Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نہی عن المنکر کے رضاکاروں نے مسائل پیدا کئے ، آل الشیخ

جدہ۔۔۔۔ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سابق سربراہ اعلیٰ شیخ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے کہا ہے کہ ادارہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے رضاکارانہ طور پر وابستہ افراد شہریوں کے گھروںمیں چوری کررہے تھے ،گھروں کے دروازے توڑ کراندر گھس جاتے تھے ،شہریوںکو خوفزدہ کرتے تھے، بسا اوقات قتل میں تکلف نہیں کرتے تھے۔ عکاظ ، عاجل اور دیگر اخبارات نے آل الشیخ کے حوالے سے بتایا کہ مملکت بھر میں ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سربراہ اعلیٰ کے منصب پر سرفراز ہوتے ہی ادارے سے منسلک رضاکاروں سے تعلق بند کردیا تھا۔وجہ یہ تھی کہ ہڈیاں توڑنے کے واقعات انہی کی وجہ سے ہورہے تھے۔ ایم بی سی چینل کو ’’بالمختصر‘‘پروگرام کے میزبان یاسر العمرو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے (متعاونین)رضاکاروں نے بڑے مسائل پیدا کئے۔ یہ لوگ رات کے آخر میں استراحات پر چھاپے مارتے، دروازے توڑ دیتے، امر بالمعروف کے اہلکاروں کے نام پر شہریوں کے یہاں چوری کی وارداتیں کرتے تھے۔ کئی لوگوں کی اموات کے واقعات ہوجانے پر امربالمعروف کے اہلکاروں کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ کسی کا تعاقب نہ کریںاور گاڑیوں سے آہنی سلاخیں ہٹادیں، آل الشیخ نے انکشاف کیا کہ اخوانیوں اور فتنہ انگیزوں نے مجھ پر نکتہ چینیاں کیں، وجہ یہ تھی کہ میرے اقدامات سے یہ لوگ خوفزدہ ہوکر محسوس کرنے لگے تھے کہ میں ان کے ہاتھ میں کھلونا بننے والا نہیں۔ ان لوگوں نے میرے خلاف عقل باختہ ایسے مبلغین کو مسلط کردیا جن کا دعوت کے شعبے سے تعلق نہیں تھااور وہ بوجوہ اس میدان میں گھس آئے تھے۔ مملکت میں بدامنی پھیلانے اور ریاست کے استحکام کو متاثر کرنے کیلئے مکروہ اہداف کے چکر میں دعوت کے کام میں لگ گئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ میںنے ادارے کے ملازمین پر ڈیوٹی کی پابندی لگا دی، اس سے وہ لوگ متاثر ہوئے جو شام اور عراق میں رہ رہے تھے اور تنخواہیں ادارے سے حاصل کررہے تھے۔

شیئر: