Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا ایران صرف سعودی عرب کا مسئلہ ہے؟

مشاری الزایدی۔۔۔الشرق الاوسط

    ڈنمارک میں محکمہ امن عامہ کے ڈائریکٹر نے 30اکتوبر 2018منگل کو اعلان کیا ہے کہ ڈنمارک میں دہشتگرد حملے کی سازش ایرانی وظیفہ خوار کررہے تھے۔ اس اعلان نے تہران میں حکمراں خمینی نظام کے پُرخطر ہونے کا ایک اور ثبوت پیش کردیا ہے۔ڈنمارک محکمہ امن عامہ کے ڈائریکٹر نے یہ بھی واضح کیا کہ ’’ہم ڈنمارک میں دہشتگرد حملے کے حوالے سے ایرانی سراغرساں ادارے کی منصوبہ بندی کے معاملے کی تحقیقات شفاف اندازمیں کررہے ہیں۔ ہمیں نہ اس حوالے سے مثبت دعویٰ قابل قبول ہوگا اور نہ کوئی منفی غیر مدلل بات قابل قبول ہوگی‘‘۔
    اس سے قبل فرانس کے حکام نے ایرانی کارندوں کیخلاف الزام ثابت ہوجانے پر فرانس میں ایرانی اپوزیشن کے ایک اجلاس پر دہشتگردانہ حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ایرانی سفارت کاروں کو ملک سے بیدخل کیا تھا۔ یہ سفارت کار ایرانی سراغرسانوں کی ماتحتی میں کام کررہے تھے۔ حملہ آور فرانس کے پڑوسی ملک بیلجیئم سے پہنچے تھے۔
    یورپی ممالک میں ایرانی کردار کے حوالے سے یہ قریب ترین سرسری سی مثالیں ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ یورپی سیاستداں ہی خمینی نظام کے تابعدار ایرانی سیاستدانوں کے ساتھ ایٹمی معاہدہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ یہ وہی ’’  بُرامعاہدہ‘‘ہے جسے امریکی صدر ٹرمپ نے ختم کردیا ۔ یہ معاہدہ سابق امریکی صدرباراک اوبامہ کے ہمنوا اُس جنونی گروہ نے کرلیا تھاجن میں امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری اور ان کی قریب ترین شخصیت سوزان رائس نے جو اوباما کی مشیر تھیں، ایٹمی معاہدے کا ڈیزائن تیار کیا تھا۔
    سوزان رائس نے سعودی عرب کیخلاف پروپیگنڈہ مہم میں ایک بار پھر اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے جمال خاشقجی کے قضیے کو بہانا بناکر سعودی عرب اور اس کے ولیعہد کیخلاف دل کا غبار نکالا۔سوزان رائس نے نئے سعودی عرب اور مملکت میں تبدیلیوں کے علمبردار سعودی وژن کے خالق شہزادہ محمد بن سلمان کو خاص طور پر اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ نیویارک ٹائمز نے سابق صدراوباما کی مشیر سوزان رائس کی تنقیدی باتیں نمایاں شکل میں شائع کیں۔ان کی تنقید سے اوبامہ گروہ کی حقیقت کا ایجنڈا کھل کر سامنے آگیا۔ اوبامہ کا گروہ خاشقجی کے المیے سے پہلے ہی سے سعودی عرب کو اپنی تنقید کا ہدف بنائے ہوئے تھا۔ خاشقجی کا المیہ تو انہیں ایک بہانے کے طور پر ہاتھ آگیا۔
    سوزان رائس نئے سعودی عرب اور صدر ٹرمپ سے خار رکھتی ہیں۔انہوں نے کھل کر کہا کہ سعودی عرب امریکہ کے دوست اتحادی قطر کا بائیکاٹ کئے ہوئے ہے۔سوزان رائس نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے علیحدگی پر آمادہ کرنیوالا سعودی عرب ہی ہے۔
    ان ساری باتوں نے درپردہ سازشوں کو طشت از بام کردیاہے۔اس سے ظاہر ہوگیا کہ سابق امریکی صدر اوبامہ کے دور میں عراق ، شام ، یمن اور لبنان وغیرہ میں ایران جو کچھ کررہا تھا، اس پر اسے امریکی انتظامیہ کی شاباش حاصل تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا نہ تو کوئی مسئلہ تھا اور نہ ہے ، جوکچھ بھی ہے وہ سعودی عرب کی وجہ سے ہے۔گویا امریکہ کیخلاف ایران نے خمینی انقلاب کے بعد سے جو کچھ کیا اسے بھلا دیا گیا۔ امریکی تنصیبات میں دھماکے ، امریکی عہدیداروں پر قاتلانہ حملے، امریکہ مخالف ملیشیاؤں کی تشکیل، امریکہ میں منشیات کا زہر پھیلانا اور منی لانڈرنگ کے واقعات گویا ہوئے ہی نہیں۔
    پان امریکن طیارے کا دھماکہ،جو اسکاٹ لینڈ میں لاکربی کے اوپر دسمبر 1988ء کے دوران مسافر شہریوں کی ہلاکت کاباعث بنا تھا،اسے بھلادینا ہی ضروری ہے شاید اسلئے کہ کئی برس بعد یہ بات ثابت ہوئی کہ طیارہ دھماکے کا حقیقی کردار ایران تھا نہ کہ معمر قذافی۔ڈیلی میل جریدے نے امریکی مصنف ڈگلس بوئٹ کی کتاب شائع کرکے اس حقیقت کو اجاگر کیا تھا۔ آخر میں سوزان رائس سے بس یہی سوال کرنا چاہونگا کہ کیا ایران کا مسئلہ صرف سعودی عرب ہی کے ساتھ ہے؟

مزیدپڑھیں:- - -  - - -خادم حرمین شریفین سے سابق وزراء ، قلمکاروں اور دانشوروں نے فکری اور ثقافتی موضوعات پر گفت و شنید کی
 
 

شیئر: