میڈیا کی آزادی کو خطرہ

کراچی ( صلاح الدین حیدر) تعجب ہوگا لیکن پاکستانی میڈیا کو جو آزادی برسہا برس کی جدوجہد کے بعد 1988ءمیں حاصل ہوئی تھی وہ دوبارہ خطرے میں نظر آتی ہے۔ عمران خان کی موجودہ حکومت نے کچھ ایسے اقدامات کا اعلان کیا ہے جس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے۔ پاکستان میں 1958ءکے مارشل لا کے ساتھ ہی میڈیا پابند سلاسل ہوگیا۔ جنرل ایوب خان ہوں، ضیاءالحق، یحییٰ خان یا ذوالفقار علی بھٹو سب نے ہی پریس پر پابندیاں لگائے رکھیں، ملک میں 4 ملٹری حکومتیں آئیں۔ جنرل پرویز مشرف واحد شخص تھے جنہوں نے فوجی سربراہ ہونے کے باوجود نہ صرف اخبارات کو کھلی چھٹی دے رکھی بلکہ اپنے زمانے میں انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کو پروان چڑھایا۔ یہ کریڈٹ انہیں دینا پڑے گا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تحریک انصاف نے جو کہ الیکشن جیت کر اقتدار میں آئی بلا سوچے سمجھے کچھ ایسی تجویز پیش کردی ہیں جن سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بے چینی پیدا ہوگئی ۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق برسوں سے قائم پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پمرا) کو بند کر کے ایک نئی تنظیم بنائی جائے گی۔ اس کی تفصیل تو ابھی منظر عام پر نہیں آئی لیکن اخبارات کی نمائندہ تنظیموں، اخبارات کے مالکان کی تنظیم آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور ایڈیٹر حضرات کی انجمن کونسل آف پاکستان نے تجویز رد کردی ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسی تنظیم پر جس میں حکومتی اہلکار شامل ہوں کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟ پی ایم آر اے بناکر حکومت اخبارات کی آزادی سلب کرنا چاہتی ہے۔ اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون اور تنظیم کے سیکرٹری جنرل سرمد علی نے ایک اعلامیہ کے ذریعے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ قوانین مثلاً پریس کونسل آرڈیننس نیوز پیپرز، نیوز ایجنسی اور بکس رجسٹریشن آرڈیننس اور پیمرا آرڈیننس ختم کر کے حکومت سارے اختیارات خود سلب کرنا چاہتی ہے جو کسی بھی طرح بھی قابل قبول نہیں ۔ نہ جانے کیوں پی ٹی آئی نے برسراقتدار آتے ہی میڈیا کے بارے میں نئی بحث شروع کردی ۔ وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ سرکاری اشتہارات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ خزانے پر اربوں روپے کا بوجھ پڑ گیا اور برسوں تک اخبارات کو اشتہارات کے بل ادا نہیں کئے جاتے تھے۔ اس پر نظر ثانی کے بعد اب یہ فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری اشتہارات صرف حکومتی پالیسیوں کے بارے میں ہی جاری کئے جائینگے۔ حکمرانوں کی ذاتی تشہیر تو پہلے سے سپریم کورٹ نے بند کردی تھی۔ اے پی این ایس کو اس بات کا بھی شکوہ ہے کہ حکومت نے اب تک پی ایم آر اے کا مسودہ اے پی این ایس کو فراہم نہیں کیا۔

شیئر: