خوبصورت، رنگ برنگے اور خوشبودار پھول گھروں، باغات اور تقریبات کی رونق سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں محبت، خوشی اور احترام کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
تاہم سائنسی تحقیق اور ماہرینِ نباتات کی رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ ہر پھول صرف خوبصورتی ہی نہیں رکھتا بلکہ بعض پھول قدرتی طور پر ایسے زہریلے کیمیائی مادے پیدا کرتے ہیں جو مخصوص حالات میں انسانوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ لاعلمی میں ان پھولوں کو چھونا، چبانا یا نگلنا صحت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی نے ایک تحقیق کے حوالے لکھا ہے کہ پودے اپنی حفاظت کے لیے قدرتی دفاعی نظام رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ حرکت نہیں کر سکتے، اس لیے الکلائیڈز، گلائیکوسائیڈز اور دیگر ثانوی کیمیائی مرکبات پیدا کرتے ہیں تاکہ کیڑے مکوڑوں اور جانوروں کو دور رکھا جا سکے۔
مزید پڑھیں
-
دورانِ مطالعہ توجہ بڑھانے کے سات مؤثر طریقے کون سے ہیں؟Node ID: 900176
-
کمر کو درد سے محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی؟Node ID: 900345
یہی مادے اگر انسانی جسم میں داخل ہو جائیں تو متلی، قے، جلن، اعصابی مسائل حتیٰ کہ کہ دل اور دیگر اہم اعضاء کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ذیل میں سات ایسے عام پھولوں کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے جن کے بارے میں ماہرین نے صحت کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
اولیئنڈر
اولیئنڈر ایک عام آرائشی جھاڑی ہے جو پارکوں اور سڑکوں کے کنارے بکثرت لگائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پودے کے تمام حصوں میں کارڈیک گلائیکوسائیڈز پائے جاتے ہیں جو دل کی دھڑکن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر اس کے پتے یا پھول نگل لیے جائیں تو قے، چکر اور دل کی بے ترتیبی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور شدید صورت میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
فاکس گلوو
فاکس گلوو کے خوبصورت گھنٹی نما پھول بظاہر بے ضرر نظر آتے ہیں، مگر ان میں ڈیجیٹالس نامی مرکبات موجود ہوتے ہیں۔ یہ مادے دل کے خلیوں پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں اور اگر زیادہ مقدار میں جسم میں داخل ہو جائیں تو دل کی دھڑکن خطرناک حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فاکس گلوو کو طبی لحاظ سے نہایت حساس پودا سمجھا جاتا ہے۔

اینجلز ٹرمپٹ / برگمانسیا
یہ بڑے اور خوشبودار پھول خاص طور پر رات کے وقت اپنی مہک کے باعث توجہ حاصل کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان میں سکوپولامین اور ہائیوسایامین جیسے الکلائیڈز پائے جاتے ہیں جو ذہنی انتشار، فریب نظر، اعصابی کمزوری اور شدید صورت میں سانس کی دشواری کا سبب بن سکتے ہیں۔
پوائزن ہیملک
اگرچہ یہ پودا عام گھریلو باغات میں کم پایا جاتا ہے، لیکن تاریخی طور پر اسے نہایت خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود طاقتور زہریلے مادے اعصابی نظام کو مفلوج کر سکتے ہیں۔ معمولی مقدار بھی سانس کے نظام کو متاثر کر کے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
کولمبائن
کولمبائن کے نازک اور منفرد شکل کے پھول کئی باغات کی زینت بنتے ہیں۔ تاہم کچھ اقسام میں سائنوجینک گلائیکوسائیڈز پائے جاتے ہیں جو جسم میں جا کر سائنائیڈ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کمزوری، چکر اور سانس لینے میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔

کراؤن آف تھورنز
یہ کانٹے دار پودا زیادہ خطرناک تو نہیں، مگر اس کا دودھیا رس جلد اور آنکھوں میں شدید جلن پیدا کر سکتا ہے۔ اگر غلطی سے نگل لیا جائے تو معدے میں تکلیف، قے اور بدہضمی ہو سکتی ہے۔ ماہرین اسے بچوں اور پالتو جانوروں سے دور رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
سیمبوکس
ایلڈر کے کچھ پھولوں اور پودوں میں بھی سائنوجینک مرکبات پائے جاتے ہیں۔ زیادہ مقدار میں ان کا استعمال متلی، پیٹ درد اور کمزوری کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر انہیں بغیر مناسب تیاری کے استعمال کیا جائے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عام حالات میں صرف پھولوں کو دیکھنا یا مختصر وقت کے لیے سونگھنا زیادہ تر افراد کے لیے خطرناک نہیں ہوتا۔ اصل خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب پودوں کو چبایا، نگلا یا طویل عرصے تک ننگے ہاتھوں سے سنبھالا جائے۔ بچوں، پالتو جانوروں، مالیوں اور پھول فروشوں کے لیے خطرات نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں۔

صحت کے ماہرین عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ پھولوں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ضرور ہوں، مگر احتیاط کے ساتھ۔ غیر معروف پودوں کو کھانے سے گریز کیا جائے، باغبانی کے دوران دستانے استعمال کیے جائیں، اور اگر کسی قسم کی جلن، متلی یا چکر محسوس ہوں تو فوری طبی مشورہ حاصل کیا جائے۔
فطرت کی یہ خوبصورتی اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب اس کے ساتھ شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔












