پانچ ہزار کے کرنسی نوٹ برقرار، مگر افواہیں بار بار کیوں سامنے آتی ہیں؟
پانچ ہزار کے کرنسی نوٹ برقرار، مگر افواہیں بار بار کیوں سامنے آتی ہیں؟
جمعہ 6 فروری 2026 10:54
زین علی -اردو نیوز، کراچی
گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں درست نہیں‘ (فوٹو: گیٹی امیجز)
پاکستان میں پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کیے جانے سے متعلق افواہیں ایک بار پھر گردش کر رہی ہیں۔ لیکن اس بار یہ معاملہ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا بلکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں جا پہنچا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو باضابطہ طور پر وضاحت دینا پڑی۔
اجلاس میں گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’ملک میں پانچ ہزار روپے کا نوٹ نہ تو بند کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اسے متروک قرار دینے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے۔‘
گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق ’سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں، جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حکومت پانچ ہزار کا نوٹ ختم کرنے جا رہی ہے درست نہیں ہیں۔‘
یہ افواہیں بار بار کیوں سامنے آتی ہیں؟
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں پانچ ہزار روپے کے نوٹ سے متعلق افواہوں کا بار بار سامنے آنا کوئی نیا رجحان نہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ملک میں غیر دستاویزی معیشت، نقد لین دین پر انحصار اور ماضی میں کیے گئے بعض پالیسی فیصلے ہیں۔
2016 میں انڈیا کی جانب سے بڑے کرنسی نوٹ اچانک بند کیے جانے کے فیصلے کے بعد خطے کے دیگر ممالک میں بھی اس نوعیت کی قیاس آرائیاں جنم لینے لگیں، جن کا اثر پاکستان میں بھی دیکھا گیا۔
معاشی امور کے ماہر سینیئر صحافی وکیل الرحمنٰ نے اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسی افواہیں نہ صرف عوام میں غیر ضروری خوف پیدا کرتی ہیں بلکہ مالی نظام پر اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہر بار جب حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے، کالے دھن کے خاتمے یا ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے تو سوشل میڈیا پر یہ تاثر تیزی سے پھیل جاتا ہے کہ بڑے کرنسی نوٹ، خصوصا پانچ ہزار کا نوٹ، ختم کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اب تک حکومت یا سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔‘
گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ حکومت پاکستان نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن پر کام کر رہی ہے (فوٹو: گیٹی امیجز)
نئے کرنسی نوٹ لانے کی بات کیوں ہو رہی ہے؟
سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن پر کام کر رہی ہے تاہم یہ عمل کسی مخصوص نوٹ کو ختم کرنے کے مترادف نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک معمول کا اور تکنیکی عمل ہے جو دنیا کے بیشتر ممالک وقتاً فوقتاً انجام دیتے ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق نئے نوٹ متعارف کرانے کی بنیادی وجوہات میں کرنسی کی سکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانا، جعلی نوٹوں کی روک تھام، جدید سکیورٹی فیچرز کا اضافہ اور نوٹوں کی پائیداری شامل ہوتی ہیں۔
وقت کے ساتھ پرانے نوٹ خستہ حال ہو جاتے ہیں، جنہیں مرحلہ وار تبدیل کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس عمل میں عموماً پرانے اور نئے نوٹ ایک طویل عرصے تک ساتھ ساتھ گردش میں رہتے ہیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو۔
گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق نئے نوٹوں کے ڈیزائن کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی، جس کے بعد ہی اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پورے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا، افواہیں اور عوامی تشویش
سائبر سکیورٹی اور آئی ٹی امور کے ماہر ڈاکٹر نعمان سید نے اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پانچ ہزار کے نوٹ سے متعلق افواہیں اکثر بغیر کسی سرکاری حوالہ یا تصدیق کے وائرل ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ بینکوں سے رقم نکلوانے یا نقدی ذخیرہ کرنے جیسے اقدامات کرنے لگتے ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق یہ رویہ مالی نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
پانچ ہزار روپے کے نوٹ سے متعلق سٹیٹ بینک کی وضاحت ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر خبر حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ مالی معاملات سے متعلق خبروں پر صرف مستند اور سرکاری ذرائع پر ہی انحصار کریں، کیونکہ افواہیں نہ صرف ذاتی فیصلوں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ مجموعی طور پر معیشت پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔