Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برخودار بلاول! میرپور خاص نہیں یہ میرپور ہے، لڑائی جھگڑا نہیں ہونا چاہیے: نواز شریف

میاں نواز شریف ان دنوں پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے انتخابات کی مہم پر ہیں (فائل فوٹو: فیس بُک)
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے آمدہ انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ ’بلاول بھائی، آپ میرے برخودار ہیں۔‘
جمعے کو میرپور میں اپنے خطاب کے دوران نواز شریف نے مزید کہا کہ ’بلاول بھائی، نوک جھونک ہوتی رہنی چاہیے لیکن تلخی نہیں ہونی چاہیے، لڑائی اور مار کٹائی نہیں ہونی چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں کشمیر کو اپنا گھر سمجھتا ہوں۔ کشمیر میرا دوسرا نہیں، پہلا گھر ہے۔ جتنا مجھے لاہور عزیز ہے، اتنا ہی کشمیر بھی عزیز ہے۔ یہ کشمور نہیں، کشمیر ہے۔ یہ میرپور خاص نہیں، میرپور ہے۔‘
نواز شریف نے کہا کہ ’بڑے سالوں بعد میں میرپور آیا ہوں۔ اس کو جتنا خوبصورت ہونا چاہیے تھا، اتنا نہیں ہے۔ یہ دیکھ کر دکھ ہوا کہ میرے دور میں جو کام ہوئے، اس کے بعد کچھ نہیں ہوا۔ ہم یہ عہد لے کر آئے ہیں کہ میرپور اور کشمیر کی تقدیر بدلیں گے۔ میرے وزارتِ عظمیٰ سے جانے کے بعد کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ میرے جانے کے بعد یہاں کتنی حکومتیں آئیں، لیکن انہوں نے کوئی کام نہیں کیا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ کام کیوں نہیں ہوئے؟‘
انہوں نے مسلم لیگ ن کے انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کشمیر کے لیے منشور بھی لے کر آیا ہوں۔ مریم آپ کو بتائیں گی کہ پنجاب میں انہوں نے کیا منصوبے بنائے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح نوجوانوں کی تعلیم ہوگی۔ یہاں کالج اور یونیورسٹیاں بنیں گی۔ ہماری ترجیح صحت ہوگی۔ یہاں کے ہر ہسپتال میں وہ تمام مشینیں ہونی چاہئیں جو لاہور اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں موجود ہیں۔‘
انہوں کہا کہ ’مریم آپ کے لیے تحفہ لے کر آئی ہیں۔ مریم یہاں آپ کے لیے وہی الیکٹرک بسیں لے کر آئی ہیں جو لاہور میں چل رہی ہیں۔ کشمیر کے عوام نے کیا قصور کیا ہے کہ یہاں وہ بسیں نہیں چل سکتیں؟ اس کے علاوہ وہ آپ کے لیے 10 ہسپتال آن ویلز بھی لے کر آئی ہیں۔‘
’اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو میں اپنی نگرانی میں منشور پر عمل کرواؤں گا۔ میں مانسہرہ سے مظفرآباد موٹر وے کا منصوبہ لایا تھا، لیکن میرے جانے کے بعد اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ میں مظفرآباد والوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مری جیسی ایکسپریس وے مظفرآباد تک جائے گی۔‘

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی کو شیڈول تھے (فائل فوٹو: فیس بُک)

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہونہار بچوں کو لیپ ٹاپ ملیں گے۔ جیسے پنجاب میں مفت دوائیاں مل رہی ہیں، ویسے ہی کشمیر کے لوگوں کو بھی مفت دوائیاں ملیں گی۔ بچوں کا ہسپتال، کینسر کا ہسپتال اور دل کا ہسپتال بنایا جائے گا۔ میں شہباز شریف صاحب سے ملاقات کرکے ان سے کہوں گا کہ میرپور میں ایک انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنایا جائے۔ میرپور کے گھر گھر میں سوئی گیس ہونی چاہیے۔ لیپہ اور لوہار گلی والے بھی سن رہے ہوں گے، ان کے لیے بتا دوں کہ لوہار گلی اور لیپہ میں ٹنلز بنائیں گے۔ ہونہار طلبہ کو تعلیمی وظائف بھی دیے جائیں گے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی کو شیڈول تھے تاہم بعد میں الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ ’ریاست بھر میں انتخابات مرحلہ وار کروائے جائیں گے۔‘
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے الیکشن کمیشن کے مطابق 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں انتخابات ہوں گے، جبکہ دو اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں انتخابات کروائے جائیں گے۔

شیئر: