مصر کا نوجوان فرعون” توت عنخ آمون“ پیرس میں

قاہرہ ۔۔۔ مصر کے نوجوان فرعون ” توت عنخ آمون“ کی نمائش کی اطلاع نے یورپی ممالک خصوصاً فرانس کے صحافیوں کے حلقوں میں دھوم مچا دی۔رسمی افتتاح سے قبل ہی فرانس اور دنیابھر کے صحافی نمائش کی تفصیلات جاننے کیلئے جوق در جوق پیرس کے کلچرل کمپلیکس ”لیوی لٹ“ پہنچنے لگے۔1922ءکے دوران برطانیہ کے ماہر آثار قدیمہ ہواڈ کارٹر نے برسہا برس کی جدوجہد ، تلاش اور کھدائیوں کے بعد توت عنخ آمون کا مقبرہ دریافت کیا تھا۔
اس انکشاف کی اہمیت یہ ہے کہ توت عنخ آمون کا مقبرہ فراعنہ کے مقبروں میں واحد ہے جو مکمل اصل حالت میں دریافت ہوا۔ یہ فرعون نوجوانی کے عالم میں مر گیا تھا۔ اسکے حوالے سے بہت سارے اسرار معاشرے میں گردش کررہے تھے۔ اسکا مقبرہ چوروں کی دسترس سے محفوظ رہا۔ اسی وجہ سے توت عنخ آمون کے 4500 نوادر اصلی حالت میں مل گئے۔ 
توت عنخ آمون کا مقبرہ وادی الملوک میں واقع تھا۔ برطانوی ماہر آثار قدیمہ ہواڈ کارٹر نے برسہا برس کی تحقیق کے بعد وادی الملوک میں کھدائیاں کیں اور بالاخر توت عنخ آمون کے ساتھ دفن کی گئیں تمام اشیاءاصلی حالت میں حاصل کرلیں۔ یہ انمول خزانہ ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی۔ توت عنخ آمون کا تعلق فراعنہ کے 18ویں خاندان یعنی کئی ہزار برس قدیم دور سے ہے۔
پیرس میں پہلے بھی فراعنہ کے نوادر کی نمائشیں ہوچکی ہیں۔ 1967ءکے دوران عظیم محل میں ایسی ہی ایک نمائش کا اہتمام دریا کے کنارے کیا گیا تھا۔ اس وقت فرعون کی نمائش دیکھنے کیلئے 1,س241ملین شائقین پہنچے تھے۔ فرانس میں متعین مصری سفیر تہاب بدوی کا کہناہے کہ سابقہ نمائش کو ”صدی کی نمائش“ کا نام دیا گیا تھا۔ امید یہ ہے کہ موجودہ نمائش ”عشرے کی نمائش“ ثابت ہوگی۔ اسکا سلسلہ ستمبر تک جاری رہی گا۔
 
 

شیئر: