امارات نے یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے اتحاد کی لیجٹمیسی کا استحصال کیا: گورنر حضرموت
سلام الخانباشی نے تصدیق کی کہ صوبہ حضرموت کو عیدروس الزبیدی سے وابستہ مسلح گروہوں کا سامنا کرنا پڑا۔ (فوٹو: عرب نیوز)
یمن کے صوبے حضرموت کے گورنر سلام الخانباشی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ’یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کی لیجیٹمسی کو اپنے مفادات (یمن میں) کے حصول کے لیے استعمال کیا۔
عرب نیوز کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم سمجھتے تھے کہ متحدہ عرب امارات ہمارے لیے مدد اور تعاون کا ذریعہ بنے گا، لیکن اس کے اقدامات نے ہمیں حیران کر دیا۔‘
سلام الخانباشی نے تصدیق کی کہ صوبہ حضرموت کو عیدروس الزبیدی سے وابستہ مسلح گروہوں کا سامنا کرنا پڑا، جنہیں متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ان گروہوں نے شہریوں کے خلاف جارحیت اور دہشت گردی کی کارروائیاں کیں، جن میں لوٹ مار، اغوا، قتل اور جبری نقل مکانی جیسے جرائم شامل ہیں، اس کے علاوہ سرکاری املاک کو تباہ کیا گیا اور ان کے دفاتر کو لوٹا گیا، جس سے صوبے کی آبادی کے مختلف طبقات کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران گورنر حضرموت نے یہ بھی تصدیق کی کہ یمنی حکومت نے مکلا کے الریان بیس پر اماراتی مشکوک آلات اور سرگرمیوں کا انکشاف کیا ہے، جو نہ تو قانونی حکومت کی حمایت کے لیے قائم اتحاد کے اعلان کردہ اہداف سے مطابقت رکھتی ہیں اور نہ ہی اخوت، اسلام اور عربیت کے اصولوں سے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ برآمد ہونے والے سامان میں تاریں، دھماکہ خیز مواد، ڈیٹونیٹرز اور مواصلاتی آلات شامل تھے، جو ٹارگٹ کلنگ، قتل اور تشدد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الریان ہوائی اڈے کے کیمپ میں ان آلات کی موجودگی کیمپ کی نوعیت اور اس کے فرائض سے مطابقت نہیں رکھتی، بلکہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسے شہریوں کو نشانہ بنانے والے جرائم اور خلاف ورزیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے ہیڈکوارٹرز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
سلام الخانباشی نے مزید کہا کہ دریافت شدہ مواد کی نوعیت اور ان کی تیاری کا طریقہ کار باقاعدہ افواج کے فوجی اڈوں میں استعمال ہونے والے آلات و سازوسامان سے مطابقت نہیں رکھتا، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ اڈہ شہریوں کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ الزبیدی سے وفادار مسلح گروہوں نے جنوبی یمن کے جائز مسئلے کو جنوبی عوام کے خلاف اپنے جرائم چھپانے کے لیے بطور پردہ استعمال کیا، ان کے جائز مطالبات کو نظرانداز کیا اور ایک ایسے اماراتی ایجنڈے کی خدمت کی جس کا مقصد انتشار پھیلانا اور جنوبی مسئلے کے حل کے لیے کسی بھی سیاسی کوشش کو ناکام بنانا تھا۔
گورنر حضرموت نے کہا کہ حالیہ انکشافات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے الزبیدی کو قانونی کارروائی سے بچانے اور جنوبی عوام کے خلاف کیے گئے جرائم اور خلاف ورزیوں پر اس کے خلاف مقدمات سے محفوظ رکھنے کے لیے اسے صومالیہ کے راستے ابوظہبی منتقل کرنے میں کیوں عجلت دکھائی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پیش کیے گئے شواہد سے مکلا شہر میں اماراتی افواج کے زیر انتظام خفیہ جیلوں کے وجود کا بھی انکشاف ہوا ہے، جہاں قانون سے ماورا من مانی حراست، جبری گمشدگیاں اور تشدد کیا جاتا تھا۔
خانباشی نے اس بات پر زور دیا کہ متعلقہ حکام الزبیدی اور ان تمام افراد کے خلاف، جو ان خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں، قانون کے مطابق ضروری قانونی کارروائی کریں گے، اور اس انداز میں کہ شہریوں کے تحفظ اور صوبہ حضرموت کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
