Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ‘ ڈیجیٹل ہونے سے اوورسیز پاکستانیوں کو کیا فائدہ ہو گا؟

حکومتی مؤقف کے مطابق ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن پاکستان کے پاسپورٹ نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی وفاقی حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ (ای ٹی ڈی) کے اجرا کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا اعلان کیا ہے، جسے پاسپورٹ اور امیگریشن نظام میں ایک اہم تکنیکی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ وہ عارضی سفری دستاویز ہے جو اُن پاکستانی شہریوں کو جاری کی جاتی ہے جو بیرونِ ملک پاسپورٹ گم ہو جانے، چوری ہونے یا تجدید کے لیے جمع کروائے جانے کے بعد کسی ہنگامی صورتحال میں فوری وطن واپسی پر مجبور ہوں۔
ماضی میں اس دستاویز کے اجرا کا عمل طویل کاغذی کارروائی، دستی تصدیق اور سفارت خانوں اور نادرا کے درمیان سست رابطوں کے باعث تنقید کی زد میں رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد پاکستانی شہری ہفتوں تک غیر یقینی صورتحال میں پھنسے رہتے تھے۔
پاسپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ اب ای ٹی ڈی کے اجرا کا پورا عمل آن لائن کر دیا گیا ہے اور اسے نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا گیا ہے، جس سے شناختی تصدیق اور درخواستوں کی جانچ تیز ہو سکے گی۔
وزارت داخلہ کے مطابق اس اقدام کے ساتھ پاکستانی پاسپورٹ کے سکیورٹی فیچرز کو بھی بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ان اصلاحات سے جعلی دستاویزات، غیر قانونی امیگریشن اور شناخت کے غلط استعمال جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ دراصل اُن پاکستانی شہریوں کے لیے ایک عارضی سفری دستاویز ہوتی ہے جو بیرونِ ملک کسی ہنگامی صورتحال میں اپنا پاسپورٹ کھو بیٹھیں، چوری ہو جائے، ضائع ہو جائے یا جنہیں قانونی، طبی یا امیگریشن وجوہات کی بنا پر فوری طور پر پاکستان واپس آنا ہو۔ یہ دستاویز مستقل پاسپورٹ کا متبادل نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک مخصوص اور محدود مقصد، یعنی وطن واپسی، کے لیے جاری کی جاتی ہے۔

پاسپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ اب ای ٹی ڈی کے اجرا کا پورا عمل آن لائن کر دیا گیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ متاثرہ پاکستانی شہری اُس ملک میں موجود پاکستانی سفارت خانے یا قونصل خانے سے رابطہ کرے جہاں وہ مقیم ہے۔ اگر پاسپورٹ گم یا چوری ہو گیا ہو تو عام طور پر مقامی پولیس میں رپورٹ درج کرانا ضروری ہوتا ہے، جس کی کاپی سفارت خانے کو فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ درخواست گزار کو اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے قومی شناختی کارڈ، نادرا کا کوئی ریکارڈ، یا پرانا پاسپورٹ (اگر دستیاب ہو) پیش کرنا ہوتا ہے۔ اب یہ درخواست آن لائن یعنی ڈیجیٹل طریقے سے بھی دی جا سکے گی۔
درخواست جمع ہونے کے بعد سفارت خانہ یا قونصل خانہ درخواست گزار کی شناخت کی تصدیق کے لیے نادرا اور متعلقہ پاکستانی حکام سے ڈیٹا ویریفکیشن کرواتا ہے۔ حالیہ اصلاحات کے بعد یہ تصدیقی عمل زیادہ تر ڈیجیٹل ذرائع سے مکمل کیا جا رہا ہے، جس سے پہلے کے مقابلے میں وقت کم لگنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ تاہم تصدیق کی مدت درخواست کی نوعیت، دستاویزات کی دستیابی اور کیس کی حساسیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
شناخت کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ جاری کیا جاتا ہے، جس میں عام طور پر ایک محدود مدت اور مخصوص روٹ درج ہوتا ہے۔ یہ دستاویز زیادہ تر صرف پاکستان واپسی کے لیے قابلِ استعمال ہوتی ہے اور اسے کسی تیسرے ملک کے سفر یا طویل قیام کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ بعض ممالک میں امیگریشن حکام اس دستاویز پر خروج (exit) کی خصوصی اجازت بھی دیتے ہیں، جو مقامی قوانین کے مطابق ہوتی ہے۔

یورپی ممالک میں بھی پاکستانی سفارت خانوں کو ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے اجرا سے متعلق دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

حکام کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی سنگین قانونی یا امیگریشن معاملہ زیرِ التوا نہ ہو، کیونکہ ایسی صورت میں ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کا اجرا مؤخر یا مسترد بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح بعض کیسز میں پاکستانی حکام متعلقہ ملک کی امیگریشن اتھارٹیز سے کلیئرنس کے بعد ہی دستاویز جاری کرتے ہیں۔
حکومتی مؤقف کے مطابق ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن پاکستان کے پاسپورٹ نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
وزارت خارجہ سے منسلک قونصلر ذرائع کے اندازوں کے مطابق صرف سال 2025 کے دوران ہزارون پاکستانی شہریوں کو مختلف ممالک میں ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ جاری کیے گئے۔ ان میں سب سے زیادہ کیسز خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور قطر سے رپورٹ ہوئے، جہاں پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے، دستاویزات گم ہو جانے یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری وطن واپسی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
یورپی ممالک میں بھی پاکستانی سفارت خانوں کو ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے اجرا سے متعلق دباؤ کا سامنا رہتا ہے، خاص طور پر ان کیسز میں جہاں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی شہری ان ممالک میں قیام کا قانونی جواز کھو دیں یا ان کی قانونی اپیل مسترد ہونے کے بعد واپسی لازم ہو چکی ہو۔

 

شیئر: