لیبیا :ریاست کی بحالی کی امید ہو چلی

عبداللہ بن بجاد العتیبی۔الشرق الاوسط
 
لیبیا میں کئی برس کی تباہ کن خانہ جنگی، تفرقہ و تقسیم ، دہشت گردی کے راج اور انارکی کے جڑ پکڑ جانے کے بعد وہاں کی قومی فوج نے دارالحکومت طرابلس اور اطراف میں لشکر انداز شدت پسند تنظیموں اور بنیاد پرست جماعتوں کے خاتمے اور طرابلس پر ان کا کنٹرول ختم کرنے کے لیے مہم شروع کی ہے ۔ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر اس کی قیادت کر رہے ہیں ۔لیبیا کی فوج ملک کے مختلف علاقوں سے شدت پسند تنظیموں اور بنیاد پرست گروہوں کو پہلے ہی نکال چکی ہے۔ 
ریاستی اداروں کو یرغمال بنانے والی بنیاد پرست تنظیموں سے لڑنا اور ملک کو آزاد کرانا کوئی آسان کام نہیں ۔یہ قومی افواج کا کام ہے ۔ مصرمیں بھی فوج نے اپنے عوام کے تعاون سے ریاستی اداروں کو الاخوان کے چنگل سے آزاد کرایا اور اب لیبیا کی فوج اسی ہدف کے حصول کے لیے طرابلس کی طرف یلغار کر رہی ہے۔
عرب ممالک لیبیا کی مدد کرتے رہے۔ ملک کے چپے چپے پر حکومت کو غلبہ دلانے کے لیے کوشاں رہے ۔ دوسری جانب بعض عرب اور علاقائی فریق لیبیا میں فتنے کی آگ بھڑکانے میں لگے رہے ۔ شدت پسندوں کو ملک میں انارکی پھیلانے کے لیے دولت اور ہتھیار فراہم کرنے میں لگے رہے۔ یہی کام وہ مصر ، تیونس سمیت متعدد ممالک میں کرتے رہے ہیں۔
یہاں ہماری مراد قطر اور ترکی سے ہے ۔ یہی دونوں ،عرب ممالک اور دنیا بھر میں شدت پسند تنظیموں اور الاخوان کے سرپرست بنے ہوئے ہیں ۔ اگر لیبیا ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور وہاں ریاستی ادارے بحال ہو گئے۔ عوام اور فوج پر ان کاکنٹرول ختم ہو گیا ، ایسی صورت میں ان کے کھیل کا بڑا پتہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا ۔ 
بنیاد پرستوں کو اقتدار سے بے دخل کرکے آزادی حاصل کرنا بے حد مشکل ہے ۔ یہ خطرناک مہم جوئی ہے۔ اس میں قربانیاں بھی ہیں اور تکلیف دہ مشکلات بھی پیش آئیں گی۔ 
لیبیا تیل سے مالامال ریاست ہے ۔ اس کا محلِ وقوع سٹریٹیجک نوعیت کا ہے۔ یہ ایک عشرے سے انارکی اور دہشت گردی کا شکار ہے ۔ لیبیا کے عوام اس صورتحال سے انتہائی اذیت میں ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ لیبیا میں ریاستی ادارے بحال ہوں ۔ وہاں امن و استحکام قائم ہو ۔ شدت پسندوں اور بنیاد پرستوں کے اقتدار کا خاتمہ ہو۔ 
کئی برس سے عرب ممالک اپنے حریفوں سے برسرِ پیکار ہیں۔ ایرانی اثر و نفوذ نیز ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ اخوانیو ں کے اثر و نفوذ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی مہم چل رہی ہے ۔مشرق وسطی کی گھناﺅنی علاقائی جنگ جیتنے کے لیے لیبیا کا معرکہ بجا بھی ہے اور ضروری بھی ۔ لیبیا کی فوج ملک میں برپا انارکی ختم کرانے کے لیے پوری قوت سے حرکت میں آچکی ہے ۔ وہ عسکری مہم پر مجبور کی گئی ہے ۔ اس سے قبل عرب ممالک اور عالمی برادری کی تائید و حمایت سے ہر طرح کے پر امن ذرائع انارکی کو ختم کرانے کے لیے استعمال کر لیے گئے ۔ تاریکی کے رہبر اوران کے حمایتی ہر حل کو پیروں تلے روند چکے ہیں۔ 
لیبیا کے خلاف سازش کا آغاز قذافی کے نظام حکومت کے سقوط سے قبل ہو چکا تھا۔ قطر کے قائدین جیلوں سے القاعدہ کے جنگجوو¿ں کو نکالنے کے لیے کوشاں تھے۔ مصالحت اور مکالمے کے نام پر بڑا کھیل کھیلا جا رہاتھا۔ پھر جب عرب بہارکے نام سے تحریک شروع ہو ئی تو جیلوں سے آزاد اخوانی شدت پسند اور بنیاد پرست جماعتوں کے جنگجو ہتھیار اٹھانے کے لیے مستعد تھے۔ 
 قطر نے دولت اور ہتھیار دے کر ان کی مدد کی۔ اپنے فوجی افسران بھی مہیا کیے ۔ ان عناصر نے طرابلس اور لیبیا کے چپے چپے پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے جتن کیے تاہم لیبیا کے بیدار مغز عوام نے انہیں ناکام بنادیا۔ لیبیا کی قومی فوج ازسرِ نوتشکیل دی گئی جس میں مذکورہ جنگجو عناصر نقب لگانے میں ناکام رہے ۔ اسی فوجی نے اب طرابلس کو شدت پسندوں سے آزاد کرانے کے لیے ’وقار کا طوفان‘ نامی آپریشن شروع کیا ہے۔
لیبیا میں معرکوں کا منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے ۔ لب لباب یہ ہے کہ لیبیا کی قومی فوج عوام کی مدد سے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ فوج ، ہوائی اڈے اور طرابلس کے متعدد علاقوں پر کنٹرول قائم کر چکی ہے۔ لیبیا کے عوام کو ہر تبدیلی سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کی سلامتی کا حد درجہ خیال رکھا جا رہا ہے۔ قومی فوج کے طور پر تمام ذمہ داریوں کو احساس کے ساتھ پورا کیا جا رہا ہے ۔ ہر واقعہ اور ہر کارروائی کی منظر کشی کی جا رہی ہے۔ 
فیلڈ مارشل حفتر نے عوام سے خطاب کر کے اپنے اہداف و مقاصد صاف الفاظ میں یہ کہہ کر بیان کر دیے ’لبیک طرابلس لبیک آپریشن کی گھنٹی بج چکی ہے اور اب فتح مبین کا وقت قریب آچکا ہے۔‘
حفتر نے اپنے خطاب میں فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’ آپ لوگ امن کے معمار فوجی کا کردار ادا کریں ۔ حملہ آور کے سوا کسی پر گولی نہ چلائیں ۔ جو ہتھیار ڈال دے اس کا تعاقب نہ کریں ۔ جو گھر کے دروازے بند کر دے اسے پریشان نہ کریں ۔ جو سفید پرچم بلند کر دے اسے تحفظ دیں ۔ طرابلس کے تمام اداروں کا تحفظ آپ لوگوں کی اولین ذمہ داری ہے ۔‘
اقوام متحدہ لیبیا کا بحران ختم کرانے کے سلسلے میں سفارتی سطح پر ناکام ہو چکی ہے ۔ العربیہ نیٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے حفتر سے درخواست کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور جھڑپوں کے ضوابط کا احترام کریں ۔ حفتر نے سیکریٹری جنرل کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ القاعدہ یا داعش یا الاخوان کے نمائندوں کے ساتھ کوئی مکالمہ نہیں کریںگے۔ 
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے خطے کے تمام بحرانوں کی بابت بار بار تشویش کا اظہار فطری امر ہے ۔ یہ ایک طرح سے مسئلے کے حل میں کوتاہی کا اعتراف بھی ہے ۔ 
کسی کو یہ توقع نہیں کہ طرابلس آپریشن آسانی سے ختم ہو جائے گا۔ سب کو پتہ ہے کہ دشواریاں پیش آئیں گی۔ البتہ یہ سچائی سب کو نظر آرہی ہے کہ طرابلس آپریشن فیصلہ کن ثابت ہو گا ۔ اس کی بدولت ریاستی ادارے بحال ہوں گے ۔ تفرقہ و تقسیم ختم ہو گی ۔ انارکی کا خاتمہ ہو گا ۔ فوج کو عوام کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ بنیاد پرستوں اور شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے عوام کے ساتھ اتحاد ناگزیر ہے۔
لیبیا میں یورپی ممالک کے مفادات کی کشمکش نے لیبیا کے بحران کا دورانیہ طویل کر دیا۔اقوام متحدہ بھی بحران حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ۔اتنے زیادہ خارجی فریقوں کی مداخلت ، انارکی اور دہشت گردی کے پھیلاﺅ والے بحران کا حل عوامی بیداری اور مضبوط فوجی کارروائی کے بغیر ممکن نہیں۔
بعض فریق لیبیا کی قومی فوج کے آپریشن پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں ۔یہ قابل فہم ہیں ۔یہ انسانیت کی دہائی دے رہے ہیں ۔ فوج بھی انسانی بنیادوں کی پاسداری کی بات کر رہی ہے ۔کچھ فریق وہ بھی ہیں جو صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھنے اور بحران کا دورانیہ دراز کرنے کے درپے ہیں ۔حق اور سچ یہ ہے کہ لیبیا کی قومی فوج کا آپریشن لیبیا کے عوام اور ریاست کے وسیع تر مفاد میں ہے ۔ یہ آپریشن ہر حل آزمانے اور اس کے ناکام ہونے کے بعد ہی شروع کیا گیا ہے ۔ 

شیئر: