Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کی ناقد ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر پر تقریب میں نامعلوم مواد سے حملہ

امریکہ میں ایک شخص نے تقریر کے دوران ڈیموکریٹ رکن گانگریس الہان عمر پر کوئی نامعلوم مائع مواد پھینک دیا، جس کے بعد سکیورٹی نے اس شخص کو قابو کر لیا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق واقعہ منگل کو ریاست منیسوٹا کے شہر منیاپولس کے ٹاؤن ہال میں اس وقت پیش آیا جب الہان ایک تقریب سے خطاب کر رہی تھیں، اس دوران ایک کالے رنگ کی جیکٹ پہنا ہوا شخص آگے بڑھا اور کوئی مائع چیز ان کی طرف اچھال دی۔
تاہم اس کے ساتھ سکیورٹی کے ایک اہلکار نے اس شخص کو پیچھے سے دبوچ کر زمین پر گرا لیا۔
واقعے کی ویڈیو میں کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’اس نے ان پر کچھ پھینک دیا ہے،‘ تاہم جلد ہی اس کو ہال سے باہر نکال دیا گیا اور الہان عمر نے اپنا خطاب جاری رکھا۔
اس سے تھوڑی دیر قبل الہان عمر نے اپنے خطاب میں یو ایس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کو ختم کرنے اور ہوم لینڈ کی سکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آئی سی ای میں کوئی اصلاح نہیں ہو سکتی۔‘
اگرچہ واقعے کے بعد حملہ کرنے والے شخص کو ہال سے باہر نکال دیا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کون تھا اور کیا اس کو گرفتار کیا گیا، اس حوالے سے منیاپولس کو بھجوائے گئے پیغامات کا فوری طور پر جواب موصول نہیں ہوا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی اس ضمن میں تبصرے کے لیے بھجوائے گئے پیغامات کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ اکثر کانگریس کی رکن الہان عمر کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں جبکہ حالیہ مہینوں کے دوران ان کا لب و لہجہ مزید اس وقت سخت ہوا جب انہوں نے منیاپولس پر توجہ مرکوز کی۔

الہان عمر منیسوٹا سے کانگریس کی رکن منتخب ہوئی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

دسمبر میں کابینہ کے ایک اجلاس میں صدر نے ان کو ’گاربیج‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے دوست بھی گاربیج (کوڑا کرکٹ) ہیں۔
واقعے سے کچھ دیر قبل صدر ٹرمپ نے آئیوا میں ایک خطاب کے دوران الہان عمر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ان کو امیگریشن لینے دے گی جو یہ ثابت کر سکے کہ وہ ہمارے ملک سے محبت کرتا ہے۔
انہوں نے بلند آواز میں الہان عمر کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ’ان کو اس پر الہان عمر کے برعکس فخر ہونا چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ (الہان عمر) ایک ڈیزاسٹر ملک سے آئی ہیں بلکہ میرے خیال میں ہو ملک ہی نہیں ہے۔‘
ساؤتھ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی ریپبلکن رکن نینسی میس نے الہان عمر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ان کے بیانات سے اختلاف رکھتی ہوں، مگر کسی بھی منتخب عہدیدار پر ایسے حملوں کے خلاف ہوں۔‘

منیاپولس میں کشیدگی کے دوران ٹرمپ کا وسط مدتی الیکشن کی مہم کا آغاز


منیاپولس میں امیگریشن ایجنٹس کے ہاتھوں کے دو افراد کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کو سخت تنقید کا سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

  اڈونلڈ ٹرمپ نے سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک عوامی رابطہ مہم شروع کر دی ہے جس میں وہ اپنی حکومت کی بہترین معاشی کارکردگی کا ذکر کر رہے تاہم دوسری جانب وائٹ ہاؤس منیاپولس میں بننے والی صورت حال کے باعث مشکلات کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
 منیاپولیس میں امیگریشن ایجنٹس کی فائرنگ سے دو ہلاکتیں ہو چکی ہیں، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا اور اب بھی احتجاج ہو رہا ہے۔
 منگل کو آئیوا میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ٹیکس کٹوتیوں اور سٹاک مارکیٹ میں بہتری کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا کہ ’اس سے بہت سے لوگ امیر بن ہو گئے ہیں جن میں وہ کچھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو مجھے پسند نہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں منپاپولس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ وہاں صورت حال کو بہتر بنانے کی کسی حد تک کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ اس کا مطلب پُل بیک نہیں ہے۔

 

شیئر: