے حملوں کے خطرات کی وجہ سے طلبہ میں خوف پایا جاتا ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق منگل کو تفتان کے راستے 28 پاکستانی جبکہ گوادر کے راستے 60 پاکستانی شہری واپس آئے۔ ایران میں پھنسے ہوئے پاکستانی طلبہ اور زائرین کو تفتان کی بجائے گوادر کے زمینی راستے سے واپس لایا جا رہا ہے۔

صرف گوادر کے راستے ایک ہفتے کے دوران 350 سے زائد پاکستانی شہری واپس آ چکے ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق یہ تعداد معمولی سے کچھ زیادہ ہے تاہم آنے والے دنوں میں اس تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
میں تمام پاکستانی شہریوں سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے تمام سفری دستاویزات خاص کر امیگریشن سے متعلقہ دستاویزات جیسا کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ وغیرہ اپنے ہمراہ رکھیں۔ زائد المیعاد دستاویزات یا دستاویزات کی عدم دستیابی کی صورت میں سفارت پاکستان سے رابطہ کریں۔
— Ambassador Mudassir (@AmbMudassir) January 13, 2026
گوادر کی مقامی انتظامیہ کے مطابق وطن واپس آنے والوں میں زیادہ تر طلبا اور زائرین ہیں جن میں اکثریت کا تعلق پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں سے ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ماضی میں غیرمقامی مسافروں پر حملوں کے واقعات اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر وطن واپس آنے والوں کو سکیورٹی میں کراچی بھیجا جا رہا ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے جس پر چاغی کے علاقے تفتان اور گوادر کی تحصیل جیونی میں بارڈر پوسٹ 250 کے قریب گبد رمدان کراسنگ پوائنٹس فعال ہیں۔
گزشتہ سال جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد زائرین کے ایران جانے پر زمینی راستے سے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اب صرف طلبہ اور ٹرک ڈرائیوروں کو آمدورفت کی اجازت ہے جبکہ زائرین اور تاجروں سمیت عام شہریوں کو زمینی راستے سے صرف وطن واپسی کی سہولت دی جاتی ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اس پابندی کے بعد ایران جانے والے پاکستانیوں کی تعداد ہزاروں سے کم ہو کر سینکڑوں میں رہ گئی ہے۔












