وحید مرادجن کی کیمیا، اک راز، جیومیٹری، دل کی آواز، ہر پہلو باعث تگ و تاز

  لالی وڈ کے معروف اداکار اور فلم ساز وحید مراد کو مداحوں سے بچھڑے 35 برس گزر گئے ۔ اس کے باوجود لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں میں ان کی یادیں اور باتیں آج بھی رقصاں ہیں۔یوں تو پاکستانی فلمی صنعت لالی وڈ میں کئی نامی گرامی اداکار، فنکار، گلوکار، نغمہ نگار اور نجانے کس کس فن کے ماہر آئے اور گئے مگر وحید مراد کیا عجب ہیرو تھے کہ تمام مرد و زن انہیں چاکلیٹی ہیرو کا خطاب دے بیٹھے ۔ وہ جو انداز اپناتے ”ادا“ قرار پاتا، وہ جو لباس زیب تن کرتے قیمتی ردا قرار پاتا، وہ جس طرح گیسو سنوارتے، وہ سب سے جدا قرار پاتا۔ وحید مراد ایک ایسی شخصیت تھے جن کی جیومیٹری کا ہر زاویہ صنف نازک کے دل کی آواز تھا، جن کی کیمیاکا ہر عنصر ، زنانہ عناصر کے لئے اک راز تھا، جن کی ہستی کا ہر پہلو صنف مخالف کے لئے باعث تگ و تاز تھا۔وحید مرادکیا عجب ہیرو تھے کہ بولتے توپیمان جھلکتا، مسکراتے تورومان جھلکتا،خوشی سے جھومتے تو ناسمجھ نوجوان بلکتا۔ ناراض ہوتے تو دل ٹوٹ جاتے، وہ اداس ہوتے تو دیکھنے والوں کی آنکھوں سے آنسوچھوٹ جاتے ۔ عجب ہیرو تھے،نغمے کے زیر عنوان موسیقی کے ساتھ سریلے انداز میں پیش کی گئی شاعری پر انداز اختیار کرنے جیسی غیر حقیقی حرکات و سکنات کو وہ اس طرح پیش کرتے کہ ہر غیر شادی شدہ نوجوان مستقبل کے خوابوں میں خود کو اسی نغمے پر اچھلتے کودتے دیکھنے لگتا۔اداکار وحید مراد پاکستان کی فلمی تاریخ کے ان چند اداکاروں میں سے ایک ہیں جنہیں بہت زیادہ شہرت، عزت اور محبت حاصل ہوئی۔وحید مراد کراچی میں 2 اکتوبر 1938 کو پیدا ہوئے تھے اورانہوں نے جامعہ کراچی سے انگریزی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی ۔وہ پاکستانی فلمی دنیا کے گنے چنے اعلیٰ تعلیم یافتہ اداکاروں میں شامل تھے۔وحید مراد نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز 1959ءمیں فلم ”ساتھی“ سے کیا تھا جس میں انہوں نے مختصر کردار ادا کیا تاہم انہوں نے باقاعدہ فلمی سفر کی شروعات 1962 میں فلم’ ’اولاد“سے کی جس میں انہوں نے بطور معاون اداکار کام کیا۔نامور اداکار نے 1964ءمیں فلم ”ہیرا اور پتھر“ پروڈیوس کی جس میں انہوں نے پہلی بار مرکزی کردار نبھایا اور اپنے نہایت منفرد، شرارتی اور رومانوی انداز سے تمام مداحوں کے دلوں میں گھر کر لیا۔انہوں نے اپنے 30 سالہ فلمی کریئر میں پاکستان کو کئی مشہور فلمیں دیں جن میں اولاد کے علاوہ ارمان، دیور بھابھی، درپن، دوراہا، جہاں تم وہاں ہم، انجمن اورلاڈلا جیسی متعدد فلمیں شامل ہیں۔انہوں نے متعدد ایوارڈز بھی اپنے نام کئے جبکہ مشہور نگار ایوارڈز میں انہیں بہترین فلم ساز اور بہترین اداکار قرار دیا گیا۔وحید مراد 23 نومبر 1983 کواس جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے لیکن ان کی یادیں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
 

شیئر: