خمیس مشیط اور احد رفیدہ میں میزائلوں کا ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی، املاک کو نقصان
اتوار 25 اکتوبر 2026 16:54
زخمیوں میں ایک سعودی شہری اور ایشیائی باشندہ شامل ہے۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے علاقے خمیس مشیط اور احد رفیدہ میں بیلسٹک میزائلوں کا ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی ہوگئے، تین عمارتوں اور سات گاڑیوں کونقصان پہنچا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق زخمیوں میں ایک سعودی شہری اور ایشیائی باشندہ شامل ہے۔
ایس پی اے کے مطابق سول ڈیفنس کے سرکاری ترجمان نے بیان میں کہا حوثیوں کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو انٹرسیپٹ کرکے تباہ کیے جانے کے نتیجے میں گرنے والے ملبے سے نمنٹے کے لیے کارروائی کی۔
سول ڈیفنس کے ترجمان نے کہا ایسے واقعات سے نمنٹے کے لیے معیاری طریقہ کار کا نفاذ کیا گیا۔
اس سے قبل یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرنے والی اتحادی افواج کے ترجمان نے بتایا تھا کہ مملکت کے جنوبی علاقے کی جانب حوثیوں کے داغے گئے دس بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں روک کر تباہ کر دیا گیا۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے مزید کہا ریاض کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل جبکہ خمیس مشیط کی جانب داغے جانے والے ایک کروز میزائل کو مار گرایا گیا۔
ترجمان کے مطابق فوجی دفاع اتوار کی صبح تک ہائی الرٹ پر رہا کیونکہ حوثیوں نے ریاض کے علاقے کو نشانہ بناتے ہوئے مسلح ڈرون داغے (ایک رات 1 بجے کے فوراً بعد اور دوسرا صبح تقریباً 5 بجے) اور ان دونوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
صبح 6 بجے کے فوراً بعد سعودی سول ڈیفنس نے ایک الارم بجایا جس میں دارالحکومت کو درپیش ’فضائی خطرے‘ سے خبردار کیا گیا جس کے بعد دو زور دار دھماکے سنے گئے۔
ترکی المالکی نے بعد میں اعلان کیا کہ اتحادی فضائی دفاع نے ریاض شہر کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو مار گرایا ہے۔
ترکی المالکی نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ کیا ’فضائی دفاع نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔‘
رات کے وقت ڈرون حملوں نے سنیچر کے روز شروع ہونے والے وسیع پیمانے کے حملوں کے سلسلے کو آگے بڑھایا جس کے دوران سعودی ایئر ڈیفنس بیٹریز نے طائف اور ینبع کو نشانہ بنانے والے دو بیلسٹک میزائل، ریاض کی طرف آنے والا ایک میزائل اور مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو تباہ کیا تھا۔
تازہ ترین حملوں کے باوجود حکام نے اتوار کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو جزوی طور پر دوبارہ کھولنے کے اقدامات کیے اور 10 اکتوبر کے حوثی حملے (جس میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے)کے دو ہفتے بعد محدود پروازیں بحال کر دیں۔
