اتحاد میں انتشارکا خطرہ

***ظفر قطب ، لکھنؤ***
اس وقت ہندوستانی سیاست میں اتحاد سبھی کے لیے اہم ضرورت بن گیا ہے چاہے وہ حکمراں جماعت بی جے پی ہو یا اپوزیشن ہو ۔ بی جے پی بھی اس وقت اپنے آپ کو بے انتہا کمزور محسوس کررہی ہے کہ باوجود اس کے کہ اس کا کم وبیش ایک درجن چھوٹی بڑی پارٹیوں کے ساتھ گذشتہ پانچ برسوں سے اتحاد ہے اور ان کی شرائط پر وہ کام کرتی آرہی ہیں۔غالباً اپوزیشن کے دماغ میں بھی یہ بات آئی کہ سال بھر قبل وہ اس اتحاد پر سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر ایسا نہیں کریں گے تو ان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
 سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کون کس کس پارٹی کا اتحادی ہو جس سے کہ بی جے پی کو آسانی سے شکست دی جاسکے لیکن اس میں بھی یہ پیچ پھنس رہاتھاکہ اس اتحاد کے نتیجے میں کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ بی جے پی کو شکست دیتے دیتے ہمارا وجود خود ہی ختم ہوجائے۔ پھر اس اتحاد اور دشمن کی شکست سے ہمار اکیا فائدہ ؟یہ سب سے بڑا سوال بن کر بی ایس پی کے سامنے کھڑاہوگیاکیونکہ گذشتہ انتخابات میں اس کی حالت سب سے زیادہ خراب ہوئی تھی ۔ ان وجوہ کی بناپر اپوزیشن جماعتوں میں غور وخوض شروع ہوا تو ملک کی تقریباً سبھی سیکولر جماعتوں نے یہ طے کیاکہ ہمارا اتحاد انتہائی ضروری ہے ورنہ بی جے پی جس طرح کی مذہبی منافرت اور علاقائیت کو ہوا دے کر اقتدار پر قبضہ کررہی اس سے کوئی بھی سیکولر جماعت بچ نہیں پائے گی ۔
اس کے باوجود وبھی سیکولر جماعتوں میں ایک دوسرے کے خلاف انجانا خوف کام کرتا رہاجس کی بناپر ترنمول کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں کسی طرح سے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں تھیں تو اسی طرح بی ایس پی اور کانگریس ایک دوسرے دوری بنائے ہوئے تھیں کیونکہ بی ایس پی اور کانگریس کے روایتی ووٹ تقریباایک ہی تھے ۔ دلت اور مسلمان۔
 بابری مسجد قضیہ ابھرنے کے بعد کانگریس نے جو کھیل شروع کیا اس سے مسلمانوں کا بھروسہ کانگریس سے اٹھ گیااور وہ بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی کی طرف چلے گئے۔ رہی بات دلتوں کی تو وہ کانشی رام کی برسوں کی محنت کے بعد ایک اپنا پلیٹ فارم بنانے میں کامیاب ہوگئے اور بہوجن سماج پارٹی نے انہیں وہ وقار بخشا جس کے وہ متمنی تھے لیکن درمیان میں بی ایس پی، بی جے پی اور سماج وادی پارٹی سے اتحاد اور نااتفاقیوں نے ایک بار پھر دلت سماج کو تنہا کر دیا جس کا فائدہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے خاموشی کے ساتھ اٹھا لیا۔ اب جب پھر اتحاد کی بات چلی تو مایاوتی کسی طرح بھی کانگریس کے ساتھ اتحاد پر تیار نہیں تھیں۔ 
اتر پردیش میں کانگریس نے ایس پی،بی ایس پی،آر ایل ڈی اتحاد کیلئے 7 سیٹیں چھوڑنے کا اعلان کیا تو مایاوتی نے صاف کر دیا کہ کانگریس زبردستی یوپی میں اتحاد کیلئے 7 سیٹ چھوڑنے کا واہمہ نہ پھیلائے.انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی ایک بار پھر صاف کر دینا چاہتی ہے کہ اتر پردیش سمیت پورے ملک میں کانگریس پارٹی سے ہمارا کسی بھی طرح کا تال میل اور اتحادبالکل نہیں ہے۔
 اس کے ساتھ ہی انہوں نے صاف کہا کہ ہمارے لوگ کانگریس پارٹی کے آئے دن پھیلائے جا رہے قسم قسم کے مغالطے میں قطعی نہ آئیں۔ بی ایس پی سپریمومایاوتی نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اب کانگریس اتر پردیش میں بھی مکمل طور پر آزاد ہے کہ وہ یہاں کی تمام 80 سیٹوں پر اپنی مرضی سے اپنے امیدوار کھڑا کرکے اکیلے انتخابات لڑے۔ ہمارا اتحادا اترپردیش میں بی جے پی کو اکیلے ہی شکست دینے کیلئے مکمل طور پر اہل ہے۔
بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے بعد ایس پی صدر اکھلیش یادو نے بھی کانگریس کو گھیرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ اتر پردیش میں ایس پی۔ بی ایس پی اور آر ایل ڈی کا اتحاد بی جے پی کو شکست دینے کے قابل ہے۔ کانگریس پارٹی کسی قسم کی کنفیوزن پیدا نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ ہمارااتحاد بی جے پی کو شکست دینے کے قابل ہے۔ 
ان بیانات اور سیاسی اتار چڑھاؤ سے اب یہ خطرہ بھی منڈلانے لگا ہے کہ سیکولر ووٹوںمیں کہیں انتشار نہ پیداہوجائے کیونکہ جس طرح کانگریس نے پرینکا گاندھی کو کل ہند جنرل سیکریٹری کا عہدہ دے کر مشرقی یوپی کی زمام ان کے ہاتھ میں تھما دی ہے تو اس سے یہ خطرہ پیدا ہوگیاہے کہ اس علاقہ کے دلت پسماندہ اور اقلیتی ووٹوں کو آسانی سے پرینکا اپنی جانب کھینچ سکتی ہیں ۔ 
مشرقی یوپی وہ علاقہ رہاہے جو کبھی کانگریس کا مضبوط قلعہ مانا جاتا تھا لیکن یہ علاقہ دوسری پارٹیوں کے ہاتھ میں جانے کے بعد انتہائی پسماندہ ہوتا چلا گیا جس کا نتیجہ ہے کہ بنارس جیسی پارلیمانی سیٹ جو وزیراعظم نریند رمودی کا حلقہ ہے وہاں کے عوام میں زبردست بے اطمینانی پائی جاتی ہے اور سب سے زیادہ وہی مودی کے شاکی ہیںکہ انہوں نے کیا کچھ نہیں صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہے اور 5برس تک سیاسی جملے بازی سے اپنا کام چلا لیا ایسے میںبنارس کے آس پاس کی پارلیمانی سیٹیں بھی بری طرح اپوزیشن کی جھولی میں جانے کیلئے بے قرار ہیں ۔
 اب سوال پیداہوتاہے کہ یہاں کے عوام کو کون کتنی آسانی سے اپنی طرف کھینچ لے گاکیونکہ ابھی تک بی ایس پی ، سماج وادی پارٹی اور آر ایل ڈی کے اتحاد نے یہاں انتخابی مہم شروع نہیں کی ہے جبکہ پرینکا گاندھی کئی د ورے کر چکی ہیں۔ ایسے میں خطرہ یہ پیدا ہوگیاہے کہ سیکولر ووٹ کہیں منتشر نہ ہوجائیں اور ایک بار پھر سیکولرزم کے خلاف فرقہ پرستوں کا محاذ بازی نہ مار لے جائے۔ 
یہ بھی پڑھیں:بابری مسجد اور ثالثی پھر بھی بات نہ بنی تو ؟
 

شیئر: