اب آئی ایم ایف کی کیا ضرورت؟

کراچی (صلاح الدین حیدر)لگتا ہے قدرت تمام تر مخالفتوں کے باوجود عمران کی حکومت کو خطرات سے بچائے ہوئے ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے کئی مرتبہ کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض لینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں جب انسان سچا اور نیک نیت ہو تو غیب سے مدد خود بخود آتی رہتی ہے۔ عمران کو جن مشکلات کا سامنا پہلے دن سے رہا ہے وہی بہتر سمجھ سکتا ہے کہتے ہیں نا کہ ہمت مرداں، مدد خدا۔ عمران نے اب تک 4 ممالک کا دورہ کیا۔ چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا میں جس طرح اس کا استقبال کیا گیا وہ قابل دید تھا اور قوم کے لئے خوشی کا باعث۔ سعودی عرب نے ابتدا کی۔ 3 ارب ڈالر کی امداد اور تیل کی فراہمی، 3 سال بعد قیمت ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر کے خادمین حرمین شریفین شاہ سلمان اور ان کے صاحبزادے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پھر ثابت کردیا کہ شاہی خاندان اور سعودی عرب کے لوگ پاکستان اور پاکستانیوں سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔
3 میں سے 3 قسطیں یعنی 2 ارب ڈالر تو پاکستانی خزانے میں پہنچ گئے۔ تیسری قسط اگلے مہینے آجائے گی۔ متحدہ عرب امارات نے بھی جمعہ کو اعلان کردیا کہ وہ پاکستان کو 3 ارب ڈالر دے رہا ہے تاکہ ایک برادر اسلامی ملک اپنی مشکلات پر قابو پاسکے۔ عمران نے اعلان کے چند سیکنڈوں کے بعد ہی متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا۔ صرف پی ٹی آئی کی حکومت ہی نہیں پوری پاکستانی قوم برادر اسلامی ملکوں کی شکر گزار ہے۔ایک گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے 6 ارب ڈالر کسی قیمتی اثاثے سے کم نہیں۔اگر پٹرول بھی بعد از فروخت کی ادائیگی پر مل جائے تو اور کیا چاہیے۔ اندھے کو کیا چاہیے 2 آنکھیں جو ہمیں مل گئیں۔ایک بات پھر بھی کھٹکتی ہے کہ چین سے 2 ارب ڈالر کی خبریں مسلسل آرہی تھیں مگر اب تک کوئی ٹھوس چیز سامنے نہیں آئی۔ چین سے شاید مذاکرات جاری ہیں۔ چین پاکستان راہداری پر، پچھلی حکومت سے معاہدے میں عمران نے کچھ تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اس پر گفت و شنید مکمل ہونے کے بعد یہ مسئلہ بھی حل ہونے کی امید ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جو دنیائے اسلام کے مانے ہوئے لیڈر ہیں اپنے ملک سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے یہ بھی عمران کی کامیابی ہوگی۔ اس سارے پس منظر کا مقصد صرف یہ ہے کہ اب وزیراعظم یا وزیر خزانہ کو آئی ایم ایف کو جھنڈی دکھا دینی چاہیے کہ ہمیں مزید کسی شرائط کی ضرورت نہیں۔ دوستوں کی حمایت ہی کافی ہے۔ پاکستان کو 9 ارب ڈالر کا قرضہ ادا کرنا ہے جو اوورسیز پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقم سے پورا ہوجائے گا۔ اب تک 9 ارب ڈالر تو بیرونی ممالک میں رہائش پذیر ہم وطنوں سے آچکے ہیں۔ پھر آئی ایم ایف کی ضرورت کیا ہے؟ ہمیں اپنا سر بلند رکھنا چاہیے، جھکنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ وزیر خزانہ کو جو آئی ایم ایف سے ویڈیو کانفرنس کر رہے تھے اب صاف طور پر آئی ایم ایف کو خیرباد کہہ دینا چاہیے۔ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی سخت ضرورت ہے اس کے بغیر کوئی اور چارہ نہیں۔

شیئر: