Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں برفباری کا سلسلہ جاری، بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

ایران سے آنے والے مغربی ہواؤں کے ایک اور طاقتور سلسلے نے بلوچستان کے راستے پاکستان میں داخل ہو کر ملک کے وسیع حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے باعث بلوچستان سمیت خیبر پختونخوا اور کشمیر کے بالائی اضلاع میں بارشوں اور برفباری کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔
اس نئے سسٹم نے سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جبکہ متعدد علاقوں میں آمدورفت شدید متاثر ہے۔ شدید برفباری کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں ٹریفک کی روانی سست پڑ گئی ہے اور کئی مقامات پر سڑکیں پھسلن کے باعث بند ہونے لگیں۔
بلوچستان کے کئی علاقوں میں بارشوں کے باعث حادثات بھی پیش آئے جن میں ایک شخص ہلاک جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے۔
محکمۂ موسمیات نے بالائی علاقوں میں برفباری کے باعث سڑکیں بند ہونے، پھسلن کے سبب ٹریفک میں رکاوٹ اور لینڈ سلائیڈنگ یا برفانی تودے گرنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے شہریوں اور سیاحوں سے کہا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ایران سے ملحقہ بلوچستان کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں بارش اور شمالی و شمال مشرقی حصوں میں برفباری کا سلسلہ اتوار کی شام شروع ہوا جو وقفے وقفے سے پیر کو بھی جاری رہا۔
گوادر، جیوانی، پسنی، اورماڑہ، تربت، پنجگور، خضدار، چاغی، خاران اور لورالائی میں بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ کوئٹہ، مستونگ، قلات، سوراب، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، قلعہ سیف اللہ، زیارت اور ژوب میں ہلکی برفباری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
محکمۂ موسمیات کوئٹہ کی 24 گھنٹے کی رپورٹ کے مطابق قلات میں تقریباً 5 انچ اور کوئٹہ میں 0.5 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ بارش بھی قلات میں 34 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ زیارت میں 17، دالبندین میں 15، نوشکی میں 9، نوکنڈی میں 8 اور کوئٹہ، سبی اور چمن میں 3 ملی میٹر تک بارش ہوئی ہے۔
زیارت میں منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ قلات میں منفی 5 جبکہ کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔

مری میں برفباری دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں سیاحوں نے رخ کیا (فوٹو: اے ایف پی)

کوئٹہ میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ سڑکوں پر برف جمنے کے باعث گاڑیوں کی آمدروفت متاثر
کوئٹہ میں اتوار کی شب سے وقفے وقفے سے ہونے والی بارش اور ہلکی برفباری کے باعث مختلف علاقوں میں گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق کلی شاہوزئی محمد شہی ٹاؤن میں ایک مکان کی چھت گرنے سے لیاقت علی نامی شخص ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے۔ ضلع  دکی میں بھی مسجد روڈ پر ایک دکان کی چھت گرنے سے دکاندار سمیت چار افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
بلوچستان کے شمالی اور بالائی علاقوں قلعہ عبداللہ، چمن، گلستان، دوبندی، توبہ اچکزئی، توبہ کاکڑی، پشین، خانوزئی قلعہ سیف اللہ، کان مہترزئی، مسلم باغ، مستونگ، دشت، قلات اور ہربوئی میں برفباری نے معمولات زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان میں سے بعض علاقوں میں چار روز قبل بھی ایک فٹ تک برفباری ہوئی تھی جبکہ نئی برفباری نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ کوئٹہ میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کیسکو کے 24 فیڈرز ٹرپ کر گئے جس سے شہر کے ایک بڑے علاقے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہے۔ شہریوں کی جانب سے گیس پریشر میں شدید کمی کی بھی شکایات کی جا رہی ہیں۔
ادھر کوئٹہ کو خیبر پختونخوا سے ملانے والی این-50 شاہراہ پر کان مہترزئی، خانوزئی اور مسلم باغ کے مقامات پر، کوئٹہ سے چمن جانے والی شاہراہ پر کوژک ٹاپ پر اور کوئٹہ کراچی شاہراہ پر لکپاس کے مقام پر برف جمنے کے باعث گاڑیوں کی آمدروفت متاثر ہے۔ کوئٹہ کو سندھ سے ملانے والی شاہراہ پر کولپور اور دشت کے مقامات پر  پھسلن ہو رہی ہے۔

برفباری کے بعد سڑکوں پر پھسلن کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہے (فوٹو: سکرین گریب)

حکام کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں بھاری مشینری کے ذریعے سڑکوں سے برف ہٹانے اور نمک پاشی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ٹریفک کی صورتحال بحال رکھی جا سکے۔ این ایچ اے بلوچستان کے جنرل منیجر آغا عنایت کے مطابق تمام شاہراہیں کھلی ہیں تاہم شدید سردی اور برفباری کے خدشات کے باعث شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
اگلے 12 گھنٹوں میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش کا امکان 
محکمہ موسمیات نے اگلے 12 گھنٹوں کے دوران گوادر، جیوانی، پسنی، کیچ، پنجگور، واشک، خضدار، آواران اور چاغی میں تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے جس سے ندی نالوں میں طغیانی پیدا ہو سکتی ہے۔ کچھی، سبی، ہرنائی، دکی، کوہلو، جھل مگسی اور لورالائی میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان ہے۔
کوئٹہ، زیارت، قلات، چمن، پشین، حرمزئی، خانوزئی، قلعہ سیف اللہ، کان مہترزئی، مسلم باغ، لوئی بند، قلعہ عبداللہ، گلستان اور دوبندی میں منگل تک برفباری جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
بلوچستان کے علاوہ خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، ایبٹ آباد، پشاور، نوشہرہ اور دیگر اضلاع میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری جاری ہے۔ کشمیر کے اضلاع وادی نیلم، باغ، حویلی اور جہلم ویلی میں بھی درمیانی سے شدید برفباری ہو رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی استور اور اسکردو میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔

کوئٹہ کے ایک بڑے علاقے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہے  (فوٹو: سکرین گریب)

اسی طرح آج پیر کو پنجاب میں مری  اور گلیات میں برفباری، جنوبی پنجاب کے علاقوں لیہ، بھکر، میانوالی، سرگودھا، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں بارش جبکہ شام یا رات میں لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور شمالی پنجاب کے دیگر اضلاع میں مزید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
سندھ میں بھی سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو اور شکارپور میں بارش کا امکان ہے۔
منگل کو شمالی مشرقی بلوچستان، بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان اور بالائی پنجاب میں بارش اور برفباری جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔

شیئر: