Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر آصف زرداری کا یو اے ای کا دورہ، قیادت سے ملاقاتیں کریں گے

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری آج متحدہ عرب امارات کے چار روزہ دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جس میں ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ان کے ہمراہ ہو گا۔
پیر کو وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ دورہ 29 جنوری تک جاری رہے گا۔
بیان کے مطابق دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری متحدہ عرب امارات کی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے جن میں باہمی تعلقات خصوصاً تجارت، اقتصادی شراکت داری اور دفاع و سلامتی کے علاوہ عوامی سطح پر رابطوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
ملاقاتوں کے دوران ہونے والی بات چیت میں علاقائی و بین الاقوامی امور کے تناظر میں باہمی دلچسپی کے امور پر بھی خصوصی طور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے حالیہ دورے کے بعد پاکستان کے صدر کا یو اے ای کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جس سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں مضبوط دوستی کو باہمی مفید شراکت داری میں تبدیل کا عزم بھی ظاہر ہوتا ہے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات ایک دوسرے کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات رکھتے ہیں اور ابوظبی نے مشکل معاشی حالات میں اسلام آباد کی مدد بھی کی ہے، جس میں پاکستان کے مرکزی بینک میں ڈپازٹس بھی شامل تھے، جن کی بدولت ادائیگیوں کے توازن میں پیدا ہونے والے بحران کے دنوں میں اسلام آباد کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں مدد ملی۔
متحدہ عرب امارات چین اور امریکہ کے بعد اسلام آباد کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان کے پالیسی ساز اس کو جغرافیائی قربت کی وجہ سے برآمدات کے حوالے سے ایک بہترین مقام سمجھتے ہیں۔ جہاں تجارتی لین دین میں سہولت رہتی ہے اور نقل و حمل اور بار برداری کے اخراجات بھی کم رہتے ہیں۔
دونوں ملک حالیہ مہینوں کے دوران ایک دوسرے کے مزید قریب آئے ہیں اور اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

 

شیئر: