آسٹریلیا کی قومی فضائی کمپنی قنطاس کے الٹرا لانگ رینج طیارہ جمعے کو فرانس سے 19 گھنٹے کی مسلسل آزمائشی پرواز مکمل کر کے پہلی بار آسٹریلوی سرزمین پر اترا ہے۔
’دی گارڈئین‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ دنیا کی طویل ترین کمرشل پروازیں چلانے کے مقصد کے تحت تیار کیا گیا ہے۔
ایئربس کا تیار کردہ A350-1000ULR ماڈل فرانس کے شہر طولوز میں واقع مینوفیکچرنگ پلانٹ سے جمعرات کو روانہ ہوا اور قریباً 17 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ بغیر کسی وقفے کے طے کرتے ہوئے جمعے کی صبح میلبورن میں لینڈ ہوا۔
مزید پڑھیں
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار‘کے مطابق اس تاریخی پرواز کی براہِ راست مانیٹرنگ 67 ہزار سے زائد شائقین نے کی جس کی بنا پر یہ جمعے کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹریک کی جانے والی پرواز بن گئی۔
مقامی وقت کے مطابق طیارے نے طولوز سے جمعرات کی صبح 7:33 بجے اڑان بھری اور 19 گھنٹے سے زائد کے سفر کے بعد میلبورن کے وقت کے مطابق جمعے کی صبح 10:46 بجے پہنچا۔
پروجیکٹ سن رائز اور طیارے کی خصوصیات
قنطاس کا یہ نیا جہاز 22 گھنٹے تک مسلسل پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کو ’پروجیکٹ سن رائز‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد سڈنی سے لندن اور نیویارک کے لیے بغیر رکے براہِ راست پروازیں شروع کرنا ہے۔
ایئربس کے مطابق اس ماڈل میں 20 ہزار لیٹر کا اضافی ایندھن کا ٹینک نصب کیا گیا ہے جو اسے 18ہزار 500 کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرنے کے قابل بناتا ہے۔
عام طور پر اے-350 طیاروں میں 300 سے زائد نشستیں ہوتی ہیں تاہم طویل سفر کے دوران مسافروں کے آرام اور وزن کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے قنطاس نے 238 نشستوں والا ڈیزائن منتخب کیا ہے۔
اس آزمائشی پرواز میں ایئربس کے چار ٹیسٹ پائلٹ اور پانچ فلائٹ انجینیئرز شامل تھے۔

یہ طیارہ ہفتے کے اختتام پر میلبورن میں رہے گا جس کے بعد پیر کو واپس فرانس کے لیے روانہ ہو گا جہاں قنطاس کے دو پائلٹ بھی ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔
قنطاس کے چیف ٹیکنیکل پائلٹ الیکس پاسرینی کے مطابق واپسی کا سفر قریباً 23 گھنٹے طویل ہو گا جس کے دوران ایندھن کی منتقلی سے لے کر ایئر کنڈیشننگ کے تمام سسٹمز کی تفصیلی جانچ کی جائے گی۔













