Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اللیث میں تجرباتی فارم: سعودی عرب کی زراعت کے مستقبل کا جائزہ

اس فارم پر نت نئے تکنیکی طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ( فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب کے زرعی شعے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لیے کئی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جن میں سے اللیث گورنریٹ میں واقع ایک فارم پر بھی تحقیقی انشیٹیو کا آغاز ہوا ہے۔
اس فارم میں کارکردگی کے لحاظ سے انتہائی اعلٰی اور پائیدار پروڈکشن ماڈلز کو استعمال کیا جا رہا ہے جو سائنسی تحقیق اور اس کے کاروباری اطلاق کو یکجا کر کے مملکت میں غذائی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے اور پانی کے وسائل کو دیر تک محفوظ رکھنے کے طریقوں کو بروئے کار لائیں گے۔
یہ فارم اللیث میں غمیقہ سینٹر میں واقع ہے جس کا رقبہ دس ہیکٹر ہے۔ یہاں پر نت نئے تکنیکی طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
زراعت کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیوں کی آزمائش ہو رہی ہے جو پانی کی قلت کے چیلنج سے نبرد آزما ہیں۔\
اس فارم میں کھلے ترقی یافتہ کھیت اور جدید گرین ہاؤسز ہیں جنھیں آبپاشی کے سمارٹ نظام سے، جن میں آبی ڈرپ اور چھڑکاؤ کرنے والے آلات شامل ہیں، نہ صرف زمین کے نیچے بلکہ اوپر کی سطح پر بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سیراب کیا جار رہا ہے۔
فارم میں تمام نظام سمارٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جس سے پانی کے استعمال کی نگرانی کی جاتی ہے اور بہتر کارکردگی کو یقینی بنایا جاتا ہے، جس سے زرعی پیداوار اور پانی کے بچاؤ  کے درمیان توازن بھی قائم ہو جاتا ہے۔

اس مقصد کے لیے سمندر کے نمکین پانی کو بھی پتلا کرنے کے بعد فارم میں استعمال کیا جاتا ہے۔
جدید نظام کا مقصد زراعت کے لیے استعمال ہونے والے پانی کے وسائل کو متنوع بنانا، تازہ پانی پر انحصار میں کمی اور ساحلی اور نیم خشک ماحول والے علاقوں میں زراعت میں اضافے کی نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔
اس منصوبے سے سمارٹ زراعت کے لیے سرمایہ کاری کے امید افزا مواقع کی توقع ہے جس سے تجارتی طور پر کثیرالاستمعال پیداواری ماڈل بہتر ہوں گے جن میں خاص طور پر زیادہ استعمال ہونے والی سبزیاں اور پھل شامل ہیں۔

ان طریقوں سے نہ صرف پانی اور توانائی سے متعلق اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ مستقبل کے زرعی منصوبوں کے معاشی فوائد بھی بہتر ہوں گے۔
علاوہ ازیں، یہ منصوبہ زرعی مہارتوں کو مقامی سطح پر منتقل کرنے، خوراک کی مقامی سپلائی چینز کو تعاون فراہم کرنے اور زرعی سرمایہ کاری کے لیے پُرکشش ماحول پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یہ تمام اہداف، پائیدار ترقی کے مقاصد سے ہم آہنگ بھی ہیں جس سے نت نئے زرعی حل سامنے آئیں گے اور نجی شعبے کی کارکردگی بہتر ہوگی۔
یحیی بن عبدالرحمن المحبی نے، جو اللیث گورنریٹ میں وزارتِ زراعت، آب اور ماحولیات کے ڈائریکٹر ہیں، سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ یہ منصوبہ مملکت میں زراعت کے مستقبل سے تعلق رکھتا ہے۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے المحبی کا کہنا تھا’اس منصوبے کے پیچھے وژن یہ ہے کہ ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کی جائے، فی یونٹ پانی سے فائدے میں اضافہ کیا جائے اور سائنسی تحقیق کو سرمایہ کاری کے مواقع سے مربوط کر دیا جائے۔‘
جس فارم پر نئی ٹیکنالوجیوں کی مدد سے تحقیق کی جا رہی ہے اس کے بارے میں بات کرتے ہوئےالمحبی نے کہا کہ ’یہ جدید، کثیرالاستعمال اور ایسا ماڈل ہے جسے مملکت کے مختلف ریجنز میں کہیں بھی، بالخصوص ساحلی ماحول والے علاقوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘
 وزارتِ ماحول، آب اور زراعت کے اس وعدے کو دہراتے ہوئے ہوئے کہا کہ ’ایسے تمام خاص منصوبے جو مملکت کے وژن 2030 سے ہم آہنگ ہیں اور دیہی علاقوں کی ترقی، زرعی پیداوار میں بہتری اور غذائی تحفظ کا سبب بن سکتے ہیں، وزارت انہیں تعاون فراہم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔‘

 

شیئر: