Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہر سعودی پکوان کے پیچھے محنت اور لگن کی الگ کہانی

نوجوانوں کو بات چیت کے آداب اور تقریبات کے انتظامات کی مہارت بھی سیکھ رہے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
کسی بھی پکوان کی کہانی صرف اس کے ذائقے پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے اجزا، اسے تیار کرنے کا طریقہ اور پیش کرنے کا انداز اس مہارت کی عکاسی کرتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق جازان ریجن میں کوکنگ آرٹس اور ہاسپیٹلٹی کے نوجوان سعودی طلبہ اسی ورثے کو پروفیشنلز سکلز میں بدل رہے ہیں جو سعودی پکوانوں کے معیار اور سیاحوں کے تجربے کو مزید بہتر بنا رہے ہیں۔
ہائر انسٹی ٹیوٹ آف ٹورازم اینڈ ہاسپیٹیلٹی میں زیر تربیت سعودی لڑکے اور لڑکیاں پکوانوں کے اجزا کے انتخاب اور تیاری سے لے کر ذائقے کے توازن اور پکوانوں کی سجاوٹ تک فن طباخی کے تمام پہلو سیکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ وہ مہمان نوازی، بات چیت کے آداب اور تقریبات کے انتظامات کی مہارت بھی سیکھ رہے ہیں۔
 زیرِ تربیت طلبہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی پکوان کی تیاری میں اس سے کہیں زیادہ سوچ بچار، تجربات اور ذائقوں کو یکجا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جتنا کہ اسے کھانے والے محسوس کرتے ہیں۔
ان کے مطابق ہر پکوان اپنے پیچھے چھپی محنت اور لگن کی اپنی ایک کہانی سناتا ہے اور طباخی کو ایک ثقافتی رنگ دیتا ہے۔

طباخی کا فن ثقافتی شناخت کے اظہار کا بھی ذریعہ ہے۔ روایتی پکوانوں کے ذریعے کسی معاشرے کے اجزا، رسم و رواج اور ذوق سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ نوجوان جب اس فن میں مہارت حاصل کرتے ہیں تو وہ روایتی کھانوں کی اصل شناخت برقرار رکھتے ہوئے انہیں پیش کرنے اور چکھنے کے تجربے کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔
مملکت کے روایتی پکوانوں کے تحفظ کے لیے یہ ادارہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ادارے نے وزارتِ ثقافت اور کمیشن برائے فنون طباخی کے تعاون سے ایک کتاب ’من فن الطبخ السعودی‘ (سعودی پکوان کے فن سے) کے لیے 386 روایتی ڈشز کی ترکیبیں مرتب کی ہیں۔ اس کتاب کا مقصد سعودی پکوانوں کے تنوع، روایات اور اجزا کو اجاگر کرنے کے ساتھ اس ورثے سے وابستہ معلومات کو محفوظ اور عام کرنا ہے۔

سعودی کافی بھی اس ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہے جو مہمان نوازی، استقبال اور مجلس کے آداب سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ادارے نے وزارتِ ثقافت اور کمیشن برائے فنون طباخی کے تعاون سے ’سعودی کافی ایکسپرٹ‘ کے عنوان سے ایک تربیتی پروگرام بھی منعقد کیا۔
پروگرام میں سعودی کافی کے تیاری کے طریقوں، استعمال ہونے والے برتنوں، روایات اور اس سے جڑے ورثے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔
اس کے تحت مملکت کے مختلف مقامات اور تقریبات میں سعودی قہوہ کے لیے خصوصی کارنرز تیار کیے گئے جن میں جازان کے کافی فیسٹیولز شامل ہیں۔

ادارے میں زیر تربیت طلبہ کا کہنا ہے کہ اس تجربے نے ان کی شحصیت سازی، رابطے کی صلاحیتوں اور خود اعتمادی میں اضافہ کیا ہے۔ بعض طلبہ نے اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایونٹس مینجمٹ کو بطور پروفیشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

 

شیئر: