پاکستان میں چند روز پہلے کی’جعلی خبر‘درست نکل آئی

***شاہد عباسی***
وفاقی کابینہ میں ردوبدل سے متعلق چند دن پہلے جعلی قرار دی گئی خبر جمعرات کو اس وقت درست ثابت ہوئی جب وزیرخزانہ اسد عمر نے کابینہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ۔
 چند روز قبل وفاقی کابینہ میں تبدیلی اور اسد عمر سے وزارت خزانہ واپس لیے جانے کی خبر سامنے آئی تو وزیراطلاعات نے اسے جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔ نہ صرف وزیر اطلاعات بلکہ وزیر اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن  نے بھی اس خبر کی سختی سے تردید کی تھی۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے جھوٹی خبروں کی شناخت اور روک تھام  کے لیے قائم فیک نیوز بسٹر نامی ٹوئٹر ہینڈل سے بھی اسے جعلی خبر قرار دیا گیا تھا۔
وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومتی وزراء کے قلمدان تبدیل کیے جانے کے حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں، میڈیا اس ضمن میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے جعلی خبروں کی شناخت کے لیے قائم فیک نیوز بسٹر نامی ٹوئٹر ہینڈل نے بھی اسے جعلی خبر قرار دیا تھا۔
اسد عمر نے جمعرات کو پہلے ٹویٹر بعد میں پریس کانفرنس میں اپنے استعفے کا اعلان کیا تو یہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ان سے وزارت خزانہ واپس لیے جانے سے متعلق زیر گردش رہنے والی خبروں کی تصدیق تھی۔
ملک کی دگرگوں معاشی صورتحال اور بہتری کی امید نظر نہ آنے کی وجہ سے پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی 200 روز مکمل ہونے سے قبل ہی وزیرخزانہ کی ممکنہ تبدیلی  کے حوالے سے خبریں میڈیا کی زینت بنتے رہے ہیں، تاہم حکومتی حلقے ان اطلاعات کی تردید کرتے رہے تھے۔
چند روز قبل ان اطلاعات میں تیزی اس وقت آئی جب دو پاکستانی نیوز چینلز نے ایک بار پھر کابینہ میں ردوبدل کا ذکر کرتے ہوئے اسد عمر سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لیے جانے کی خبر دی تھی۔ تاہم حکومت نے فوری طور پر ان خبروں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا تھا۔
ان خبروں کی نہ صرف تردید کی گئی بلکہ الیکٹرانک میڈیا کے ریگولیٹری ادارے، پیمرا، نے مذکورہ چینلز کو 'جھوٹی' خبر دینے پر نوٹس جاری کیا تھا۔ پیمرا کے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ 'ٹیلی ویژن چینل نے 15 اپریل کی صبح وفاقی کابینہ میں تبدیلی اور پانچ وزراء سے قلمدان واپس لیے جانے کی خبر دی ہے، وزیراطلاعات نے فوری طور پر اس خبر کو جعلی قرار دیتے ہوئے معاملہ کی تردید کر دی۔ چینلز نے یہ خبریں چلا کر نہ صرف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی بلکہ عوام میں سراسیمگی پھیلانے کی بھی کوشش کی ہے۔'
اظہار وجوہ کے نوٹس میں ان چینلز کو سات روز کے اندر جواب دینے کا کہا گیا تھا۔
اسد عمر کے استعفی پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ اگر معاشی مسائل ن لیگی حکومت کے باعث تھے اور پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیاں اچھی تھیں تو اسد عمر کو 'مستعفی ہونے کا کیوں کہا گیا'۔ یہ عمران خان کی جانب سے اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ ان کی پالیسیوں نے پاکستان میں معاشی بحران پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ اسد عمر نہیں عمران خان ہیں۔
گزشتہ برس دسمبر میں بھی اس وقت اسد عمر کے مستعفی ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں جب سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے روپے کی قدر گرانے پر تنقید کی گئی تھی۔ وزیراطلاعات نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سٹیٹ بینک کو روپے کی قدر میں تبدیلی کے لیے فری ہینڈ دینے پر اسد عمر کی جانب سے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کی پیشکش افواہ ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی ویژن میزبانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے اس معاملہ پر اپنی برہمی کا اظہار بھی کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کا فیصلہ آزادانہ ہے اور وہ اس سے لاعلم تھے ۔
جمعرات کو اسد عمر نے ٹوئٹر پر اپنے ممکنہ استعفی کا اعلان کیا تو سوشل میڈیا پر  #AsadUmar اور  #MinisterFinance کے ٹرینڈز کے تحت اس فیصلہ کی حمایت اور مخالفت میں گفتگو کی جاتی رہی۔
 

شیئر: