Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

#افغانی_نامنظور

پشتون تحفظ تحریک کے جلسے میں پاکستانی جھنڈالہرانے کی اجازت نہ دینے پر ٹویٹر صارفین نے منظور پشتین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے پاکستان مخالف قوتوں کا آلہ کار قرار دیا۔
مظفر علی نے ٹویٹ کیا : پشتون تحفظ تحریک کے جلسے میں افغانستان کے جھنڈے کثیر تعداد میں موجود تھے لیکن پاکستان کا جھنڈا لہرانے کی اجازت نہیں دی گئی جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تحریک پاکستان کے خلاف ہے۔
مزید پڑھیں:#عامر_کے_30_سال
ڈاکٹر عالیہ کریم نے کہا : پشتون تحفظ تحریک کا پشتونوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ پیسے لے کر اپنا پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں۔
عمار علی کا کہنا ہے : پشتون تحفظ تحریک کے پیچھے پاکستان مخالف عناصر موجود ہیں جن کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔
عابدہ منیر نے ٹویٹ کیا : پشتونوں نے پشتین کے ایجنڈے کو مسترد کردیا ہے کیونکہ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔
روحیدہ ملک نے ٹویٹ کیا : منظورپشتین جیسے غدار جو پاکستان کی تصویر داغدار کرنے کی کوشش کہتے ہیں جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائیں گے۔
فرحان ورک کا کہنا ہے : فوجی چیک پوسٹوں کی وجہ سے ہیروئن کی اسمگلنگ افغانستان بند ہوگئی ہے اس وجہ سے افغانیوں کو چیک پوسٹوں سے مسئلہ ہے۔
جیسمین مغل نے کہا : منظور پشتین جیسا آدمی کئی شہروں میں جلسے کس طرح کر رہا ہے؟ آخر کون ہے جو اسے اتنے فنڈ مہیا کر ہا ہے اور اسکی تحریک کو روکا کیوں نہیں جا رہا؟
مزید پڑھیں:#نواز کی منزل خوشحال پاکستان
احمد خان نے سوال کیا : اگر پشتون تحفظ تحریک پشتونوں کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے تو وہ آج تک طالبان کے خلاف کیوں نہیں بولی؟
سمندر خان نے ٹویٹ کیا : منظور پشتین پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف بیان دے کر اپنے آقاؤں کو خوش کر رہا ہے۔
 
 

شیئر: