پاکستان سے بیرونِ ملک تعلیم یا ملازمت کے خواہش مند شہریوں کے لیے تعلیمی ڈگریوں اور دیگر سرکاری دستاویزات کی تصدیق ایک ناگزیر مرحلہ بن چکا ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور دیگر متعلقہ اداروں سے تصدیق کے باوجود وزارتِ خارجہ سے اٹیسٹیشن کا عمل بعض شہریوں کے لیے سہولت تو بعض کے لیے طویل انتظار، پیچیدگی اور شکایات کا سبب بن جاتا ہے۔
اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں قائم وزارتِ خارجہ کے اٹیسٹیشن ہالز میں روزانہ سینکڑوں افراد اس سوال کے جواب کی تلاش میں آتے ہیں کہ آخر ایک ہی دستاویز کی بار بار تصدیق کیوں ضروری ہے، اور کیا یہ نظام واقعی شفاف اور موثر ہے؟
مزید پڑھیں
وزارتِ خارجہ کی جانب سے ڈگریوں اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کے لیے آن لائن کوریئر سروس کے ساتھ ساتھ موقع پر جا کر بھی تصدیق کروانے کا انتظام موجود ہے۔
شہری اس نظام کے تحت اپنی مختلف دستاویزات کی تصدیق کرواتے ہیں تاہم اس عمل سے متعلق بعض اوقات شکایات بھی سامنے آتی ہیں جبکہ کچھ شہری اسے سہولت بھی قرار دیتے ہیں۔
اسلام آباد میں بھی دیگر شہروں کی طرح وزارت خارجہ کے اٹیسٹیشن ہال میں روزانہ سینکڑوں شہری، جن میں طلبہ، مرد و خواتین شامل ہیں، اپنی دستاویزات کی تصدیق کے لیے آتے ہیں۔
یہاں آنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ ’وہ اگر پہلی بار یہاں آ رہے ہوں تو ان کو کوئی رہنمائی فراہم نہیں کی جاتی، گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ایسے امیدواروں کو ترجیح دی جاتی ہے جنہوں نے سفارش کروائی ہو۔‘
اسی طرح بعض شہری اس نظام کو مفید قرار دیتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ ’وہ آن لائن اپوائنٹمنٹ لے کر اپنی دستاویزات کی تصدیق کرواتے ہیں، جس میں انہیں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔‘

لیکن سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دوسرے اداروں سے تصدیق کے بعد وزارت خارجہ سے تصدیق کروانا کیوں لازمی ہے؟
آپ چاہیں تو تعلیمی ڈگری اٹیسٹ کروائیں، ایف آر سی فارم حاصل کریں، یا سفری اور شناختی دستاویزات کی تصدیق کروائیں، ان کی متعلقہ اداروں جیسے نادرا، ایچ ای سی یا دیگر سرکاری اداروں سے تصدیق کروانا ضروری ہے۔
مقامی سطح پر یہ تصدیق کافی ہو سکتی ہے لیکن بیرون ملک جانے سے قبل کسی بھی پاکستانی دستاویز کو قانونی اور سرکاری طور پر قابلِ قبول بنانے کے لیے وزارتِ خارجہ کی تصدیق حاصل کرنا لازمی ہے۔
عالمی سطح پر یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وزارتِ خارجہ بطور ریاستی اور سفارتی ادارہ یہ تصدیق کرے کہ متعلقہ دستاویز واقعی پاکستان کے کسی مجاز ادارے سے جاری اور تصدیق شدہ ہے اور اس تصدیق کے بعد وہ دستاویز بیرون ملک تعلیمی ڈگری کے حصول اور قانونی امور کے لیے موثر اور قابل قبول بنتی ہے۔
وزارت خارجہ سے کون سی دستاویزات تصدیق کروانی پڑتی ہیں؟
پاکستان کے مختلف شہروں میں وزارتِ خارجہ کی مختلف شاخوں سے اُن دستاویزات کی تصدیق کروائی جاتی ہے، جو بیرونِ ملک ویزا، تعلیم، ملازمت یا قانونی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

اردو نیوز نے اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے اٹیسٹیشن ہال میں موجود متعدد شہریوں سے بات کی تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کون سی دستاویزات تصدیق کروانے آئے ہیں۔
اس ہال میں زیادہ تر درخواست گزار نوجوان تھے جو بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے یا ملازمت کے لیے جا رہے تھے اور اپنی تعلیمی ڈگریوں کی تصدیق کروانے آئے ہوئے تھے۔ ان میں مری سے آئے ایک طالب علم عمر خیام عباسی (فرضی نام) بھی شامل تھے جو اپنی تعلیمی ڈگری اور ایف آر سی فارم تصدیق کروانے آئے تھے۔
اُنہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’وہ صبح 9 بجے یہاں پہنچے تھے مگر شام 4 بجے تک ڈگریوں کی تصدیق کا عمل مکمل نہیں ہوا۔ علاوہ ازیں اُنہیں اس عمل سے متعلق کوئی رہنمائی بھی فراہم نہیں کی گئی، گھنٹوں انتظار کرنا پڑا اور کچھ ایسے لوگوں کو ترجیح دی گئی جنہوں نے سفارش کروائی تھی۔‘
اسی طرح پنجاب کے مختلف شہروں گجرات اور سرگودھا سے آئے شہریوں نے بتایا کہ ’وہ بیرونِ ملک جانے سے قبل اپنا نکاح نامہ، والدین کے وفات کے سرٹیفیکیٹ اور فیملی رجسٹریشن فارم تصدیق کروانے آئے اور اُن کا یہ عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہوا۔‘
وزارتِ خارجہ سے ڈگریوں کی تصدیق کیسے کروائی جاتی ہے؟
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق شہری اپنی دستاویزات کی فزیکلی یا مینول اٹیسٹیشن کے لیے آ سکتے ہیں جس کے لیے اسلام آباد میں مرکزی عمارت کے ساتھ اٹیسٹیشن ہال اور ملک کے دیگر شہروں میں اسی طرح کی سہولت موجود ہے۔

اسی طرح تصدیق کے لیے آن لائن بکنگ بھی کروائی جا سکتی ہے اور شہری آن لائن کوریئر سروسز کے ذریعے بھی مستفید ہو سکتے ہیں تاہم کوریئر سروسز اس کے چارجز بھی لیتی ہیں۔
یاد رہے کہ وزارتِ خارجہ سے تصدیق کروانے سے قبل آپ کو متعلقہ دستاویزات پہلے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے تصدیق کروانی ہوتی ہے، کیونکہ فارن آفس صرف ان تصدیق شدہ دستاویزات کو دیکھتے ہوئے ہی ان دستاویزات کی تصدیق کرتا ہے۔
وزارتِ خارجہ سے ڈگری کی تصدیق کیوں ضروری ہے؟
اردو نیوز نے اس حوالے سے امیگریشن ماہر میجر ریٹائرڈ بیرسٹر ساجد مجید سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزارتِ خارجہ سے ڈگریوں کی تصدیق اس لیے ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں جعلی ڈگریوں کے کیسز کافی زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔‘
اُن کے مطابق وزارتِ خارجہ ڈگریوں کی تصدیق کرتے وقت کیو آر کوڈ، سٹیمپ اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے ویریفکیشن کرتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ڈگری مستند ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اسی طرح دیگر دستاویزات کی بھی کراس چیکنگ کی جاتی ہے، جس سے شہریوں کی ڈگری تصدیق شدہ قرار دی جاتی ہے اور وہ اسے بیرون ملک موثر طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔‘

ساجد مجید نے زور دیا کہ ’اس عمل کو صاف اور شفاف بنانے کے لیے نظام کو مزید مضبوط اور آسان بنایا جانا چاہیے۔‘
دو دہائیوں سے زائد تجربہ رکھنے والی تعلیمی ماہر اور افسانہ نگار پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ سحر ملک نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ایچ ای سی سے منظور شدہ یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے اور اسی ادارے سے دوبارہ تصدیق کے بعد فارن آفس سے ڈگری کی تصدیق ایک ایسا مرحلہ ہے جو ان کے نزدیک سمجھ سے بالاتر ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’کوئی طالب علم اگر ایچ ای سی سے منظور شدہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرتا ہے اور کامیابی سے ڈگری حاصل کر لیتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ متعلقہ ڈگری کسی مستند ادارے سے ہی جاری ہوئی ہے۔‘
ڈاکٹر فوزیہ سحر ملک کے مطابق پاکستان میں فارن آفس سے ڈگریوں کی اٹیسٹیشن کے نظام پر نظرثانی ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں صرف ایچ ای سی کی تصدیق کو کافی سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’بہت سے طلبہ فارن آفس کے چکر لگاتے لگاتے ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں حالانکہ ان کی ڈگریوں کی رجسٹریشن اور تصدیق کا عمل ایچ ای سی کے ذریعے پہلے ہی مکمل ہو چکا ہوتا ہے۔‘
اردو نیوز نے ڈگریوں کی تصدیق سے متعلقہ شکایات پر وزارت خارجہ سے بھی مؤقف لینے کی کوشش کی مگر اس خبر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا تھا۔












