نایاب نسل کے مادہ کچھوے کی موت، دنیا میں صرف 3 رہ گئے

دنیاسے معدوم ہوتے نایاب ترین نسل کے کچھوے کی واحد معلوم مادہ 90 برس کی عمر میں چین کے جنوبی شہر کے چڑیا گھر میں مر دہ پائی گئی ہے ۔ 
سوزہو چڑیا گھر کے حکام نے کہا ہے کہ یہ مادہ دنیا میں رہ جانے والے ان 4 کچھووں میں شامل تھی جن کے بارے میں لوگ جانتے ہیں۔
مرنے والی مادہ کچھوا یانگسی نامی ان بڑے کچھووں کی نسل سے تھی جن کا خول نرم ہوتا ہے۔ 
سوزہو کی شہری حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چڑیا گھر کی انتظامیہ کے مطابق یانگسی کچھوا گزشتہ سہ پہر مردہ پایا گیا ۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے مستقبل میں ریسرچ کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے مادہ کچھوے کی بیضہ دانی سے نمونے حاصل کئے۔ 
چین کے سرکاری روزنامہ پیپلز ڈیلی کے مطابق90 سالہ مادہ کچھوے کی موت سے قبل اس کی بیضہ دانی میں مصنوعی تخم ریزی کی 5 کوششیں کی گئی تھیں۔
اخبار کے مطابق طبی تجزیے سے معلوم ہوا کہ یانگسی کچھوے کی صحت بہتر تھی اور مصنوعی تخم ریزی کے عمل کا بھی آسانی سے مکمل ہوا تاہم اگلے روز مادہ کچھوے کی موت واقع ہوگئی۔ 
اس نسل کے معلوم 4 آخری کچھووں میں سے یہ واحد مادہ تھی۔ سوزہو چڑیا گھر میں اس کے ساتھ نر کچھوا بھی رکھا گیا تھا ۔ باقی دونوں نایاب یانگسی کچھوے ویت نام کے چڑیا گھرمیں ہیں تاہم ان کی جنس نامعلوم ہے۔ 
سوزہو میں حکام کا کہنا ہے کہ چینی اور غیر ملکی ماہرین کچھوے کی موت کی وجہ بننے والے عوامل جاننے کے لیے تحقیق کر رہے ہیں۔ 
پیپلز ڈیلی کے مطابق اس نسل کے نرم خول والے بڑے کچھوے صرف چین میں ہی پائے جاتے ہیں اور ان کا مسکن یانگسی دریا اور تاہوجھیل ہے۔
اس نسل کے کچھوے کو دنیا سے خاتمے کے قریب جانداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 

شیئر: