نیویارک کے کیتھولک چرچ کا جنسی استحصال کے متاثرین کو 80 کروڑ ڈالر دینے پر اتفاق
اتوار 25 اکتوبر 2026 14:12
نیویارک کے کیتھولک آرچ ڈائیوسیس نے سنیچر کو اعلان کیا ہے کہ وہ پادریوں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا نشانہ بننے والے سینکڑوں متاثرین کو 80 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم ادا کرنے کے ایک سمجھوتے پر راضی ہو گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق یہ معاہدہ جس پر نومبر کے اوائل میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے، مدعیوں کے وکلا کے ساتھ برسوں سے جاری مذاکرات کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے۔
امریکی کیتھولک چرچ 2000 کی دہائی کے اوائل سے جنسی استحصال کے سکینڈلز کی زد میں ہے۔
نیویارک کے آرچ بشپ رونالڈ ہکس نے اپنے پادریوں کو بھیجی گئی ایک ای میل میں لکھا جو آرچ ڈائیوسیس نے اے ایف پی کو بھی ارسال کی ’ہم اس مقام کے قریب پہنچ چکے ہیں جہاں خدا نے چاہا تو ہم تمام متاثرین اور بچ جانے والوں کے لیے کسی حد تک مداوا اور مفاہمت کا سامان کر سکیں گے۔‘
اس خبر کو سب سے پہلے سامنے لانے والے اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق قریباً 1300 متاثرین میں سے ہر ایک کو کم از کم 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر ملیں گے جبکہ استحصال کی سنگینی کے لحاظ سے یہ رقم زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
نیویارک آرچ ڈائیوسیس مین ہیٹن، سٹیٹن آئی لینڈ، برونکس اور شہر کے شمال میں واقع متعدد کاؤنٹیوں پر مشتمل ہے۔
آرچ بشپ ہکس کی ای میل کے مطابق اب وہ ایک بار پھر اپنی پوری توجہ ’انجیل کی تبلیغ، بیماروں کی شفا، غریبوں اور ضرورت مندوں کی دیکھ بھال، اجنبیوں کا خیرمقدم اور ہمارے بچوں کی تعلیم‘ کے اپنے مشن پر مرکوز کر سکے گا۔
آرچ بشپ ہکس کو گزشتہ برس پوپ لیو چہاردہم نے آرچ بشپ مقرر کیا تھا جنہوں نے بااثر قدامت پسند کارڈینل ٹموتھی ڈولن کی جگہ لی۔ ڈولن نے اپنی روانگی سے قبل جنسی استحصال کے متاثرین کو معاوضہ دینے کے لیے 30 کروڑ ڈالر کا فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سنہ 2000 کی دہائی میں اخباری تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا کہ امریکہ میں کیتھولک پادریوں نے کئی دہائیوں کے دوران ہزاروں بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا اور چرچ کے رہنماؤں نے اکثر ان معاملات پر پردہ ڈالا یا قصوروار پادریوں کو سول حکام کے حوالے کرنے کے بجائے ان کا تبادلہ کر دیا۔
ملک بھر کی ڈائیوسیسز کو ہرجانے کی مد میں کروڑوں ڈالر ادا کرنا پڑے ہیں جبکہ مقدمات کی نوبت آئے بغیر متاثرین کو معاوضہ دینے کے لیے پروگرام بھی بنائے گئے ہیں۔
گذشتہ جون میں سان فرانسسکو آرچ ڈائیوسیس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے پادریوں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا نشانہ بننے والے قریباً 530 متاثرین کے مقدمات نمٹانے کے لیے انہیں 39 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔
