بیشتر ڈلیوری ڈرائیور ایک دن کی تربیت کے بعد کام کرنے لگتے ہیں

لندن.... یہ جان کر لوگوں کو بیحد حیرت ہوگی کہ سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کیلئے بنائے گئے ٹیک اوے ڈلیوری ایپس کو اتنا فروغ دیدیا گیا ہے کہ سامان پہنچانے کی گاڑیوں اور بائیکس کی تربیت کا عرصہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ باخبر ذرائع کا کہناہے کہ ان میں ہزاروں ڈرائیور ایسے ہیں جو صرف ایک دن کی تربیت کے بعد سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور انکی کمپنی بھی یہ نہیں دیکھتی کہ یہ ایک دن کے تربیت یافتہ ڈرائیور اپنی گاڑیاں اور بائیک کس طرح او ر کتنے محفوظ طریقے سے چلاتے ہیں اوردوسروں کیلئے کتنے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ اعدادوشما ر کے مطابق گزشتہ سال تقریباً ایک لاکھ 80ہزار نوسیکھئے قسم کے ڈلیوری مین ایک ہی دن کی تربیت کے بعد سڑکوں پر آگئے تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں شاہراہوں پر گاڑی چلانے کے قوانین وضوابط کا بھی علم نہیں تھا۔ ان زیادہ تر ڈرائیوروں کا تعلق اوبر اور ان جیسی دوسری کمپنیوں سے تھا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اپریل 2017ءسے اپریل 2018ءتک 182550 ڈرائیوروں کو بغیر کسی تربیت کے سرٹیفکیٹ جاری کردیئے گئے۔ جن میں سے صرف 40 ہزار ایسے تھے جنہیں تربیت یافتہ کہا جاسکتا ہے۔ سی بی ٹی کے قوانین کے تحت ایسی ڈرائیونگ کرنے والوں کی عمر کم از کم 16سال ہونا ضروری ہے۔ تربیتی کلاسوں کی فیس 90سے 130پونڈ تک ہوتی ہے۔
 

شیئر: