نطاقات کی پابندی کا ثمر

اتوار 10فروری 2019ءکو سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار ” البلاد“ کا اداریہ نذر قارئین ہے
  سعودی عرب کی قیادت راشدہ اس بات کا عزم کئے ہوئے ہے کہ نجی ادارے مستحکم ہوں اور رہیں۔ انکی شرح نمو میں اضافہ ہو اور سعودی شہریوں کے روزگار میں ان کے ہاتھ مضبوط ہوں۔ اسی تناظر میں ایوان شاہی نے سعودائزیشن کے پروگرام کو صحیح معنوں میں انجام دینے والے نجی اداروں کو جمع کردہ فیس سے استثنیٰ دیدیا ہے۔ جو ادارے فیس جمع کرچکے ہیں اور وہ نطاقات پروگرام کی پابندی کرتے رہے ہیں انہیں وہ ساری فیس معاف کی جائیگی جبکہ سعودائزیشن کی پابندی کرنے والے اور فیس جمع نہ کرسکنے والے اداروں کو فیس جمع کرنے سے استثنیٰ دیدیا گیا ہے۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد کی درخواست پر نجی اداروں کی حوصلہ افزائی کیلئے مذکورہ فیصلے کی منظوری دی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی بدولت زیادہ سے زیادہ سعودیوں کو ملازمتیں ملیں گی۔ 2017ءاور 2018ءکے دوران غیر ملکی عملے پر جو فیسیں لی گئی تھیںوہ اداروں کو واپس کردی جائیں گی۔ 
اس فیصلے پر عملدرآمد کیلئے 11.5ارب ریال خرچ ہونگے۔سعودی حکومت نے نجی اداروں کو قومی معیشت میں شرح نمو بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ سعودی لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے یہاں ملازم رکھنے میں سہولتیں مہیا کرنے کیلئے 200ارب ریال کا پیکیج منظو رکررکھا ہے۔ اسی رقم سے 11.5ارب ریال نئی مد میں لگائے جائیں گے۔ نئے فیصلے کی بدولت نجی اداروں کو قومی معیشت کے فروغ اور سعودیوں کو روزگار فراہم کرنے کے سلسلے میں زبردست تحریک ملے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 
 
 

شیئر: