اسراء ومعراج ، اعزاز وتکریم کا ذریعہ

معراج ملت اسلامیہ کے ہرہرفردکے لئے ارتقا کا ذریعہ ہے،ہم  ارتقا کی بلند سے بلند منزل تک رسائی پاسکتے ہیں

    اسراء سے مراد وہ زمینی سفرہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے لئے مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک کے لئے ہموارفرمایاتھا۔ مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک راتوں رات آپ ﷺ  کو زمینی مسافت طے کرائی گئی تھی اورمعراج سے مرادآپ ﷺ  کا وہ سفرہے جوآپ ﷺ  کو زمین سے آسمان تک کروایاگیا تھا۔مرادیہ ہے کہ اس موقع پر آپ ﷺ  کو بیت المقدس سے بلندوبالاآسمانوں تک لے جایا گیا تھااوراس مقام تک پہنچایا گیا تھا جہاں تک آپ ﷺ کے علاوہ کسی بشرکی رسائی نہیں ہوئی تھی اورنہ ہوسکتی ہے پھروہاں سے آپ ﷺ  کو سدرۃ المنتہیٰ لے جایاگیا اس کے بعداللہ ہی جانتاہے کہ آپ ﷺ  کو کہاں کہاں کی سیرکرائی گئی؟
    اسراء اورمعراج کے دونوںاسفار آپ ﷺ کی زندگی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان دونوں سفروں کی ایک عظیم الشان حیثیت واہمیت ہے اورآپ ﷺ کے کاروان دعوت میں ان کو ایک خاص مقام حاصل ہے خصوصاً اس موقع پر جبکہ آپ ﷺ  کو قریش کی قساوت قلبی اور شقاوت نفسانی کے جن دلدوزواقعات سے دوچارہونا تھا ،آپ ﷺ اس سے دوچارہوچکے تھے اوردعوت کی راہ میں آپ ﷺ کو جن ترش رویوں کا سامنا کرنا تھا اس کا سامناکرچکے تھے۔قریش کے سخت وتندرویہ سے جتنا نپٹنا مقدرتھا اس سے نبردآزمائی کرچکے تو اس کے بعدآپ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ’’اہل طائف میں سے قبیلہ ثقیف کے پاس سرسبزی وشادابی، ہریالی وزرخیزی ہے، ہم ان کے پاس بغرض دعوت چلتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہماری زمینوں میں سے زرخیززمین سے انہیں نوازاہے‘‘ مگرقبیلہ ثقیف کے پاس وہم وگمان کے برخلاف معاملہ پیش آیااورانہوں نے جو رویہ اختیارکیا وہ ناعاقبت اندیشی کا رویہ تھا ۔انہوں نے نیکی کا بدلہ انتہائی بد تمیزی سے دیا۔ہوایہ کہ قبیلہ ثقیف کے سرداروں نے اپنے غلاموں،اوباشوں،لچوں،لفنگوں،لوفروں، نیز آوارہ قسم کے بدمعاش جوانوں کوآپ ﷺ کے پیچھے لگاکرہشکادیاجنہوں نے آپ ﷺ  کاتعاقب کرکے آپ ﷺ پر پتھروں کی بارش کردی جس کی وجہ سے آپﷺ کے قدمین مبارک خون آلودہوگئے۔اس موقع سے آپﷺ کے مولیٰ زیدبن حارثہؓ ڈھال بن کرآپﷺ کی مدافعت کرنے لگے اورحتی الامکان وہ اس بات کی کوشش میں رہے کہ پتھرآپ ﷺ تک نہ پہنچ پائیں جس کی وجہ سے آپؓ  کی کھوپڑی پر کئی پتھرلگے اورآپؓ  کی کھوپڑی کئی جگہوں سے بہنے لگی۔
     اسی حالت میں نبی کریم ﷺ زخمی حالت میں شہرطائف سے باہر نکل آئے بایں طورکہ آپ ﷺ کے دونوں پیروں سے خون رس رہا تھا۔اس حال میں آپ ﷺ  کو جس چیزکی کسک دل میں محسوس ہورہی تھی وہ ان پتھروں کی نہیں تھی جس سے آپﷺ  لہولہان ہوئے تھے بلکہ آپﷺ  کادل تو اس قبیلہ کے سرداروں کے ٹکے سے جوابات سے ٹوٹاجارہا تھاجس کی وجہ سے آپﷺ نے رب کریم کے حضورمیں دردمندانہ مناجات وسرگوشی کی ۔پھرکیاتھا اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میںآگئی اور اس نے اپنے حبیب ﷺ کے پاس پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ۔اس نے آتے ہی خدمت نبویؐ میں عرض کیا ’’اے نبی ﷺ! اگرآپﷺ چاہیں تو میں ان کے اوپران دونوں پہاڑوں کو اس طرح ملادوں جس طرح چکی کے پاٹ ملتے ہیں۔‘‘  رسول اکرمﷺنے اس بھیانک اوردردناک انجام کار کو گوارہ نہ کیا اورفرشتے کو مخاطب کرکے فرمایا :
    ’’مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اصلاب سے ایسی ذریت وجودپذیرفرمائے گا جواللہ کی عبادت کرے گی اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرے گی۔‘‘    اورفرمایا:     ’’اے اللہ !میری قوم کو ہدایت واستقامت کے راستے پر گامزن فرمادے،یہ تو علم ومعرفت سے کورے ہیں ،یہ جانتے اوربوجھتے نہیں۔ ‘‘
    اس کے بعداللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کے لئے اسراء ومعراج کی راہ ہموار فرمادی تاکہ وہ آپﷺ کے لئے باعث تسلی وتشفی ہو اورآپ ﷺ  کوجن شدائد ومحن سے دوچارہوناپڑاہے، یہ اس کا مداواثابت ہو۔آپ ﷺ کے زخموں پرمرہم رکھنے کاکام کرے، مصائب وآلام دورہوجائیں اوررنج وغم کافورہوجائیں۔
    اسراء ومعراج کے ذریعہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو یہ بات باورکروانا چاہتاتھا کہ اگراہل زمین نے آپ ﷺ سے اعراض وانحراف کیاہے توآپ ﷺ  کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ آسمان والا توآپ ﷺ پر مہربان ہے۔ اگریہ لوگ آپﷺ  کی دعوت کے آڑے آتے ہیں اورآپ ﷺ کے مشن سے انحراف کرتے ہیں توآپ ﷺ  کو یہ بات باورہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا دربارتوآپﷺ  کی دلجوئی کے لئے ہروقت کھلاہواہے۔ وہ آپ ﷺ کو خوش آمدیدکہتاہے اوریہ بات اللہ کی مشیت کا پرتوہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام، آپ ﷺ  کو اپنا امام بنائیں اورآپ ﷺ  کی اقتدا کرتے ہوئے نمازاداکریں۔مرادیہ ہے کہ آپ ﷺ  تمام انبیاء کے مقتدیٰ بنیں ۔ اللہ جل جلالہ کی طرف سے یہ رسول اللہ ﷺ  کی محض تکریم اورجبرخاطر تھی اوراگلے مرحلہ کے لئے آپ ﷺ  کو تیارکرنا تھا کیونکہ اس کے بعد(ایک قول کے مطابق3سال، دوسرے قول کے مطابق18ماہ کے بعد)ہجرت مدینہ کا واقعہ پیش آیا۔
     یہ بات قرین قیاس ہے کہ اسراء ومعراج کا وقوع ہجرت کے بعدآنے والے مرحلہ کی منصوبہ بندی کا پیش خیمہ تھا۔ اس لئے کہ ہجرت کے بعدجہاد وقتال اورمسلح صف آرائی کا مرحلہ آنے والا تھا۔نبی کریم ﷺ  کو پورے جزیرہ عرب سے مقابلہ کرکے نبردآزمائی کا مرحلہ درپیش تھا اوریہ بات یقینی تھی کہ پورا عرب آپ ﷺ کے خلاف متحدہوکر یک مشت آپ ﷺ  کو تیر بہدف بنانے والے تھے۔آپ ﷺ  کی عالمی دعوت وتبلیغ کے خلاف مختلف محاذپرصف آرائی کرنے کی ٹھانے ہوئے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کے لئے ضروری تھا کہ آنے والے مرحلہ میںمختلف قسم کے چیلنجزز کے سیل رواں کے سامنے سدمنیع بن کر کھڑے ہونے کے لئے تیارہوجائیںاورمذکورہ مختلف محاذوں سے مقابلہ کرنے کے لئے قلیل تعداد اورگنی چنی نفری کے ساتھ نبردآزمائی کے لئے کمربستہ ہوجائیں۔ ادھراللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ زمین وآسمان دونوں میں اپنی آیات بینات کی کرشمہ سازی اپنے رسول ﷺ  کو دکھلادے اورانہیں اپنی قدرت کے نمونوں کا مشاہدہ کروادے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:
    "پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت رکھی ہے۔ یہ اس لئے کہ ہم ان کو اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھلائیں۔"( الاسراء1)۔
    تاکہ آپ ﷺ  اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اورقدرت کی واضح آیتوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ فرمالیں ۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:
    " نہ تو نگاہ بہکی اورنہ حدسے ہی بڑھی،بلاشبہ انہوں نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیوں کو دیکھ لیا۔" (النجم 18,17)۔
    اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ  کواپنی بڑی بڑی آیات بینات کا اس لئے مشاہدہ کرواناچاہا تاکہ آپﷺ   کو تقویت قلب حاصل ہوجائے،آپﷺ  کی ڈھارس بندھ جائے،آپﷺ کے پائے ثبات واستقامت جم جائیں،آپﷺ کی شان وشوکت میں نکھارآجائے اور انواع واقسام کی بے راہ رویوں اورباطل سے نبردآزمائی کے لئے آپﷺ کا ارادہ پختہ اورعزم محکم ہوجائے۔
    اسراء ومعراج رسول اللہ ﷺ  کو تربیت دینے کی حکمت عملی تھی۔ اس میں آپ ﷺ کے اعزاز وتکریم کا پہلو بھی پنہاں ہے نیزاس سے آپ ﷺ  کی تسلی وتشفی مقصود تھی اورآپ ﷺ کے دل سے حزن وملال کے نقوش کو کھرچ کر نکال دینے کا پلان تھا ۔ اسی طرح مسلمانوں کی زندگی میں ایک ایسی اہم چیز کی شمولیت مقصود تھی جس کا ان کی مستقبل کی زندگی پرمثبت اثرپڑسکے اوراس کی دنیا وعقبیٰ سنوارنے کاذریعہ ہو۔وہ فرضیت نمازکا معاملہ تھا ۔اسی رات کو اللہ تعالیٰ نے نمازفرض فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سفیر کی حیثیت رکھنے والے اپنے خصوصی سفیرحضرت محمدﷺ  کو بنفس نفیس طلب فرمایاتاکہ آپ ﷺ  کو راتوں رات مسجدحرام سے پورے اعزازواکرام کے ساتھ مسجداقصیٰ لے جایاجائے اوروہاں سے آپ ﷺ  کو بلندوبالاآسمانوں کی سیرکرائی جائے اورپھروہاں سے سدرہ المنتہیٰ پہنچایا جائے۔ اس فریضہ کی فرد مسلم کی زندگی اور مسلم معاشرے میں اہمیت کو مدنظررکھتے ہوئے اوراس کی فرضیت کا میمورنڈم دوبدوپاس کرکے اسے فرض قرار دیدیا جائے۔ یہ توہ فریضہ ہے جو ہمیشہ بندے کے رشتہ کو اپنے رب سے جوڑے رکھنے کا ذریعہ ہے اور یہی وہ فریضہ ہے جو شروع شروع میں50نمازوں کی شکل میں فرض کیا گیا تھا پھربنی کریم ﷺ اپنے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اشراف میں رب کریم کی بارگاہ میں حاضری دے دے کر اس میں تخفیف کاسوال کرتے رہے اوراس میں تخفیف ہوتی رہی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے5 نمازوں کی شکل میں روزانہ اداکرنے کی اجازت مرحمت فرمادی اوریہ بھی فرمادیا کہ’’اداکرنے میں تو یہ 5 ہیں مگراجروثواب میں 50 نمازوں کے برابر ہیں‘‘ یہ تحفہ بھی اس مبارک رات کی دین ہے۔
    دراصل معراج تو ملت اسلامیہ کے ہرہرفردکے لئے ارتقا کا ذریعہ ہے۔ملت اسلامیہ کے تمام افراد کے لئے یہ معراج ہے۔ اگرنبی کریم ﷺ کوزمین سے اٹھا کر بلند وبالاآسمانوں کی سیرکرائی گئی توہمارے لئے بحیثیت فرزنداسلام روحانی ارتقا وارتفاع کے دروازے کھلے ہوئے ہیں ۔ہم اللہ کی مشیت کے تحت اس کے ذریعہ ارتقا کی بلند سے بلند منزل تک رسائی پاسکتے ہیں ۔
    ہمیں اس بات پر غور وخوض کرنا چاہئے کہ مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک اسراء کا واقعہ کیوں پیش آیا؟ ہمیں چاہئے کہ ہم ان اسباب وعوامل کا بغورملاحظہ کریں کہ مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک آپ ﷺ  کو راتوں رات کیوں لے جایا گیا۔ نبی کریم ﷺ  کو براہ راست مسجدحرام سے بلند وبالاآسمانوں کی سیرکیوں نہیں کرائی گئی؟اس الٰہی پرٹوکول میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرورپوشیدہ ہے۔ وہ مصلحت یہ ہے کہ اس مقدس ومکرم اسٹیشن سے سفرکے آغازکے لئے گزرنااوربیت المقدس  سے براہ راست بلندوبالا آسمانوں کی طرف ارتقا یامعراج کے لئے جانا جس سرزمین پر اللہ تعالیٰ نے دونوں عالموں کے لئے خیروبرکت پنہاں رکھی ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کو عین مقصود تھا کہ آپ ﷺ مسجداقصیٰ سے معراج کے لئے اڑان بھریں اوراس سرزمین سے گزرتے ہوئے ان انبیاء علیہم السلام کی جووہاں آپﷺ کا استقبال کریں نمازمیں امامت کا فریضہ انجام دیں اوریہی ہوا۔آپﷺ نے وہاں پہنچ کر تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی۔ آپ ﷺ کی انبیاء علیہم السلام کی امامت بھی اپنے اندر معانی ومفاہیم کے خزانے سموئے ہوئے ہے۔ آپﷺ  کی امامت اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ اسلامی قیادت اب ایک نئی امت کی طرف منتقل ہوچکی ہے اور نئی نبوت کے ہاتھ اس کی باگ ڈوردی جاچکی ہے۔وہ نئی نبوت سابقہ نبوتوں کی طرح محدودنہیں جس طرح اپنی اپنی قوموں میں مختلف نبیوں کو مبعوث کیا گیا تھا بلکہ یہ نئی نبوت عالمی حیثیت کی حامل ہے۔ یہ نئی نبوت جسکا تذکرہ چل رہا ہے عمومی حیثیت رکھتی ہے اوردنیا کے تمام لوگوں کے لئے ابدی طورپرقائم ودائم رہنے والی ہے اورسارے جہانوں کے لئے روزقیامت تک باعث رحمت ہے اورتمام اقالیم ودول( سلطنتوں) اورسارے زمان ومکان کے لئے یکساں حیثیت کی آئینہ دار ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی مشیت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ مذکورہ دونوں مقدس مسجدوں میںربط پیداکردیا جائے۔مرادیہ ہے کہ جس مسجد سے اسراء کا آغازہوااس مسجدتک جہاں اسراء کی انتہا ہوئی ایک ربط پیداہوجائے ۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے’’من المسجد الحرام الی المسجد الأقصیٰ‘‘ فرماکراس ربط وضبط کوقائم فرمادیاہے۔درحقیقت اللہ تعالیٰ نے ان دونوں مسجدوں کے تقدس کو ایک مسلمان کے وجدان وشعورکی گہرائی میں اتاردیا ہے تاکہ ایک مسلمان کے اندر یہ شعورگھرکرجائے کہ مسجدحرام اور مسجد اقصیٰ دونوں کے درمیان صلہ وارتباط ہے۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ کو اپنے قول ’’ بارکنا حولہ ‘‘کے ذریعہ دوام بخش دیا اس لئے کہ رب کریم نے اپنے قول مذکورکے بموجب رہتی دنیا تک اس کو خیر وبرکت سے متصف فرماکرگارنٹی فراہم کردی ہے۔ یہ معاملہ مسجد نبوی ؐ کے وجودسے قبل کا ہے کیونکہ مسجد رسول ﷺ کا وجودتو ہجرت نبویؐ کے بعدہواہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس قضیہ کا بھی تصفیہ کردیا تاکہ امت مسلمہ کے شعور میں یہ بات پختہ ہوجائے اورامت اسلامیہ کے عقل ودماغ میں یہ بات بیٹھ جائے کہ وہ ان دونوں مسجدوں کے بارے میں کبھی تفریط کا شکار نہ ہوں۔
 

مزید پڑھیں:- - -  -ایلیا کے پادری کی گواہی

شیئر: