Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ مغربی کنارے کے اسرائیل سے الحاق کے خلاف ہیں: عہدیدار وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کے مطابق ’برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’مستحکم مغربی کنارہ اسرائیل کو محفوظ بناتا ہے‘ (فوٹو: روئٹرز)
وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک بار پھر توثیق کی گئی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کے مخالف ہیں جبکہ برطانیہ نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کا فیصلہ واپس لے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’مستحکم مغربی کنارہ اسرائیل کو محفوظ بناتا ہے اور اس انتظامیہ کے اس ہدف سے مطابقت رکھتا ہے کہ خطے میں امن قائم ہو۔‘
اسی طرح برطانیہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کا فیصلہ واپس لے، جس کے بعد وہ بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے، جو اسرائیلی اقدام کی مذمت کر رہے ہیں۔
برطانوی حکومت کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ ’اسرائیل کی سکیورٹی کمیٹی کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی جاتی ہے جو مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے بارے میں ہے۔‘
ناقدین کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور اپنے اختیارات کا دائرہ بڑھانے کا اقدام مقبوضہ زمین کو اپنے ساتھ ملانے کی طرف جا رہا ہے۔
برطانوی حکومت کے بیان میں یہ بھی کہا گیا  ہے کہ ’جغرافیائی یا آبادی کے لحاظ سے فلسطین کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوئی بھی یکطرفہ کوشش ناقابل قبول ہے اور بین الاقوامی قانون سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔‘
پیر کو سعودی عرب اور پاکستان سمیت سات مسلمان ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے نئے قانونی اور انتظامی اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلے فلسطینی علاقوں پر غیرقانونی خودمختاری مسلط کرنے اور الحاق کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش ہیں۔

سعودی عرب اور پاکستان سمیت سات مسلمان ممالک بھی اسرائیلی اقدام کی مذمت کر چکے ہیں (فوٹو: اے ایف ی)

عرب نیوز کے مطابق مغربی کنارہ ان علاقوں میں شامل ہے جنہیں فلسطینی ایک مستقبل کی آزاد ریاست کے لیے اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس علاقے کا بڑا حصہ اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے، جبکہ بعض علاقوں میں مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کو محدود اختیار حاصل ہے۔
اسلام آباد سے جاری مشترکہ بیان میں پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ’اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں اور وہ بستیوں کے قیام کو مضبوط بنانے اور زمینی حقائق بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے ان غیرقانونی فیصلوں کی شدید مذمت کی جو غی قانونی خودمختاری مسلط کرنے، آبادکاری کو فروغ دینے اور مغربی کنارے میں نیا قانونی و انتظامی نظام نافذ کرنے کے مترادف ہیں، جو فلسطینی عوام کی بے دخلی اور غیر قانونی الحاق کو تیز کر رہے ہیں۔‘
وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ ’مغربی کنارے میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیاں اور غیرقانونی اقدامات پورے خطے میں تشدد اور عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔‘

 

شیئر: