عمران خان کی میڈیکل رپورٹ اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی: عطا اللہ تارڑ
تحریک انصاف نے کئی بار عمران خان کی صحت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی میڈیکل رپورٹ اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی ہے۔
جمعے کو ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے وزیراعظم کو ایک خط لکھا گیا اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بھی پاکستان کی سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جس میں سنٹرل جیل راولپنڈی (اڈیالہ) میں سزا کاٹنے والے جناب عمران احمد نیازی کے طبی معائنے سے متعلق درخواست کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آفس کی ہدایات پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ہسپتال کی جانب سے ایک تفصیلی رپورٹ سنٹرل جیل راولپنڈی (اڈیالہ) کے سپرنٹنڈنٹ کو ارسال کی گئی جو بعد ازاں اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی۔
مقامی میڈیا میں عمران خان کے پمز ہسپتال میں جانے کے حوالے سے رپورٹس سامنے آئی تھیں، تاہم پہلے حکومتی وزرا نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا، لیکن بعدازاں اس کی تصدیق کی کہ انہیں آنکھ کے معائنے کے لیے پمز لے جایا گیا۔
گذشتہ ہفتے وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ طبی ماہرین کی سفارش پر گذشتہ سنیچر کی رات کو بانی چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران کو پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی آنکھوں کا معائنہ کیا گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا آنکھوں کے طبی ماہرین نے اڈیالہ جیل میں بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی آنکھوں کا معائنہ کیا تھا جس کے بعد انہوں نے تجویز دی کہ معمولی طبی کارروائی کے لیے عمران خان کو پمز ہسپتال لے جانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی تحریری رضامندی کے بعد طبی کارروائی (پروسیجر) ہوئی جس کے بعد انہیں ضروری ہدایات کے ساتھ واپس اڈیالہ جیل لے جایا گیا۔
’طبی کارروائی کے دوران بانی چئیرمین پی ٹی آئی صحت مند تھے۔ تمام قیدیوں کو طبی سہولت تک رسائی حاصل ہوتی ہے، یہ رولز کے مطابق ہوتا ہے۔‘
واضح رہے کہ تحریک انصاف نے کئی بار عمران خان کی صحت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے اور اڈیالہ جیل میں ان کے ساتھ ملاقات کا مطالبہ کیا ہے۔
عمران خان کے خاندان کے افراد، وکلا اور سیاسی جماعت کے رہنما گذشتہ کئی ہفتوں سے ان سے ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں اور اڈیالہ کے باہر ہر ہفتے احتجاج بھی کیے جا رہے ہیں۔
