Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیملی فیس اور حساب مواطن سے متعلق تفصیلات کا اعلان ایک ماہ کے اندر

  ریاض..... سعودی حکومت کے اس اعلان کے بعد کہ ہر طرح کی سبسڈی ایک مد میں جمع کردی جائیگی اور پیٹرول، پانی و بجلی کے نرخ بڑھائے جانے پر مقامی شہریوں کو زرتلافی دیا جائیگا اور یہ سب کچھ ”حساب مواطن“میں جمع ہوگا۔ مقامی شہریوں نے اس حوالے سے ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن کے جوابات ابھی انہیں مل نہیں رہے۔ اسی کے ساتھ تارکین وطن پر فیس عائد کرنے کافیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ تارکین بھی اس ضمن میں متعدد سوالات کررہے ہیں۔ 10اہم سوال یہ ہیں کہ آیا حساب الموطن سے معاشرے کے کچھ زمرے خارج ہونگے یا سب کے سب شامل ہونگے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ آیا توانائی کے اخراجات کا بوجھ جاننے کیلئے مقامی شہری کی آمدنی پر انحصارکیا جائیگا۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا ماہانہ آمدنی تنخواہ سے مربوط ہوگی یا بینکوں کے کھاتوں اور مالیاتی سرگرمیوں سے جڑی ہوگی۔ اسی حوالے سے چوتھا سوال یہ ہے کہ پیٹرول کے نرخوں میں سالانہ اضافے کی شرح کیا ہوگی۔ پانچواں سوال یہ ہے کہ مقیمین کی فیسوں سے کن ممالک کے شہری مستثنیٰ ہونگے۔ چھٹا یہ ہے کہ کیا مقیمین پر لگائی جانے والی فیس ”تابعین ‘ ‘ اور ”مرافقین“ دونوں پر ہوگی یا اس سے مقیم کے تابع مستثنیٰ ہونگے۔ساتواں سوال اس حوالے سے یہ ہے کہ اندرون ملک پیٹرول کے نرخوں کو بین الاقوامی نرخوں جیسا بنانے سے قبل مقرر کئے جانے والے نرخ کیا ہونگے۔ کتنا اضافہ ہوگا؟ آٹھواں سوال یہ ہے کہ پیٹرول اخراجات کا بوجھ جاننے کیلئے گھر کے افراد کی تعداد کو کس انداز سے شمار کیا جائیگا۔ اس سلسلے میں معیار کیا ہوگا۔ نواں سوال اس حوالے سے یہ ہے کہ سبسڈی متعین کرنے کیلئے گھر والوں سے باہر رہنے والی اولاد کا پتہ کیسے لگایا جائیگا۔ دسواں سوال یہ ہے کہ ماہانہ آمدنی اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے کیا اسکی وجہ سے ماہانہ الاونس کی رقم بھی اوپر نیچے ہوگی؟ مکہ اخبار کے مطابق ماہر اقتصاد حسام الزامل کا کہناہے کہ یہ اور ان جیسے متعدد سوالات ایسے ہیں جن کے ٹھوس جوابات منظر عام پر ابھی تک نہیں آئے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ چونکہ یکم فروری کو حساب الموطن میں اندراج شروع ہوگا لہذا اس سے پہلے ہی تمام تفصیلات کا اعلان کردیا جائیگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہری کی ماہانہ تنخواہ نہیں بلکہ آمدن کو مدنظر رکھ کر سبسڈی کا فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہائی انکم گروپ والے شہری سبسڈی سے فیض یاب نہیں ہونگے۔

شیئر: