ٹرمپ کی ٹویٹ پر تنازع: الہان عمر کی سکیورٹی کا جائزہ لینے کی ہدایت

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی مسلمان رکن کانگریس الہان عمر کی تصویر گیارہ ستمبر کے حملوں کی ویڈیو کے ساتھ ٹویٹ کرنے پر مذکورہ رکن کانگریس، ان کے اہل خانہ اور سٹاف کی سکیورٹی کا جائزہ لینا کا حکم دیا ہے ۔
نینسی پلوسی نے صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ کانگریس کی رکن الہان عمر کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ نینسی پلوسی نے امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کریں۔ ’صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کے بعد میں نے سارجنٹ ایٹ آرمز سے بات کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کیپیٹل پولیس کانگریس وومن الہان عمر، ان کی فیملی اور سٹاف کی سکیورٹی کا جائزہ لیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ صدر کے الفاظ کی اہمیت ہوتی ہے اور ان کے نفرت آمیز اور اشتعال انگیز بیانات حقیقی خطرات پیدا کرتے ہیں۔’ صدر ٹرمپ کو فوراً توہین آمیز اور خطرناک ویڈیو ہٹانا چا ہیے۔‘
 صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ویڈیو شئیر کی ہے جس میں 11 ستمبر 2001 میں امریکہ میں ہونے والے حملوں کی کلپس کے ساتھ ساتھ الہان عمر کے ایک حالیہ بیان کے چند حصے شامل کیے گئے ہیں۔ اس ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا ہے کہ ہم کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے۔
اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ الہان عمر کہتی ہیں کہ’ اس دن کچھ لوگوں نے کچھ کیا تھا‘ اور اس کے بعد ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے مناظر ہیں اور شہریوں کو عمارتوں سے بھاگتے ہوئے نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔
حکمران رپبلکن پارٹی کے ارکان نے الہان عمر پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کو ایک چھوٹا واقعہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
الہان عمر کی اپنی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی اکثریت ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ اِن ارکان نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الہان عمر کے بیان کو سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا جا رہا ہے اور ایسا کرنے سے صدر ٹرمپ لوگوں کو الہان عمر اور دیگر مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کردہ ویڈیو کو 94 لاکھ مرتبہ دیکھا گیاہے۔ امریکی صدر کی ٹویٹ کے بعد سرکردہ ڈیموکریٹس ارکان بشمول بیٹو اورورکی، کمالہ حارث اور الیگزینڈر اوکیسو کورٹز الہان عمر کے دفاع میں سامنے آئیں اور الزام لگایا کہ صدر جان بوجھ کر ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرکے ان کی زندگی کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں۔
تاہم صر ٹرمپ کے ترجمان برنی سینڈرز نے ان کا دفاع کیا ہے۔ سینڈرز نے اے بی سی ٹیلیویژن کے ’دس ویک‘ پروگرام کو بتایا کہ صدر کسی کے خلاف تشدد پر نہیں اکسا رہے ہیں۔ ’تاہم جو بیان وہ دے رہی ہیں وہ یقینا مکروہ ہے لیکن ڈیموکریٹس اس کا نوٹس لینے کے بجائے دوسری طرف دیکھ رہے ہیں۔‘
  • الہان عمر کا ردعمل
الہان عمر نے صدر ٹرمپ کے جواب میں کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر افراد کی جانب سے ان کے گیارہ ستمبر کے حملوں سے متعلق بیان پر اعتراضات کی یلغار پر خاموش نہیں بیٹھیں گی۔ انہوں نے کہا ’کوئی بھی شخص چاہے وہ کتنا ہی کرپٹ، نااہل اور ناموافق ہو امریکہ سے میری محبت کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔‘
الہان نے کہا کہ’ تمام امریکیوں کے لیے خوشی کے یکساں مواقع کی فراہمی کی میری جدوجہد پورے عزم اور حوصلے کے ساتھ جاری رہے گی۔‘
  • تنازع کا سبب
حالیہ تنازع الہان عمر کی ’کونسل ان امریکن اسلامک ریلیشن‘ میں 20 منٹ دورانیے کی تقریر کے بعد پیدا ہو۔ الہان نے یہ تقریر نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملے کے فورا بعد کی تھی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’کافی عرصے سے ہم دوسرے درجے کے شہری ہونے کے پریشان کن احساس کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ میں صاف بتا رہی ہو کہ میں اس سے تنگ آگئی ہوں اور اس ملک کے ہر مسلمان کو تنگ ہونا چاہیے۔‘
  • الہان عمر کون ہیں؟
الہان عمرریاست منی سوٹا سے امریکی ایون نمائندگان کی ڈیموکریٹ رکن ہیں۔ وہ امریکی ایوان نمائندگان میں پہنچنے والی پہلی مسلمان خاتون ہیں۔ الہان عمر صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں اور مسلمانوں کے خلاف کی گئی گفتگو کی شدید مخالف ہیں۔
 الہان عمر نے اپنا بچپن کینیا کے تارکین وطن کے کیمپ میں گزارا جہاں ان کا خاندان صومالیہ سے نقل مکانی کر کے پہنچا تھا۔ اس کے بعد وہ ایک سپانسرشپ کی مدد سے امریکی ریاست منی سوٹا پہنچیں۔
سنہ 2016 میں 36 سالہ الہان عمر پہلی صومالی امریکن قانون ساز بن گئیں۔ دو سال پہلے اپنی جیت کے بعد انھوں نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’یہ جیت اس آٹھ سالہ بچی کے لیے ہے جو تارکین وطن کے کیمپ میں تھی۔ یہ جیت اس لڑکی کے لیے ہے جسے زبردستی کم عمری کی شادی کرنی پڑی تھی۔ یہ جیت ہر اس شخص کے لیے ہے جسے خواب دیکھنے سے روکا گیا۔‘

شیئر: