’’مسلمان اور ہندو جوڑے ‘‘کی اولادیں جائداد کی حقدار ہونگی ،سپریم کورٹ

نئی دہلی۔۔۔سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا کہ مسلمان اور ہندوجوڑے کی اولادیں جائداد کی حقدار ہونگی۔جسٹس این وی رمن اور شانتناگوڈر نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مسلم شخص کی شادی بت پرست یا آتش پرست لڑکی سے نہ تو درست ہے اور نہ ہی باطل بلکہ یہ فاسد ہے۔ایسی شادی کی اولاد یں جائداد میں حصہ دار ہونگی۔صرف باطل شادی سے ہونے والی اولاد ہی باطل تسلیم کی جائے گی۔شمس الدین نامی شخص نے والد کے انتقال کے بعد خاندانی جائد میں حصہ طلب کیا تواہل خانہ نے اسے باطل قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ ہندو خاتون کی اولاد ہے ۔یہ کیس پہلے ٹرائل کورٹ پھر ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے شادی کو درست قراردیتے ہوئے جائداد میں حق دینے کا حکم جاری کیا لیکن اہل خانہ نے معاملہ ہائیکورٹ میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ویلیما مذہبی اعتبار سے ہندو تھی اور اس کا شوہر الیاس مسلمان تھا لہذا اس کی جائداد میں اس کے بیٹے کو حصہ نہیں دیا جائیگا۔کیرالہ ہائیکورٹ نے کہا کہ شادی فاسد ہے ،باطل نہیں اسلئے بچے کو حصہ دینا پڑیگا۔ اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اعلیٰ عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ہندوماں کی اولاد کو جائداد میں حق دینے کا فیصلہ صادر کیا۔
مزید پڑھیں:- - - - - -آج لکھنؤ میں راج ببر کے بیٹے کی شادی کی تقریب
 

شیئر: