Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی معاشرے میں خواتین کا نمایاں ہوتا ہوا کردار

رواں سال کے اوائل میں جب شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان کو سعودی حکومت کی طرف سے امریکہ کے لیے سفیر مقرر کیا گیا تو یہ تاریخی دن ناصرف شہزادی ریما بلکہ تمام سعودی خواتین کے لیے خوشی، ولولے اور نئی امید کا دن تھا۔
سعودی عرب اب بدل رہا ہے اور شہزادی ریما کی طرح مملکت کی عام خواتین بھی مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہیں۔
سعودی وژن 2030 میں خواتین کو ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ اس وژن کے تحت ناصرف 30 فیصد خواتین کو لیبر مارکیٹ میں مواقع فراہم کیے جائیں گے بلکہ سیاسی عہدوں پر بھی فائز کیا جائے گا۔
سعودی رکن شوریٰ نورۃ الشعبان  ہم وطن خواتین کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'سعودی عرب نے اصلاحات اور تعمیر و ترقی کا مربوط سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس کا آغاز بانی مملکت شاہ عبدالعزیز نے کیا تھا۔'
اُن کے مطابق سعودی وژن 2030 اور قومی تبدیلی پروگرام 2020 بانی مملکت کی امنگوں کے ترجمان ہیں۔ سعودی وژن اور قومی تبدیلی پروگرام کے تحت خواتین کو لیبر مارکیٹ میں مکمل شراکت، صلاحیتوں کے فروغ، توانائیوں کو بروئے کار لانے اور مستقبل سازی کے حوالے سے کردار ادا کرنے کے لیے مناسب مواقع مل رہے ہیں۔
نورۃ الشعبان مزید کہتی ہیں کہ سعودی خواتین بھی آرزو مند ہیں کہ انہیں سرکاری اور نجی شعبوں میں کلیدی عہدوں پر مواقع فراہم کیے جائیں۔
نورۃ الشعبان نے سعودی خبررسا ں ادارے  (ایس پی اے) سے بات کرتے ہوئے نورۃ الشعبان مزید بتاتی ہیں کہ خواتین کو محکمہ پاسپورٹ، محکمہ جیل خانہ جات، محکمہ ٹریفک اور محکمہ شہری دفاع میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے خصوصی شعبے قائم کئے گئے ہیں۔' 
اس کے علاوہ لیڈیز سپورٹس کلب بھی قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ خواتین کھیلوں کی دنیا میں بھی اپنی صلاحیتیں منوا سکیں جبکہ خواتین کوہ پیمائی اور تیراکی میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔  
سعودی خواتین کن شعبوں میں نام کما رہی ہیں؟
سعودی خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنے آپ کو منوا رہی ہیں۔ مثلاً اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ثریا عبید نامی  سعودی خاتون کو بنایا گیا ہے۔
اسی طرح عالمی ادارہ صحت نے  سمر الحمود کو کینسر پر تحقیقی مقالات کا معیار متعین کرنے والی عالمی کمیٹی کا رکن منتخب کیا ہے۔
ڈاکٹر خولہ الکریع نے پہلے کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال میں کینسر پر ریسرچ کرنے والی ٹیم میں سینئر ریسرچر کے طور پر کام کیا۔ اب وہ  کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال کے ماتحت بچوں کے کینسر پر ریسرچ کرنے والے کنگ فہد سنٹر کی سربراہی کر رہی ہیں۔
صحت کے شعبے میں ایک اہم نام فتون الصایغ کا ہے۔ انہوں نے برطانیہ کی لیور پول یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ یورپی یونین نے انہیں اعزازی رکنیت پیش کی ہے اور اب وہ کنگ فہد ریسرچ سینٹر میں سمندری علوم کے ادارے کی چئیر پرسن ہیں۔
حیاۃ سندی کیمبرج یونیورسٹی سے ڈی این اے ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی عرب خاتون ہیں۔ ان کی متعدد ایجادات بھی دنیا بھر کی توجہ حاصل کر رکھی ہے۔
دوسری طرف سعودی خواتین نے عسکری اور سکیورٹی کے شعبوں میں بھی نام پیدا کیا ہے۔ وزارت دفاع میں خاتون ڈاکٹر می محمد ابو سعود، ہند عبید القثامی اور نورۃ عبدالرحمن النویصر کو 'فیصلہ کن طوفان' اور 'بحالی امید آپریشن' میں موثر کردار ادا کرنے پر تیسرے درجے کے کنگ فہد تمغوں سے نوازا گیا۔
فن و ادب کی دنیا میں دو سعودی خواتین ھیفاء المنصور اور ہند الفھاد کے نام قابل ذکر ہیں۔
تجریدی آرٹ میں ثناء القرعاوی، نبیلہ ابو الجدائل، ناول نگاری، شعر و ادب اور افسانہ نویسی میں امیمہ الخمیساور سارۃ الخثلان سمیت کئی خواتین نے زبردست شہرت حاصل کی ہے۔
انجینیئرنگ کے شعبے میں بھی ریما بنت سلطان بن ربیعان کا نام سرفہرست آتا ہے جنہوں نے میٹرو پروجیکٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
خلائی علوم میں بھی سعودی خواتین آگے آ رہی ہیں۔ ڈاکٹر مشاعل بنت محمد آل سعود نے ریاض میں کنگ عبدالعزیز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماتحت ریموٹ سینس اور خلائی ریسرچ مرکز میں پہلی سعودی خاتون سکالر ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے جبکہ مشاعل الشمیمری نے ایٹمی میزائل کی ڈیزائننگ کرکے نام کمایا ہے۔
اب وہ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائبان تلے خلائی میزائل ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں۔
معیشت کی بات کریں تو ڈاکٹر ایمان المطیری وزیر تجارت و سرمایہ کاری کی معاون کے طور پر  کام کر رہی ہیں، خلود الدخیل سعودی ایوانہائے صنعت و تجارت کونسل میں شماریات کمیٹی کی چیئرپرسن ہیں۔
سارۃ السحیمی تداول کونسل کی چیئرپرسن جبکہ رانیا نشار سامبا گروپ کی ایگزیکٹیو چیئرپرسن ہیں۔
ابلاغ کے شعبے میں بھی خواتین اپنی حیثیت منوا چکی ہیں۔ مثال کے طور پر اردن میں عرب صحافی خواتین کی پندھرویں کانفرنس اور تیونس میں عرب خبر رساں اداروں کے دوسرے سیمینار میں مملکت کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین سائنسی اور ثقافتی کانفرنسوں کی ابلاغی کمیٹیوں اور نیوز ویب سائٹس کی سربراہی بھی کر رہی ہیں۔
 

شیئر: