Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کارکردگی

اب پاکستانی کرکٹ ٹیم کو چاہئے کہ وہ مزید محنت کرے اور اپنے سامنے بنگلہ دیش اور افغانستان کی کارکردگی کو رکھتے ہوئے مستقبل کی تیاری کرے کیونکہ ورلڈ کپ میں زیادہ وقت باقی نہیں 
زبیر پٹیل۔ جدہ
بالاخر ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا اختتام ہوگیا۔ ہند نے ساتویں بار یہ ٹورنامنٹ جیت کر تاریخ رقم کردی ہے۔ اگر تمام میچز کا سرسری جائزہ لیا جائے تو اس ٹورنامنٹ میں افغانستان اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیموں نے سب سے زیادہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ افغانستان کی ٹیم گو کہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے مگر اس نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ تمام بڑی ٹیموں کےلئے خطرے کا سگنل ہے۔ ہند وستانی کرکٹ ٹیم کےساتھ بنگلہ دیش کا فائنل قابل ستائش تھا اور اس میں بنگلہ دیش کی کارکردگی کسی چیمپیئن ٹیم کی تھی جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔اس ٹورنامنٹ میں سب سے خراب کارکردگی اورکھیل کا مظاہرہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے کیا۔ پوری ٹیم کہیں بھی متحد نظر نہیں آئی اور ایسا لگ رہا تھا کہ شاید وہ کسی جلدی میں ہے اور کہیں اور وعدے کئے ہوئے ہیں جنہیں ایفا کرنا اس کےلئے اشد ضروری ہے۔تمام کھلاڑی خاص طور پر بابر اعظم، فخر زمان اور شاداب خان نے کوئی اچھی کارکردگی نہیں دکھائی۔ اس کے برعکس شعیب ملک کی کارکردگی سب پر بھاری رہی۔ بولرز میں جنید خان نے بڑی وکٹیں نکالیں مگر بیٹنگ میں وہ کامیاب ثابت نہ ہوسکے۔
اس ٹورنامنٹ کے بعد اب پاکستانی کرکٹ ٹیم کو چاہئے کہ وہ مزید محنت کرے اور اپنے سامنے بنگلہ دیش اور افغانستان کی کارکردگی کو رکھتے ہوئے مستقبل کی تیاری کرے کیونکہ ورلڈ کپ میں کوئی زیادہ وقت باقی نہیں رہا۔ دبئی میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان میچز کی ابتداءہوچکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم اس میں کس قدر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔
یہاں پی سی بی چیئرمین احسان مانی کو مبارکباد دینا ہوگی جنہوں نے سرفراز پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں دوبارہ ٹیم کا کپتان بنایا ۔ یوں ٹیم کا شیرازہ بکھرنے سے بچالیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

۰ رائے دیں، تبصرہ کریں

 

شیئر:

متعلقہ خبریں