Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کا ایران پر شدید حملوں کا اعلان، جنگ تیسرے ہفتے میں داخل

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ آنے والے دنوں میں امریکی افواج ایرانی اہداف پر 'بہت سخت حملے' کریں گی۔
صدر ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی مہم مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
واشنگٹن اور اس کے اتحادی اسرائیل  نے 28 فروری کو حملوں کے ساتھ اس کارروائی کا آغاز کیا تھا، جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد خطے میں جنگ پھیل گئی، جس نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا اور خلیجی علاقے میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

صدر ٹرمپ نےفاکس نیوز ریڈیو کو بتایا کہ 'ہم اگلے ہفتے کے دوران انہیں بہت سختی سے نشانہ بنائیں گے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ایران کی قیادت کو بالآخر اس کے اپنے عوام ہی اقتدار سے ہٹا سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'میرے خیال میں ایسے لوگوں کے لیے یہ ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے جن کے پاس ہتھیار نہیں ہیں۔ لیکن یہ آخرکار ہوگا، شاید فوری طور پر نہیں۔'
امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری سے شروع ہونے والی فضائی مہم کے دوران اب تک 15 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ہیگسیتھ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'ہماری فضائیہ اور اسرائیلی فضائیہ نے مل کر 15 ہزار سے زیادہ دشمن اہداف کو نشانہ بنایا ہے، یعنی روزانہ ایک ہزار سے بھی زیادہ۔'
ان کا کہنا تھا کہ اس مہم کے نتیجے میں ایران کی جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے میزائل، میزائل لانچر اور ڈرون تباہ کیے جا رہے ہیں یا فضا میں ہی مار گرائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق میزائل حملوں میں 90 فیصد اور ڈرون حملوں میں 95 فیصد کمی آ چکی ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے اور ممکنہ طور پر ان کا چہرہ بھی متاثر ہوا ہے۔ اسی حملے میں ان کے والد علی خامنہ ای مارے گئے تھے۔
ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ خامنہ ای کے بیٹے زخمی ہوئے تھے، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں اور نہ ہی وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے عوام کے سامنے آئے ہیں۔
اس تنازع نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ایران کے پاسداران انقالاب نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جو خلیج میں ایک اہم آبی گزرگاہ ہے اور جہاں سے دنیا کے تقریباً 20  فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
اس ہفتے کے آغاز میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں جبکہ طویل بحران کے خدشے کے باعث عالمی سٹاک مارکیٹوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
پیٹ ہیگسیتھ نے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران کو طویل مدتی مسئلہ قرار دینے کے خدشات کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ 'وہ آبنائے ہرمز میں شدید مایوسی کے عالم میں اقدامات کر رہے ہیں۔ ہم اس صورتحال سے نمٹ رہے ہیں اور اس بارے میں زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔'
دوسری جانب ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو اس اہم بحری راستے سے گزرنے والی جہاز رانی پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا اور تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

شیئر: