سائنسی حیرت کدے جیسا احساس اس عمارت میں داخل ہوتے ہی غالب آ جاتا ہے۔ پہلا سوال ذہن میں یہی ابھرتا ہے کہ کیا واقعی آپ پاکستان میں ہیں؟
عمارت کی وسعت، ترتیب اور خاموشی میں چلتی مشینیں ایک الگ ہی دنیا کا تاثر دیتی ہیں۔ ساتھ چلتے ہوئے ڈاکٹر ناصر سے جب یہ سوال کیا گیا کہ یہ دیوہیکل منصوبہ کتنے عرصے میں مکمل ہوا، تو ان کا مختصر جواب تھا: ’تقریباً دس سال لگے ہیں۔‘
یہ پاکستان کی پہلی ڈرگ، فوڈ اور ایگریکلچر ٹیسٹنگ لیب ہے جسے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں صوبائی حکومت نے قائم کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بین الاقوامی معیار کی لیبارٹری ملک کو خوراک، ادویات اور زرعی مصنوعات کے حوالے سے ایک مضبوط حفاظتی حصار فراہم کرتی ہے۔
مزید پڑھیں
-
جدید فرانزک لیب میں چوری، کیا حساس تفتیشی مواد محفوظ ہے؟Node ID: 888723
اس لیبارٹری کی کہانی کی اصل شروعات تاہم ایک بڑے سانحے سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے لیے ہمیں سال 2012 میں جانا پڑے گا جب پنجاب کے سب سے بڑے دل کے ہسپتال، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، سے دوا لینے والے سینکڑوں مریضوں کی حالت اچانک خراب ہونا شروع ہو گئی۔ آئیسو ٹوپ نامی اس دوا کے ایک بیچ میں غیر متعلقہ کیمیائی جُزو شامل ہو گیا تھا جس کے بعد وہ دوا علاج کے بجائے زہر بن گئی۔
دیکھتے ہی دیکھتے پنجاب میں ایک انسانی بحران نے جنم لیا۔ اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف تھے۔ دواساز کمپنی کے مالکان کو گرفتار کیا گیا، درجنوں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں اور صوبے کے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی۔ اسی بحران کے دوران یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ دواؤں کے معیار اور اجزا کو کیمیائی سطح پر جانچنے کے لیے نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں کوئی جامع سہولت موجود نہیں تھی۔
یہی وہ لمحہ تھا جب اس وقت کے وزیراعلیٰ نے ماہرین کی ایک ٹیم طلب کی اور ایک ایسی لیبارٹری کے قیام کا حکم دیا جو بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کر سکے۔ ابتدائی خاکہ واضح ہونے میں کئی سال لگے اور بالآخر 2016 میں شہباز شریف نے ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام پر نیب بلڈنگ اور پنجاب فرانزک سائنس لیب کے درمیان ملک کی پہلی ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کا سنگِ بنیاد رکھا۔ منصوبہ ابتدا میں پانچ سال میں مکمل ہونا تھا تاہم سیاسی اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث اس کی تکمیل میں تقریباً 10 سال لگ گئے۔

یہ لیب ہے کیا؟
یہ سوال جب لیب کے فوڈ ٹیسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر محمد ناصر سے کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس لیب میں ہم کسی بھی خوراک کے اجزا کو کیمیائی سطح پر جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کسی خوراک میں انسانی صحت کے لیے مضر یا موافق عناصر کی نشاندہی ہو، گوشت کے ڈی این اے سے اس کی اصل جانچ ہو یا کسی پراڈکٹ میں شامل اجزا کی تفصیل، ہم منٹوں میں اس کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کوئی بھی دوا، چاہے وہ کسی حکیم کی ہو یا کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی، اب ہم یہ جانچ سکتے ہیں کہ اس کے اندر اصل میں موجود کیا ہے۔‘
ان کے مطابق اب فوڈ اتھارٹی ہو یا ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، کسی بھی قسم کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے پہلے مصنوعات کی عالمی معیار کے مطابق جانچ اسی لیب سے کروائی جائے گی۔ ’زراعت کے شعبے میں بھی اب ہمارے پاس یہ صلاحیت آ گئی ہے کہ زرعی ادویات اور مصنوعات انسانی صحت کے لیے کتنی محفوظ یا مضر ہیں، اس کا درست تعین کیا جا سکے۔ میں اسے گیم چینجر کہوں گا۔ اب پاکستان میں کاروبار کے نئے اصول طے ہوں گے اور انسانی صحت کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ یہی اس لیب کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘
ایکسپورٹ کے میدان میں تبدیلی
اس لیب کا پورا نام پنجاب ایگریکلچر فوڈ ڈرگ اتھارٹی (پی اے ایف ڈی اے) ہے اور یہ تقریباً 14 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے۔ جہاں یہ لیب ملک کے اندر کاروباری ماحول کو بہتر بنائے گی وہیں اس کے اثرات برآمدات پر بھی مرتب ہوں گے۔

اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے لیب کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر طلعت پاشا نے بتایا کہ ’قانون کے تحت ہماری پہلی ذمہ داری شہریوں کی حفاظت ہے۔ ہم خوراک، ادویات اور زراعت کے شعبوں میں معیار کو بطور ریگولیٹر یقینی بنائیں گے۔ اس کے ساتھ ہم نے ایک اضافی ذمہ داری بھی لی ہے اور وہ ہے ایکسپورٹرز کی سہولت۔ اس وقت پاکستان کا ایکسپورٹر اپنی مصنوعات عالمی منڈی میں بھیجنے سے پہلے یورپ، لکسمبرگ یا امریکہ کی لیبارٹریوں سے رپورٹس حاصل کرتا ہے۔ اب وہی رپورٹس ہم یہاں تیار کر سکیں گے۔ اس طرح جو اربوں روپے سالانہ ٹیسٹنگ پر خرچ ہوتے تھے وہ بچ سکیں گے۔ یہ وہی مشینیں ہیں جو یورپ اور امریکہ کی لیبارٹریوں میں استعمال ہو رہی ہیں۔‘
ان کے مطابق تیسری اہم ذمہ داری اس نظام کو پورے ملک میں پھیلانا ہے۔ ’پاکستان کے تمام شہری اس بات کے حقدار ہیں کہ وہ خالص اور محفوظ اشیا استعمال کریں۔ ہم نے جو کچھ دس سال میں سیکھا ہے، اب اسے ملک کے دوسرے حصوں تک لے جانا ہوگا تبھی اس منصوبے کا پورا فائدہ سامنے آئے گا۔‘
ملک بھر سے سائنسدانوں کی شمولیت
لیبارٹری کی تعمیر کے دوران اس میں کام کرنے والے سینکڑوں سائنسدان بھی ملک بھر سے بھرتی کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر ناصر کے مطابق ’ہم نے تقریباً تمام شعبوں میں فریش گریجویٹس لیے، جن میں گولڈ میڈلسٹ اور ذہین ترین طلبہ شامل تھے۔ کشمیر سے کراچی تک سے سائنسدان آئے ہیں، اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ان میں تقریباً 70 فیصد خواتین ہیں۔ میرے خیال میں یہی عنصر اس لیب کی شناخت کو منفرد بناتا ہے۔‘
ان سائنسدانوں کی بھرتی کا عمل ایک سال قبل شروع ہوا۔ ابتدائی طور پر منتخب ہونے والوں کو چھ ماہ کی تربیت دی گئی، جس کے بعد صرف انہی افراد کو مستقل ذمہ داریاں سونپی گئیں جو عملی اور نظری دونوں سطح پر معیار پر پورا اترے۔
لیبارٹری اب مکمل ہو چکی ہے اور اگلے ہفتے وزیراعظم شہباز شریف اس کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔












