پی ایس ایل : پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز فائنل میں مدمقابل ہونگے

کراچی: پاکستان سپر لیگ4 کے فائنل میں مد مقابل ٹیموں کے کپتانوں پشاور زلمی کے ڈیرن سیمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سرفراز احمد نے فتح کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرافی پر قبضے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرافی کی رونمائی کے وقت پریس کانفرنس کے دوران ڈیرن سیمی کا کہنا تھا کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو یہاں فائدہ ہوگا، کوشش کریں گے کہ پہلے بیٹنگ کریں تو بڑا اسکور بنائیں جبکہ سرفرازاحمد کا کہنا تھا کہ فائنل ہارنے کی ہیٹ ٹرک سے بچنے کی پوری کوشش ہوگی ۔ پشاور کے کپتا ن نے کہا کہ کوئٹہ اچھی ٹیم ہے لیکن ہمارے پاس بھی اچھے کھلاڑی ہیں۔ شین واٹسن ہمارے لئے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وہ پورے ٹورنامنٹ کے دوران ہمارے لئے درد سر رہے تاہم انہیں بر وقت قابو کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں خود بولنگ نہیں کر پا رہا لیکن ہماری ٹیم میں ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والا بولر حسن علی موجود ہے اور اس کے ساتھ وہاب ریاض کی موجودگی ہمارے لئے بہترین ثابت ہوگی جبکہ اسپنرز بھی پوری طرح تیار ہیں۔ ایک سوال پرڈیرن سیمی نے کہا کہ مصباح ہماری ٹیم کی خوبصورتی ہیں اور ان کا تجربہ بہت اہمیت رکھتا ہے تاہم زلمی کسی ایک کھلاڑی پر نہیں انحصار نہیں کر رہی اور ٹیم کی طرح کھیلے گی۔ خود میری پرفارمنس بھی اہم ہو گی کیونکہ پشاور زلمی کو میری ضرورت ہے۔ پی ایس ایل کے حوالے سے ان کہنا تھا کہ اس لیگ میں بولنگ کا معیار بہت اعلیٰ ہے۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ پورے ایونٹ میں ہماری ٹیم اچھا کھیلی اب ہم تیسری مرتبہ فائنل کھیلنے جارہے ہیں اور کامیابی کیلئے پرامید ہیں ۔کوشش ہوگی کہ ناکامیوں کی ہیٹ ٹرک نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ٹاس میچ کے نتیجے پر اثر انداز ہوگا جبکہ 190 رنز اسکور کرنے والی ٹیم کو برتری حاصل ہوسکتی ہے۔ سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ میچ میں ابتدائی بیٹسمین اہم کردار ادا کریں گے۔ شین واٹسن اور عمر اکمل ہمارے مرکزی بیٹسمین ہوں گے جبکہ احسان علی اور احمد شہزاد سے بھی امیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کی خوبیوںاور خامیوں سے واقف ہیں تاہم نیشنل اسٹیڈیم کی گراونڈ کی  باونڈری میں اضافے کے بعد بولرز اور بیٹسمین خوش ہیں اور کھیل یکطرفہ ہونے کا تاثر ختم ہو گیا ہے۔ سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ آئندہ برس پی ایس ایل 5 پاکستان میں ہی ہونا چاہئے کیونکہ کرکٹ کا جو معیار پاکستان میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ویسا امارات میں نظر نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کراچی میں کرکٹ ہوگی تو ملک میں کرکٹ ہو گی۔ شائقین کا جوش و خروش ہمارے حوصلے بھی بڑھا دیتا ہے۔
کھیلوں کی  مزید خبریں اور تجزیئے پڑھنے کیلئے واٹس ایپ گروپ" اردونیوز اسپورٹس" جوائن کریں
 

شیئر: