Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زیادہ پیداواری لاگت کے باعث چند کمپنیاں ملک چھوڑ گئی ہیں: وزیر خزانہ

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ زیادہ پیداواری لاگت کی وجہ سے کچھ کمپنیاں پاکستان سے نکل گئی ہیں تاہم کچھ نے اپنے کاروباری ماڈل کو تبدیل کیا اور اب وہ ترقی کر رہی ہیں۔
بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنے کے لیے ٹیکس کو منطقی بنانا ضروری ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ اصلاحات پر مرکوز ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق ’یہ درست ہے کہ ایسی کمپنیز بھی ہیں جو چھوڑ کر جا رہی ہیں مگر وہ ادارے جو اپنے کاروباری ماڈلز کے لیے موافقت بنانے میں کامیاب رہے وہ نہ صرف موجود ہیں بلکہ پھل پھول بھی رہے ہیں۔‘
ان کے بقول ’تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، حکومت کا اپنا کردار ہے اور نجی شعبے کا اپنا۔’
محمد اورنگزیب نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ مہینوں کے دوران سرمایہ کاری کا رجحان مضبوط ہوا ہے جو نجی شعبے کی بہتری اور نئی بیرونی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔‘
انہوں نے آٹو موبائل، سیمینٹ اور کھاد سمیت دوسری مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کی بڑے پیمانے پر ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سروسز کی برآمدات خصوصاً آئی ٹی سے متعلق کاروباری سرگرمیاں بھی بڑھی ہیں۔
ترسیلات زر کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025 کے دوران ملک میں 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر آئیں اور اگلے برس 41 ارب تک بڑھنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق ’رواں برس جون تک حکومت کی تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائیں گی۔‘
زیادہ پیداواری لاگت کے معاملے کے ممکنہ حل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیوٹیز کو منطقی بنانا اور کاروباری لاگت کو کم کرنا ہو گا۔‘
انہوں نے ٹیرف اصلاحات کے حوالے سے بتایا کہ پہلی بار خام مال پر ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے جس سے ملک کی برآمدات میں اضافہ ہو گا اور صنعتی پیداوار بڑھے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی اصلاحات پاکستان کے لیے ایسٹ ایشیا موومٹ ثابت ہو سکتی ہیں۔
ان کے بقول معاشی اصلاحات کے ذریعے ہی ترقی ممکن ہے، نجی شعبے کو ملک کی معشیت میں کردار ادا کرنے کے لیے آگے آنا چاہیے۔

 

شیئر: