”میں اب اتنی اکیلی ہو گئی ہوں::کہ خود اپنی سہیلی ہو گئی ہوں“

 محمد عامل عثمانی۔ مکہ مکرمہ
   
گزشتہ صدی میںاگر ہم دیکھتے ہیں تو اردو شاعری میں خواتین کا رجحان کچھ زیادہ نظر نہیں آتا۔ اگر اس حوالے سے موجودہ صدی کا جائزہ لیا جائے تو اردو ادب میں خواتین کا رجحان بہت زیادہ نظرآرہا ہے۔پاکستان بننے سے پہلے علی گڑھ میں خواتین کے ماہنامے نکلتے تھے۔ نثر، نظم، غزل ہر موضوع پر کام ہوتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد اس میں بہت زیادہ کام ہوا ہے۔ شاعرات میں 8،10 بڑے نام ہیں جنہیں دنیا جانتی ہے۔ شاعری کے حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ مشاعروں میںزیادہ شرکت کرنا بھی ضروری نہیں ۔ خاندانی رسم ،رواج اور اقدار کو دیکھتے ہوئے وہ پسند نہیں کرتیں کہ کھلے عام مشاعرے میںکلام پڑھیں۔ اسی ماحول اور گراں قدر خاندانی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے مجھے سعدیہ سراج بھی بہت نمایاں نظر آتی ہیں۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو اسی ماحول میں رہتے ہوئے دوام بخشا۔ سعدیہ سراج نے گھر ، شوہر اور بچوں کو مکمل توجہ دیتے ہوئے اپنی ادبی صلاحیت کو اجاگر کیا، بس یہ کمال کیا ۔وہ درجہ بہ درجہ اپنی صلاحیت کو بڑھاتی بھی رہیں۔ سعدیہ ایک عرصہ جدہ میں رہیں ۔ وہ اپنے گھر میں ادبی نشستوں کا اہتمام کرتی تھیں۔ اب وہ کراچی جا چکی ہیں۔ وہاں کا ماحول مختلف ہے۔ ادب کے حوالے سے وہ بہتر کام کر سکیں گی۔
     پروین شاکر کہتی تھیںکہ عورت اگر شاعری کرے تو اپنی صنف کے لحاظ سے کرے۔ مردانہ شاعری کا بالکل الگ انداز ہے۔ میں نے سعدیہ کا کلام پڑھا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ سعدیہ سراج کے کلام میں نسوانی رنگ نظر آیا ہے جسے ہم خصوصیات میں شمار کریں گے۔ سعدیہ کی کتاب کو اس دور حاضر کے مطابق بے حد پذیرائی ملے گی۔یہ کتاب پسندیدگی کی سند حاصل کرے گی۔
     شعر کہنا بہت بڑی خوبی ہے۔ شاعر کا کمال ہے کہ ایسی بات اسکے ذہن میں آتی ہے جس پر مضامین لکھے جا سکتے ہیںگویا ایک شعر میں پوری کائنات سمو لی جاتی ہے۔شاعر جتنا فطرت میں کھو سکتا ہے، وہ اتنا بہترآﺅٹ پٹ دے سکتا ہے۔سعدیہ سراج کا شعری مجموعہ” بھنور میں رقص“مجھے کراچی سے چند ہی دن قبل مکہ مکرمہ میں موصول ہوا ہے ۔160 صفحات کا یہ مجموعہ حمد شرےف، نعت طیبہ، غزلیات، نظم، متفرق اشعار اور قطعات پرمشتمل ہے۔ اس پر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدلقدیر خان نے دنیا ئے ادب کی معتمد شخصیات نے اپنے اپنے تاثرات قلم بندکئے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدلقدیر خان کا کہنا ہے کہ جدہ میں میری ملاقات ذہین اد یبہ اور شاعرہ محترمہ سعدیہ سرااج سے ہوئی۔ اسوقت وہ مقامی اخبار سے منسلک تھیں اور بہت اچھے کالم لکھتی تھیں ۔چند دن پہلے انہوں نے فون کرکے پرانی یادیں تازہ کیں۔انہوں نے اپنی شاعری کی کتاب”‘ بھنور میں رقص“ مجھے روانہ کی۔ یہ کتاب اعلیٰ کلام کا مرقع ہے۔کتاب کی مناسبت سے آپکا یہ شعر بہت پیارا ہے:
اب سمندر ہے طیش میں ورنہ
 ساحلوں تک بھنور نہیں آتے
    یہ شعر بھی نہایت قابل ستائش ہے:
آجکل چاہتوں کے رشتے بھی
 دل میں پیدا خلا ہی کرتے ہیں
    ان کے لئے کہنا چاہتا ہوں کہ:
خط انکا بہت خوب، عبارت بہت اچھی
 اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
    
امجد اسلام امجد لکھتے ہیں کہ سعدیہ سراج جی نثر کا خوشگوارتاث©ر تو قائم تھا ہی مگر اب ان کی شاعری کے مطالعے نے اس میں جن رنگوں کا اضافہ کیا ہے ان کی خوبصورتی اپنی جگہ ایک نیا منظر ہے ۔وہ دنیا کو اپنی نظر سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی آنکھ سے دیکھنے اور سمجھنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیںجس کا احساس ان کی کتاب” ‘ بھنور میں رقص “ میں جگہ جگہ ہوتا ہے ۔انکے اشعار قدم قدم پرقاری کا رستہ روکیں گے ۔ سعدیہ سراج کے اس شعری مجموعے میںدیگر معتبر ادباءاعتبار سا جد، تسلیم الٰہی زلفی ، صفور اخیری ، راجہ اسحق اور حمیرا راحت نے بھی اپنے تاثرات لکھے ہیں ۔
    معروف بینکر، ادیب، شاعر اورنثر نگار اکرم کنجاہی نے بڑی تفصیل سے شاعرہ کے مجموعہ کلام پر تاثرات قلم بند کئے ہیں ، وہ لکھتے ہیں کہ:
    چند دن پہلے محترمہ سعدیہ سراج کا شعری مجموعہ ”بھنور میں رقص“ بذریعہ ڈاک موصول ہوا۔ کتاب کے تناظر میں شاعری کا جائزہ قارئین کی نذر:
    ”مشرقی عورت کی کتھا (بھنور میں رقص)،تنقید نگار اکرم کُنجاہی
    پنجاب یونی ورسٹی میں مبشر اقبال صدیقی ہمارے ایک مشترکہ شاعر دوست سے اکثر کہا کرتا تھاکہ ”پیارے ہمیں تمہاری بیماری ہی نہیں اس کا علاج بھی معلوم ہے مگر ہم پریشان ہیں کہ تمہیں بچائیں یا تمہارے فن کو۔سو ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ تمہارے زخم تازہ رہنے دئیے جائیں تاکہ تمہارا فن زندہ رہے۔“محترمہ سعدیہ سراج کے شعری مجموعے ”بھنور میں رقص“ میں یہ شعر نظر نواز ہوا تو میں بھی سوچ میں پڑ گیا کہ شاعرہ کو کیا دعا دی جائے:
تھپک تھپک کے سلایا ہے دل کے زخموں کو
خدا کرے کہ انہیں جاگنا نصیب نہ ہو
    زخم جاگیں تو شاعری کا چمن زار مہکتا ہے۔جب جب ٹیسیں اٹھتی ہیں،شاعر کے لب و لہجے میں گداز پیدا ہوتا ہے۔دکھتی رگوں کے ساز سے فضا میں بکھرنے والے نغمے ہی پر تاثیر ہوتے ہیں اور قارئین کے دلوں کی دنیا کو بھی درد آشنا کر دیتے ہیں۔معاصرتانیثی ادب میں تانیثیت نہ ہو تو مجھے حیرت ہوتی ہے۔اس لئے کہ ہمارے سماج اور معاشرے کی ترکیب بڑی خاص ہے۔یہاں عورت کے حقوق و فرائض کی نوعیت بھی بڑی خاص ہے لہٰذا مرد اساس معاشرے میں پاکستانی شاعرات اگر صنفِ نازک کے مسائل پر بات نہیں کریں گی تو فکر و فن سے انصاف نہیں کرسکیں گی۔
اسے بھی پڑھئے:”محبانِ سلیمان خطیب و اسلم بدر“ کے زیر انصرام شعری بزم کا اہتمام
    اگر فرانس کی دانش ور سیمون دبوار عورت کو ”صنف ثانی “ محسوس کرتی ہے تو ہمارے مرد اساس اور پدر سری معاشرے میں صنفی تعصب کے بارے میں تو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔ سعدیہ سراج اپنی ایک نظم ”کربِ نسوانیت“ میں عورت کے ذہنی و جسمانی استحصال پر بات کرتی ہیں۔اپنی ایک غزل کے اشعار میں انہوںنے عورت کی خدمت اور وراثت جیسے اہم مسئلے پر بھی بات کی ہے۔ مطلع میں اس واقعہ کا درد مندی سے ذکر کیا ہے کہ جس میں ایک معصوم کلی زینب شہرقصور میں درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی:
آج کمزور کی طاقت پہ بھی کچھ بات کرو
بیٹی زینب کی حفاظت پہ بھی کچھ بات کرو
مجھ سے ہر دور میں خدمت کا تقاضا ہی کیا
تم پہ لازم ہے وراثت پہ بھی کچھ بات کرو
مجھ سے شکوہ کہ تھکن اوڑھ کے میں ملتی ہوں
کاش تم میری اطاعت پہ بھی کچھ بات کرو
   
سعدیہ نے غزل و نظم دونوں میدانوں میں کامیابی سے طبع آزمائی کی ہے۔دونوں اصناف ایک ہی طرح کے ذائقے سے آشنا کرتی ہیں۔فکری و اسلوبیاتی سطح پر ان کا اظہار ایک سا ہے۔بیان کی وسعتوں اور صداقتوں کا احاطہ کرنے کے لئے انہوں نے معریٰ، آزاد اور نثری نظم میں طبع آزمائی کی ہے تا کہ نظم کی لچکدار ہیئت سے استفادہ کر سکیں۔ ایک طرف کچّی عمر کے بے تعبیر خواب ہیں،جذباتیت ہے۔وہ خواب دیکھنا چاہتی ہیں، دیکھتی ہیں، سنہری سپنوں میں کھو ئی رہتی ہیں، تعبیر کی آسودگی کی خواہش مند بھی ہیںمگر تعبیر سے خوف زدہ بھی ہیں۔اگرچہ وہ بھی چاہتی ہیں کہ بے رنگ آنچل میں ستارے ہوں۔ خواب و خواہشات کے حوالے سے اس کی ایک ہی فضا میں کہی گئی ایک غزل اہم ہے۔ مطلع ملاحظہ کیجیے:
تم مرے گاو¿ں میں آو¿ گے مرے راجکمار
مجھ کو دلہن بھی بناو¿ گے مرے راجکمار
 
مگرپختہ عمری کے اپنے تقاضے ہیں جو مشاہدات و تجربات سے کشید کئے گئے ہیں۔اب وہ مشرقی معاشرے کی ایک ذمہ دار خاتون ہے ، جو ماں بھی ہے۔وفا دار بیوی بھی ہے لہٰذا فرائض نا پختہ عمر کی جذباتیت پر حاوی آ جاتے ہیں۔یوں ان کی نظموں سے ایک مشرقی عورت کی زندگی کے خد و خال سامنے آتے ہیں۔ان کی نظم ”نیند لازم ہے“ کی آخری دو لائنیں توجہ طلب ہیں:
”گر کبھی نیند میں کچھ خواب چلے آتے ہیں
میرے بچے مجھے اس وقت جگا دیتے ہیں“
    وہ خواب جو پہلے وہ تکیے کے نیچے چھپایا کرتی تھیں، اب وہ تکیے میں دفن ہو چکے ہیں۔اس انبار پر اکثر ان کی آنکھیں رتجگوں میں احتجاج بھی کرتی ہیں۔ایک شاعرہ کی حیثیت سے ان کے ہاں محبت،بے وفائی ،ہجر،تنہائی، اداسی، انتظار، وصل کی نا حاصلی الغرض محبت کے کئی شیڈز ہیںجن سے تخلیق پانے والی شعری حسیت کی وجہ سے قاری بھی شریک ہو گیا ہے۔
میں اب اتنی اکیلی ہو گئی ہوں
کہ خود اپنی سہیلی ہو گئی ہوں
کوئی آسیب مجھ میں بس گیا ہے
میں جنگل کی حویلی ہو گئی ہوں
”محبت بس محبت ہے“ ، ”ساتھی کہاں ہو“ ، نظم ”آہ ! میری آنکھیں “ میں اپنے مسیحا کی منتظر ۔سعدیہ سراج اپنی نظم ”مجھے کچھ دیر جینے دو“ میں بے وفائیوں پر شکوہ کناں ہیں۔نظم ”ندامت“ میں لکھتی ہیں:
کتنی صدیاں بیت گئی ہیں اُن کی راہ کو تکتے تکتے
آنکھیں اب تک زندہ ہیںاور خواب مرے شرمندہ ہیں
    
آج کا انسان بہت مظلوم ہے اور یہ مظلومیت ٹیکنالوجی کے ذریعے ا±س نے خود اپنے اوپر مسلط کی ہے۔ تنہائی اس کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہر آدمی دوسرے کے اسٹیٹس سے بے خبر فیس بک پر اپنا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اپنے پاس بیٹھے لوگوں سے بے خبر اسمارٹ فون پر ہزاروں میل دور بیٹھے کسی اجنبی سے چیٹ میں مگن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے زخم نہ دیکھ پاتے ہیں اور نہ ہی درد میں ڈوبی کسی کی آواز سن سکتے ہیں۔اس اہم موضوع پرسعدیہ کے ہاں کئی خوبصورت نظمیں موجود ہیں۔ اپنی نظم ”بے حسی“ کے چند مصرعوں میں کہتی ہیں:
یہ چیخ جو میرے اندر ہے
کیوں سب اس سے انجانے ہیں
احساس کے موٹے پردوں سے
آواز کب باہر آتی ہے
    اسی طرح نظم” اثاثہ “سے اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
سننے والے تجھے خبر بھی ہے
زخم کی کوئی لے نہیں ہوتی
 اس کی آواز بھی نہیں ہوتی
 اس کو سننے کی آرزو نہ کر
 اس کو چھونے کی جستجو نہ کر
    
فرد معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔آج کاسب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان کا انسان سے اعتماد اٹھ چکا ہے لہٰذا بے لوث محبت کی جگہ مفادات اور موقع پرستی نے لے لی ہے۔سعدیہ نظم ماں جایا میں لکھتی ہیں :
ایسے بھی لوگ مرے ساتھ رہے ہیں اب تک
بات بے بات بہانے سے مجھے توڑا ہے
ہاتھ پاو¿ں باندھ کے صحرا میں مجھے چھوڑا ہے
    
ایک طرف یہ دنیا دار ہیں۔خود غرض، لالچی، اچھے موسموں کے ساتھی جن کے منافقانہ کردار پر سعدیہ سراج نے لکھا ہے اور دوسری طرف خلوص کے رشتے بھی ہیں۔ان رشتوں کی سچائی پر بھی ان کا ایمان ہے۔”ماں جایا “ میں انہوںنے اپنے بھائی کی محبت کو نظم کیا ہے۔ وہ چونکہ ماں کی بے پایاں محبت پر اٹل یقین رکھتی ہیں ، اس لئے ان کی نصیحت کا ذکر کرتی ہے اور وہی نصیحت اپنی بیٹیوں تک منتقل کرنا چاہتی ہیں۔نظم ”بول کہ لب آزاد ہیں تیرے“ملاحظہ ہو:
”بیٹا، اپنے ہونٹ بند رکھنا، اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھنا
 پیاری امی یہی نصیحت میں نے اپنی بیٹیوں کو بھی کی ہے
تم سے ٹکرانے سے ڈر جاتے ہیں طوفاں اکثر
اپنی ماو¿ں کی عبادت پہ بھی کچھ غور کرو
    
شبنم شکیل ”شب زاد“ میں کہتی ہیں کہ بچپن سے سب سہنے کی عادت ماں نے ڈالی تھی۔انکے مجموعہ کلام اضطراب کا ایک شعر بھی دل چسپی سے خالی نہیں ہو گا:
میرا گھر بھر میرے بچوں کی ہنسی سے گونجے
کبھی فرصت ہو میسر تو اتاروں میں نظر
    
سعدیہ سراج بھی ایک ماں ہیں۔ بچے ان کی حقیقی زندگی کا محور و مرکز ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ کاش کوئی ایسا ”لاکر“ بھی ہوتا جس میں ، میں اپنی ساری دعائیں دنیا میں رکھ جاتی۔ میرے بچوں کو جب ضرورت پڑتی وہ حسبِ ضرورت دعا کا استعمال کر لیتے۔ ماں کی حیثیت سے محبت کے اظہار کا یہ بالکل منفرد انداز ہے۔وہ اپنے آنسوو¿ں میں ارد گرد کی دنیا کا عکس دیکھتی ہیں۔ یوں ان کے ہاں رواداری و تہذیب کے ساتھ ساتھ اپنے عہد اور اس کے ہر آشوب کا گہرا شعور بھی موجود ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں کہ چراغ روشن کرنا ہی کام نہیں اسے ہواو¿ں سے بچانے کی تگ و دو بھی تمام عمر ہماری قسمت میں ہوتی ہے۔انہوں نے انسان اور ہستی کے مسائل کا ادراک بھی کیا ہے۔دنیا اور اس کے تضادات کا مشاہدہ کیا ہے اور دل کے گداز میں گندھے ہوئے اشعار صفحہ قرطاس پر منتقل کئے ہیں۔ اگرچہ یہ ان کا بنیادی رنگ نہیں اور ایسے اشعار کی تعداد بھی زیادہ نہیں مگر اِن اشعار نے مجموعہ کلام کو نفسی آپ بیتی نہیں بننے دیا:
سرخ ہونٹوں پہ تو مرتے ہیں سبھی حسن پرست
زرد ہونٹوں کی نقاہت پہ بھی کچھ بات کرو
٭٭٭
تصورات کی دنیا فقط ہماری ہے
تمہیں تو جاگتا جیتا جہان دے دیا ہے
٭٭٭
نہ ربط دور کا تھا اور نہ کچھ قریب کا تھا
فسانہ یہ ہے کہ بیٹا بہت غریب کا تھا
وہ چند سکوں میں نیلام ہونے والا تھا
تو میں نے بولی بڑھا دی کہ گھر غریب کا تھا
    
ہماری بد نصیبی ہے کہ ارضِ خدا داد میں قدرت کی بے شمار نعمتیں میسر ہونے کے باوجود ہم معاشی، معاشرتی ، سیاسی اور سماجی بھنور اور بگولوں سے باہر نہیں آ پاتے۔ہم میں سے اکثر تمام عمر ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔آخر میں کولہو کے بیل کی طرح جہاں سے چلتے ہیں وہیں کھڑے ہوتے ہیں اور جیسے سعدیہ سراج نے اپنی نظم ”بھنور میں پاو¿ں“ میں کہا ہے :
”پھر یوں ہوا کہ پاو¿ں بھنور میں ہی رہ گئے“
    
یہ بھنور ، جن کو شعراءو شاعرات بگولوں کا نام بھی دیتے ہیں، در اصل زندگی کی الجھنیں ہیں جو تمام عمر دامن گیر رہتی ہیں۔ مختصر یہ کہ سعدیہ سراج کے تازہ مجموعہ کلام ”بھنور میں رقص“ میں زخموں کی نمائش کا شاعرانہ سلیقہ دکھائی دیتا ہے۔ان کے ہاں کوئی چونکا دینے والی ترکیب سازی،علامتوں کا جہانِ معانی، کومل استعارے اور تشبیہات نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ اس لئے کہ انہوںنے اپنے سادہ اسلوب سے زندگی کے امیجز کی خوب عکاسی کی ہے۔ ان امیجز کا تعلق ان کے شعارِ زیست ہی سے تو ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاعرات کے ہاں ہمیں اجتماعی طور پر علامتی اظہار کی پیچیدگی اور ابہام دکھائی نہیں دیتا جو راشد اور میرا جی کے ساتھ مخصوص تھا۔وہ سارہ شگفتہ کی طرح دردِ دل کا ماجرا تو کہتی ہیں۔ایمائیت، رمزیت اور تشبیہ و استعارے کم ہونے سے ممکن ہے ان پر بھی سپاٹ اسلوب کا الزام آئے جو سارہ شگفتہ پر تھا مگر ایک فرق ہے ، وہ یہ کہ سعدیہ سراج کا پیرایہ خالص نثری بھی نہیں، معریٰ اور آزاد بھی ہے اور پھر یہ کرخت بھی نہیں ، شعریت سے بہر حال مملو ہے۔ سارہ کے حالات کی وہ تلخی کلام میں در آئی تھی جس نے معاشی اور معاشرتی حقیقتوں سے جنم لیا تھا۔سعدیہ سراج کے ہاں جذبوں کی شکست و ریخت تو موجود ہے مگر انہیں وہ حالات درپیش نہیں رہے جنہیں سارہ کی طرح ”موت“ اور ”دودھ“ کے تلازمات نے شعری پیرہن عطا کیا ہو،ذاتی واردات کا ترجمان بنا دیا ہو۔سعدیہ کی انفرادی زندگی کے شیڈز ذاتی سے زیادہ ایک مشرقی عورت کی زیست کے گہرے اور دھندلے نقوش ہیں۔
 

شیئر: