ترکش ایئرلائنز کے طیارے میں نیپال ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران آگ لگ گئی
ترکش ایئرلائنز کا ایک طیارہ، جس میں 277 مسافر اور 11 عملے کے ارکان سوار تھے، پیر کے روز کٹھمنڈو ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران آگ کی لپیٹ میں آ گیا، تاہم اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیپال کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان گیانندرا بھول نے کہا ہے کہ یہ پرواز استنبول سے روانہ ہوئی تھی اور لینڈنگ گیئر کے دائیں حصے میں چنگاری پیدا ہونے کے باعث آگ لگی۔
انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’طیارے میں سوار تمام افراد محفوظ ہیں، ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور اب ہم حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘
گیانندرا بھول کے مطابق اس واقعے کے باعث ایئرپورٹ کے واحد رن وے کو تقریباً دو گھنٹے کے لیے بند کرنا پڑا، تاہم بعد میں اسے دوبارہ کھول دیا گیا۔
ہمالیائی ملک نیپال دنیا کے ان چند علاقوں میں شامل ہے جہاں انتہائی دشوار گزار ایئرپورٹس موجود ہیں، جو برف پوش پہاڑوں اور پیچیدہ جغرافیائی خطوں میں واقع ہیں، اور یہ تجربہ کار پائلٹس کے لیے بھی چیلنج ہوتے ہیں۔
گزشتہ برس نیپال کی متعدد فضائی حادثات اور یورپی یونین کی جانب سے نیپالی ایئرلائنز پر پابندی کے بعد حکومت نے نئے ریڈار اور موسمیاتی نظام نصب کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
2015 میں بھی ترکش ایئرلائنز کا ایک طیارہ، جس میں 224 مسافر سوار تھے، کٹھمنڈو کے رن وے سے پھسل گیا تھا۔ اس حادثے میں مسافر محفوظ رہے تھے، تاہم رن وے چار دن کے لیے بند کرنا پڑا اور متعدد بین الاقوامی پروازیں منسوخ ہو گئی تھیں۔
