ایران میں سرکاری ٹی وی ہیک، انٹرنیٹ پابندی ختم کرنے پر غور
حکومت مخالف مظاہروں کو تین دن کے اندر شدید تشدد کے ذریعے دبا دیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے ایک سینیئر رکنِ پارلیمان نے کہا ہے کی حکومت آئندہ چند دنوں میں ملک بھر میں عائد انٹرنیٹ پابندی ختم کرنے پر غور کر رہی ہے اور انٹرنیٹ بندش کو مرحلہ وار ختم کیا جا سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب حکومتی کنٹرول میں ایک اور کمزوری اس وقت سامنے آئی جب سرکاری ٹیلی وژن کو مبینہ طور پر ہیک کر لیا گیا۔ چند لمحوں کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے آخری شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی تقاریر نشر ہوئیں جن میں عوام کو بغاوت پر ابھارا گیا۔
حکام اور سوشل میڈیا اطلاعات کے مطابق ایران کی سڑکیں گزشتہ ایک ہفتے سے نسبتاً خاموش ہیں۔ دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کو تین دن کے اندر شدید تشدد کے ذریعے دبا دیا گیا تھا۔
ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے، جن میں پانچ سو سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ مغربی ممالک میں قائم ایرانی انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق بھی ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق اتوار کو تہران، جنوبی شہر کرمان اور دارالحکومت کے مشرق میں واقع سمنان میں گرفتاریاں جاری رہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد میں اسرائیلی دہشت گرد گروہوں کے ایجنٹ بھی شامل ہیں۔ تاہم اپوزیشن کا الزام ہے کہ پرامن مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کی گئی، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ غیر ملکی عناصر کے حمایت یافتہ مسلح ہجوم نے حساس تنصیبات پر حملے کیے۔
ادھر انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس کے مطابق قومی سطح پر کنیکٹیویٹی اب بھی محدود ہے، تاہم جزوی طور پر فلٹر شدہ انٹرنیٹ کے ذریعے کچھ پیغامات کی ترسیل ممکن بنائی جا رہی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ سکیورٹی ادارے حالات کا جائزہ لے کر مناسب وقت پر انٹرنیٹ بحال کریں گے۔
