Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سرکاری اسپتالوں کا غیر ملکی ڈاکٹروں پر انحصار سمجھ سے باہر ہے، رکن شوریٰ

ریاض۔۔۔ رکن شوریٰ میجر جنرل (ر)عبدالہادی العمری نے یہ کہہ کر کہ کیا غیر ملکی ڈاکٹر پیدائشی قابل ، ہنر مند اور تجربہ کار ہوتے ہیں؟ مملکت بھر میں ایک ہنگامہ برپا کردیا۔ انہوں نے وزارت صحت کی رپورٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ آخر سعودی ڈینٹسٹ ، فارماسسٹ اور ذہنی امراض کے ماہر بے روزگار کیوں پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان ساری اسامیوں کی سعودائزیشن کا مطالبہ کرتے ہوئے وزارت صحت پر کڑی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت کا معیار ایک سے زیادہ محاذ پر انحطاط پذیر ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر غیر ملکی ڈاکٹروں پر اتنا زیادہ اعتماد اور انحصار کیوں ہے؟ کیا وہ پیدائشی طبیب ہوتے ہیں؟ العمری نے توجہ دلائی کہ سعودی شہری وزارت صحت سے بہت ساری خدمات کے آرزو مند ہیں۔ ذہنی مریض نشے کے عادی افراد کو مطلوبہ علاج نہیں مل پارہا ہے۔ انہیں اپنے نمبر کا کئی کئی برس انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ مملکت میں 150ہزار بچے ذہنی معذوری میں مبتلا ہیں۔ بچیوں کی تعداد بچوں کے مقابلے میں 1/4 ہے۔ یہ اعدادوشمار بھی پرانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حفظان صحت کے پروگرام بھی ڈھیلے ڈھالے ہیں۔ وزارت صحت کو اس جانب بھی توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت نے اپنی رپورٹ میں تمام صحت شعبوں میں سعودی لڑکوں اور لڑکیوں کی بے روزگاری دور کرنے کی بابت ایک بات بھی نہیں کہی۔ سعودی ڈاکٹروں کی تقرری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے اسپتال غیر ملکی ڈاکٹروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں وزارت صحت اتنی زیادہ تعداد میں غیر ملکی ڈاکٹر درآمد اورسعودی ڈاکٹروں کو نظر انداز کرکے کونسا ہدف حاصل کرنا چاہتی ہے۔

شیئر: