ہند اور آئی ایم ایف کو کیا پریشانی ہے؟

 کراچی (صلاح الدین حیدر) ہند نے مسلسل پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رکھی ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ کیسے پاکستان کو دنیا کے نقشے سے نکال پھینکے۔ دلی کے حکمران یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان قدرت کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا اور مالک حقیقی خود ہی اس کا محافظ ہے۔چین پاکستان راہداری تقریباً 2 سال سے پاکستان کی ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ جہاں یہ پاکستان میں اقتصادی ترقی کا باعث بنے گا وہیں چین کو بھی مشرق وسطیٰ، یورپ اور مغربی ممالک تک اپنی برآمدات کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ہند کو یہ بات ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ شروع دن سے وہ اس کے خلاف زہر اگلنے پر لگا ہوا ہے۔ تازہ ترین الزام یہ ہے کہ یہ منصوبہ فوجی نوعیت کا ہے۔ کہاں اقتصادی معاملات کہاں فوجی منصوبے؟ دو متضاد باتیں ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کو مجبوراً اصلاح کرنی ہی پڑی۔ انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ چین پاکستان راہداری یا سی پیک میں فوجی طرز یا منصوبوں کا کوئی دخل نہیں ۔ سی پیک پاکستان میں بجلی کے منصوبے اور صنعتوں و تجارت کے ڈھانچے کو کھڑا کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔ امریکہ کو بھی تشویش ہے۔ دوسری طرف آئی ایم ایف جس سے پاکستان اپنی معیشت کو ابھارنے کے لئے قرض لینے کی سوچ رہا ہے اسے بھی پریشانی ہے کہ آئی ایم ایف کے دیئے ہوئے قرضوں میں کتنی رقم سی پیک میں جائے گی۔ کون لے جارہا ہے سی پیک میں آئی ایم ایف کی رقم۔ فضول کی رٹ ہے۔ پاکستان پر امن ملک ہے۔ خواہ وہ عمران خان کا دورہ 4 ملکوں کا ہو یا وزیر خارجہ کا دورہ افغانستان، ایران، چین اور روس سب کا ایک ہی مطلب تھا۔ وزیراعظم دوست ممالک سے مالی امداد حاصل کرنے گئے تھے جس کا بہت بہترین نتیجہ نکلا۔ جبکہ وزیر خارجہ نے اپنے دورے میں افغانستان میں امن کی بات کی۔ ہند اور آئی ایم ایف کو کیا پریشانی ہے؟ سمجھ نہیں آتا۔
 

شیئر: