پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کا بڑھتا رُجحان، وجہ کیا ہے؟
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کا بڑھتا رُجحان، وجہ کیا ہے؟
جمعہ 24 جولائی 2026 6:10
زین علی -اردو نیوز، کراچی
پاکستان میں میڈیم سائز سیڈان اور کراس اوور ایس یو ویز کی قیمتیں 85 لاکھ سے 1 کروڑ 30 لاکھ روپے تک ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے آٹو سیکٹر میں ایک بڑی اور نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ روایتی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایندھن کے ماہانہ بھاری اخراجات کے باعث ملک میں الیکٹرک گاڑیاں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
اسی سلسلے میں حال ہی میں کراچی کی بندرگاہ پر بحری جہاز کے ذریعے پہلی بار 2000 کے قریب الیکٹرک گاڑیاں پاکستان پہنچائی گئی ہیں، جسے ملکی آٹو مارکیٹ کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
اس بڑی درآمد کے بعد جہاں ایک طرف گاڑیوں کی خرید و فروخت سے وابستہ افراد اسے خوش آئند قرار دے رہے ہیں وہیں دوسری طرف ملک میں بنیادی ڈھانچے اور چارجنگ کی سہولیات سے متعلق نئے سوالات اور خدشات بھی سامنے آرہے ہیں۔ مارکیٹ میں طلب اور گاڑیوں کی قیمتیں
اس وقت کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں خریدار پیٹرول کے بھاری اخراجات سے بچنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے آپشن کو ترجیح دے رہے ہیں۔
مارکیٹ میں مختلف کیٹیگریز کی گاڑیاں دستیاب ہیں، جن میں شہر کے اندر روزمرہ استعمال کے لیے موزوں چھوٹی چینی اور مقامی اسمبل شدہ گاڑیوں کی قیمت 40 لاکھ سے 65 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
اس کے علاوہ میڈیم سائز سیڈان اور کراس اوور ایس یو ویز، جو ایک بار مکمل چارج ہونے پر 300 سے 400 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہیں، ان کی قیمتیں 85 لاکھ سے 1 کروڑ 30 لاکھ روپے تک ہیں۔
پاکستان میں عالمی برینڈز کی پریمیئم اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی قیمت 2 کروڑ سے 4 کروڑ روپے یا اس سے بھی زیادہ تک جا پہنچتی ہے۔
آٹو سیکٹر کے ماہر محمد فواد علی خان نے اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی پورٹ پر ایک ساتھ 2000 الیکٹرک گاڑیوں کی آمد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان میں ای وی کلچر اب محض ایک خیال نہیں بلکہ عملی حقیقت بن چکا ہے۔‘
ماہرین کے نزدیک کراچی بندرگاہ پر 2000 الیکٹرک گاڑیوں کی آمد ماحول دوست ٹیکنالوجی کی طرف اہم پیش رفت ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ان کے مطابق ’دنیا کی بڑی آٹو کمپنیاں اب پاکستان کو ایک اُبھرتی ہوئی مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہی ہیں، تاہم صرف گاڑیاں منگوا لینا کافی نہیں ہے۔‘
محمد فواد علی خان نے زور دیا کہ ’اگر حکومت نے فوری طور پر مقام سطح پر چارجنگ سٹیشنز اور بیٹری ری سائیکلنگ سے متعلق مضبوط پالیسی نہ بنائی تو یہ رُجحان متاثر ہو سکتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کو اس وقت سستی اور مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی بھی اس سے مستفید ہو سکے، جس کے لیے حکومت کو ٹیکسوں میں کمی اور مقامی بیٹری پلانٹس کے لیے مُراعات دینا ہوں گی۔‘
کراچی میں الیکٹرک گاڑیوں کی خرید و فروخت کرنے والے ڈیلر حافظ حارث قاسم نے بتایا کہ ’پہلے لوگ الیکٹرک گاڑی خریدنے سے کچھ جھجھکتے تھے، لیکن اب صورت حال مختلف ہے۔’
’اب شورُومز پر خریداروں کی آمد اور معلومات لینے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ حساب لگا رہے ہیں کہ مہنگے پیٹرول کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑی کے استعمال سے ماہانہ بنیادوں پر کتنی بچت ممکن ہے۔
چھوٹی چینی اور مقامی اسمبل شدہ گاڑیوں کی قیمت 40 لاکھ سے 65 لاکھ روپے کے درمیان ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
تاہم انہوں نے ایک اہم چیلنج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’گاڑیوں کی طلب کے باوجود سب سے بڑا مسئلہ اُن کی بیٹری اور سپیئر پارٹس کی دستیابی کا ہے۔‘
حافظ حارث قاسم کے مطابق ’جب تک مقامی مارکیٹ میں ان گاڑیوں کے سپیئر پارٹس عام نہیں ہوتے اور باقاعدہ ورکشاپس نہیں بنتیں، تب تک لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔‘ الیکٹرک گاڑی مالکان کیا کہتے ہیں؟
پاکستان میں الیکٹرک گاڑی استعمال کرنے والے ای گاڑیاں استعمال تو کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ان کے ذہنوں میں کچھ خدشات بھی موجود ہیں۔
کراچی کے رہائشی عدنان احمد جو گذشتہ چند ماہ سے الیکٹرک گاڑی چلا رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ ’شہر کے اندر سفر کے لیے یہ بہترین سواری ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’پہلے میرا پیٹرول کا ماہانہ خرچ 60 سے 70 ہزار روپے تھا جو اب گھر پر چارجنگ کے باعث بجلی کے بل میں صرف 12 سے 15 ہزار روپے آتا ہے، جبکہ گاڑی کا کوئی شور نہیں ہے اور نہ ہی بار بار انجن آئل یا فلٹر بدلنے کی جھنجھٹ ہے۔‘
دوسری طرف میرپور خاص کے عمران ملک کام کے سلسلے میں مختلف شہروں میں آنا جانا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’شہر میں تو گاڑی بہترین ہے، لیکن جب کراچی سے اندرون سندھ یا پنجاب کا سفر کرنا ہو تو چارجنگ کی فکر لگی رہتی ہے۔‘
کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’ہائی وے کے چارجنگ سٹیشنز پر اکثر رش ہوتا ہے اور گاڑی چارج ہونے میں 45 منٹ سے ایک گھنٹہ لگتا ہے، جس کی وجہ سے طویل سفر میں تاخیر اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے سامنے درپیش چیلنجز
ماہرین کہتے ہے کہ ’پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو عام اور پائیدار بنانے کے لیے چند بنیادی مسائل کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے۔‘
سب سے بڑا مسئلہ شہروں کے اندر اور خاص طور پر قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر فاسٹ چارجنگ نیٹ ورک کی شدید کمی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ملک میں بجلی کا بحران، لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے فی یونٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی خریداروں کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔
اس کے علاوہ عام پاکستانی کی قوتِ خرید کے مقابلے میں ان گاڑیوں کی ابتدائی قیمت کا زیادہ ہونا، جدید ٹیکنالوجی کو سمجھنے والے ماہر ٹیکنیشنز اور ورکشاپس کی کمی جیسے مسائل بھی ہیں۔
ماہرین کے خیال میں 8 سے 10 سال بعد بیٹری کی مہنگی تبدیلی اور پرانی بیٹریوں کو تلف کرنے کے محفوظ نظام کا نہ ہونا بھی ایسے چیلنجز ہیں جن پر قابو پانا باقی ہے۔
ایک الیکٹرک گاڑی کے مالک کا کہنا ہے کہ ’مجھے پیٹرول کی مد میں ماہانہ 40 ہزار روپے کی بچت ہو رہی ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
کراچی بندرگاہ پر 2000 الیکٹرک گاڑیوں کی آمد اس بات کی واضح نشانی ہے کہ پاکستان کا آٹو سیکٹر جدید اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی طرف پیش رفت کر رہا ہے۔
معاشی اور آٹو ماہرین کے مطابق اگر حکومت پاکستان نے الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی پر رُوح کے مطابق عمل درآمد کیا اور مقامی سطح پر گاڑیوں کی اسمبلنگ اور چارجنگ انفراسٹرکچر کو فروغ دیا، تو ملک ایندھن کی درآمد کی مد میں اربوں ڈالر کا قیمتی زرِمبادلہ بچا سکتا ہے۔
فی الحال یہ گاڑیاں ان لوگوں کے لیے ایک بہترین اور منافع بخش انتخاب ہیں جو شہر کے اندر سفر کرتے ہیں اور گھر پر چارجنگ کی سہولت رکھتے ہیں۔
تاہم اسے ایک عام پاکستانی کی پہلی پسند بنانے کے لیے حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کر ابھی مزید طویل سفر طے کرنا ہے۔