Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب صاحب پیغام منفرد ریاست

سلمان بن محمد الغمری۔ الجزیرہ
کوئی شخص بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ سعودی حکومت امدادی عمل میں اپنی ایک پہچان بنا چکا ہے۔ سعودی عرب مشرق و مغرب کے ممالک میں قدرتی آفات سے دوچار ممالک اور نادار معاشروں کی مدد میں ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے۔ صحت ، سماجی اور خوراک اداروں کو براہ راست بھی اور بین الاقوامی تنظیموں و اداروں کے توسط سے بھی نقد امدادی سامان فراہم کرتا رہتا ہے۔
سعودی عرب 2بنیادوں پر برادر عرب و مسلم ممالک کی مدد کرتا ہے۔ ایک سبب یہ ہے کہ عربوں اور مسلمانوں کا سعودی عرب پر حق اخوت بنتا ہے۔ یہ حق ادا کرنا سعودی عرب کا فرض ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں برادر مسلم و عرب ممالک کے تعمیراتی و ترقیاتی منصوبوں کو مستحکم بنانا سعودی عرب اپنے فرائض میں شامل کئے ہوئے ہے۔ ایک بات یہ ہے کہ سعودی عرب نہ صرف یہ کہ مسلم عرب ممالک کی مدد کررہا ہے بلکہ جو ملک بھی قدرتی آفات خانہ، جنگیوں اور مختلف قسم کے بحرانوں سے دوچار ہوتے ہیں سعودی عرب آگے بڑھ کر انکی مدد کرتا ہے۔ سعودی عرب دنیا بھر کو امداد دی جانے والی 10فیصد کا حصہ دار ہے۔ 
اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق سعودی عرب دنیابھر میں ترقیاتی امداد فراہم کرنے والے 10بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ باقی جو 9ممالک ہیں انکی آمدنی اور سعودی عرب کی آمدنی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ بات بلا خوف و تردید کہی جاسکتی ہے کہ سعودی عرب ترقیاتی ، امدادی اور انسانی کاموں میں قافلہ سالار ریاست ہے۔ سعودی عرب نے 90سے زیادہ ممالک کو سیکڑوں ارب ڈالر کی امداد د ی ہے۔ اگر ہم شاہ سلمان مرکز برائے امداد ہی کی خدمات کو مد نظر رکھیں جس کے قیام پر ابھی 3برس بھی مکمل نہیں ہوئے ، تو ہمیں پتہ چلے گا کہ اس مرکز نے ایک برس میں جتنا کچھ انسانی امداد پر خرچ کیا ہے وہ 10برس میں تمام ممالک کے امدادی عمل پر بھاری ہے۔ سعودی عرب کا ایک امتیاز یہ ہے کہ یہ احسان جتائے بغیر اور کوئی پابندی لگائے بغیر اور کسی سیاسی ایجنڈے کے بغیر مدد دیتا ہے۔
مجھے اعتراف ہے کہ میںسعودی امداد کے جملہ اعدادوشمار پیش نہیں کرسکتا البتہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کی بنیاد پر یہ بات بلا خوف و تردید کہہ سکتا ہوں کہ سعودی عرب 2014ءمیں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق امداد دینے والے ممالک میں عالمی سطح پر چھٹا نمبر حاصل کرچکا ہے۔ عالمی بینک نے بین الاقوامی جائزے کے نتائج شائع کرتے ہوئے بتایا کہ 1975ءسے لیکر 2016ءتک سعودی عرب نے جو امداد دی وہ اس کی قومی پیداوار کا 301فیصد ہے جبکہ اقوام متحدہ زیادہ سے زیادہ کسی ملک سے امداد کی جو حد متعین کئے ہوئے ہے وہ اسکی قومی پیداوار کے حوالے سے 0.7فیصد ہے۔
سعودی عرب انسانیت نوازی کے باب میں قائدانہ کردار زمان و مکان کی حد بندیوں سے بالا ہوکر کررہا ہے۔ شاہ سلمان مرکز برائے انسانی خدمات جو کچھ کررہا ہے وہ کسی کی نظروں سے اوجھل نہیں۔ دنیا کے ہر علاقے میں اسکی خدمات کا دائرہ پھیل چکا ہے۔ امتیازی وصف یہ ہے کہ یہ مرکز اقوام متحدہ کی تنظیموں اور متاثرہ ممالک کی مقامی اور بین الاقوامی بغیر منفعات والی تنظیموں کے توسط سے انجام دے رہا ہے۔
سعودی عرب نے اپنی ایک پہچان یہ بنائی ہے کہ وہ انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں امدادی عمل انجام دے رہا ہے۔اسکے مدنظر دنیا بھر کے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنا ہے۔کسی سیاسی یا قومی ایجنڈے کو اس سلسلے میں حائل نہیں ہونے دیتا۔ برادر ممالک کےساتھ امدادی عمل میں بھی سعودی عرب کا رویہ منفرد ہے۔ انکے ساتھ کسی قسم کے بجٹ یا کسی وقت کی کوئی حد بندی نہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: