نیتن یاہو کے دفتر نے اس سے قبل کہا تھا کہ انتظامی کمیٹی اسرائیلی حکومت سے مشاورت کے بغیر بنائی گئی اور یہ اسرائیل کی پالیسی کے خلاف ہے۔
اس انتظامی کمیٹی میں ترکیہ بھی شامل ہے جو خطے میں اسرائیل کا ایک اہم حریف سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزالیل سموترچ نے بھی اس بورڈ پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ غزہ کے مستقبل کی ذمہ داری اسرائیل کو اکیلے ہی سنبھالنی چاہیے۔
اس بورڈ میں شامل ہونے والے دیگر ممالک میں متحدہ عرب امارات، مراکش، ویتنام، بیلاروس، ہنگری، قازقستان اور ارجنٹینا شامل ہیں۔
دیگر فریقین جن میں برطانیہ، روس اور یورپی یونین کا انتظامی ادارہ شامل ہے، کا کہنا ہے کہ انہیں دعوت نامے موصول ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر اس موقع پر مذکورہ بورڈ کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔
ابھی تک بہت سے سوالات کے جواب باقی ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ مزید کتنے یا کون سے رہنماؤں کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔
ہر رکن ملک کی مدتِ رکنیت چارٹر کے نافذ ہونے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ تین سال ہو گی (فوٹو: اے ایف پی)
منگل کو جب ایک صحافی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن ہے۔
’اقوامِ متحدہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی اور کبھی بھی اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر سکی۔‘
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوامِ متحدہ کو جاری رہنا چاہیے، کیونکہ اس کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا جو ایک وسیع تر ’بورڈ آف پیس‘ کے تحت کام کرے گا۔ یہ بورڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِصدارت قائم کیا جانا ہے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔
ایگزیکٹو بورڈ کو مشاورتی حیثیت حاصل ہوگی جس میں ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاکان فدان اور قطری سفارت کار علی الثوادی سمیت مختلف علاقائی اور بین الاقوامی شخصیات شامل ہیں۔
روئٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے تقریباً 60 ممالک کو بھیجے گئے ایک مسودہ چارٹر کے مطابق نئے ’بورڈ آف پیس‘ کی رکنیت تین سال سے زیادہ برقرار رکھنے کے خواہاں ممالک کو ایک ارب ڈالر نقد ادا کرنا ہوں گے۔
چارٹر میں کہا گیا ہے کہ ہر رکن ملک کی مدتِ رکنیت چارٹر کے نافذ ہونے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ تین سال ہو گی، جس میں توسیع بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے ممکن ہو گی۔ تاہم یہ شرط ان ممالک پر لاگو نہیں ہوگی جو پہلے سال کے اندر ایک ارب ڈالر سے زائد نقد رقم فراہم کریں گے۔